لاہور (نمائندہ خصوصی) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ اپوزیشن کے وفد نے بہت شاندار طریقے سے مذاکرات کیے، مذاکرات میں جو زیادہ سے زیادہ چیزیں ہم حاصل کرسکتے تھے اور جو وہ حاصل کرسکتے تھے، وہ طے ہوگئی تھیں اور معاہدہ بھی تیار ہوگیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ معاہدہ تیار ہونے کے بعد اس کی کاپی لے کر صدر کے پاس گیا، میں نے درخواست کی تھی کہ خیبر پختونخوا حکومت کو لازمی مذاکرات میں شامل کرلیا جائے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست نہیں کی تھی، پیپلز پارٹی نے لانگ مارچ ملتوی کرنے کا ضرور کہا تھا۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ہم نے انہیں کہا کہ اگر فیصلے سہیل آفریدی نے کرنے تھے تو وہ خود مذاکرات میں آجاتے، سہیل آفریدی نے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ خیبر پختونخوا حکومت مذاکرات کو ویٹو کردے گی تو ہم مذاکرات ہی نہ کرتے۔
انہوں نے کہا کہ دھرنے کے لیے اکٹھے ہونے والوں کا مکمل ٹرائل کیا جائے گا، ہم نے واضح کردیا ہے کہ اسلام آباد پر چڑھائی کی اجازت نہیں دیں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ میں اپنے بیان پر آج بھی قائم ہوں، صدر اور وزیراعظم کو ہر چیز سے آگاہ کر رہا ہوں، صدر اور وزیراعظم نے مذاکرات سے متعلق کہا تھا کہ مذاکرات کامیاب کریں، یہ صورت حال جس طرف بھی جائے گی، صدر اور وزیراعظم کو آگاہ کرتے رہیں گے، وہ دونوں بڑے ہیں اور وہی فیصلہ کریں گے۔

