”ثالث “ ضرور بنیں ، مگر قومی مفاد کیلئے!

ویسے تو جنگیں کسی بھی ملک کیلئے کبھی منافع کا سودا نہیں رہیں،اس میں ہر فریق کیلئےنقصان ہی نقصان ہوتا ہے،،، مگر ان میں کچھ ایسے حلقے بھی ہوتے ہیں جن کے وارے نیارے بھی ہو جاتے ہیں،،، جیسے اسلحہ ساز کمپنیاں اور ”ثالث“۔ اسلحہ ساز کمپنیوں کو نئے آرڈر مل جاتے ہیں اور جنگ ختم کروانے میں کردار کرنے والوں کو بڑا نام اور ساتھ کچھ کاروباری فوائد مل جاتے ہیں،،، اس ایران اسرائیل و امریکا جنگ میں بھی بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کو بڑے بڑے آرڈر مل رہے ہیں جبکہ سنا ہے پاکستان کو بھی اس صلح میں کلیدی کردار ملنے والا ہے،،، اور چونکہ فی الوقت تو پاکستان اس وقت امریکا و ایران کے درمیان ”پیغام رسانی“ کا کام کر رہاہے، لیکن بقول جرمن وزیر خارجہ کے ،،، عنقریب ایران اور امریکا کے نمائندگان پاکستان میں مذاکرات کیلئےموجودہ ہوں گے،،، جبکہ امریکی اخبارات و میڈیا بھی کچھ ایسی ہی خبریں پیش کر رہا ہے،،، کہ جلد ہی کوئی معاہدہ ہونے والا ہے، جس میں پاکستان اپنا بنیادی کردار ادا کر رہا ہے،،، تاکہ کسی حل کی طرف جایا جائے،،،

لہٰذااگر ایسا ہے تو میرے خیال میں یہ ہمارے لیے بہترین موقع بھی ہے،،، اور امتحان بھی۔ کیوں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اکثر اہم مواقع پر قومی مفاد کے بجائے ذاتی یا وقتی مفادات کو ترجیح دی گئی۔ سرد جنگ کے دور سے لے کر دہشت گردی کیخلاف جنگ تک، پاکستان نے بارہا عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر اہم کردار ادا کیا، مگر ان کے نتائج زیادہ تر پاکستان کیلئےنقصان دہ ثابت ہوئے۔ حکمرانوں نے وقتی فائدے حاصل کیے لیکن قوم کو طویل المدتی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

آج جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے، پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ وہ ثالثی کا کردار ادا کرے، مگر اس بار مختلف انداز میں۔ یہ ثالثی صرف امن کے قیام کیلئے نہیں بلکہ پاکستان کے اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے بھی ہونی چاہیے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ عالمی سیاست میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے، بلکہ صرف مفادات ہوتے ہیں۔ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے، جس کے ساتھ مذہبی، ثقافتی اور جغرافیائی تعلقات ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل ایک عالمی طاقت کے زیرِ اثر ملک ہے، جس کے ساتھ تعلقات کا معاملہ انتہائی حساس ہے۔ ایسے میں پاکستان کیلئے توازن برقرار رکھنا ایک مشکل مگر ضروری کام ہے۔ اگر پاکستان ثالثی کرتا ہے تو اسے نہ صرف اپنی غیر جانبداری ثابت کرنا ہوگی بلکہ اپنی خودمختاری کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ماضی میں جب بھی پاکستان نے عالمی تنازعات میں کردار ادا کیا، اکثر اس کے پیچھے عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ، کا دباؤ یا اثر و رسوخ موجود رہا۔ اس کے نتیجے میں فیصلے ایسے کیے گئے جو وقتی طور پر فائدہ مند نظر آئے، مگر طویل مدت میں نقصان دہ ثابت ہوئے۔ مثال کے طور پر دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نے جو قیمت چکائی، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں، معیشت کو شدید نقصان پہنچا اور معاشرتی عدم استحکام میں اضافہ ہوا۔

یعنی تاریخ گواہ ہے کہ ہمارا جب جب امریکا سے یارانہ رہا ہے اُس نے کچھ بڑا ہی کام ہم سے لیا ہے،،،جیسے حال ہی میں تحریک انصاف کے دور میں امریکا نے افغانستان سے نکلنا تھا تو اُس وقت بھی پاکستان کی مدد کے بغیر امریکا کیلئےیہاں سے نکلنا ناممکن تھا۔ پھر آپ ماضی میں چلے جائیں،،، پہلے فیلڈ مارشل یعنی ایوب خان جب دورے پہ گئے تھے تو مسز جیکولین کینیڈی کے ساتھ گھڑ سواری کی تصویریں ہمیں یاد ہیں۔ دوسری بار امریکہ گئے تو صدر لنڈن جانسن کے گالوں کو اپنی انگلیوں میں لیا۔ یحییٰ خان نے تو امریکہ اور چین کے درمیان پل کا کردار ادا کیا۔ اس لامحالہ کردار کے بارے میں تو کچھ نہ پوچھیں اُس وقت پاکستان نے امریکا اور چین کے تعلقات بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا مگر بدلے میں پاکستانی حکمران ذاتی مفادات کے بجائے امریکا سے کچھ حاصل نہ کر سکے۔ جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ اُس وقت پاکستان کے صدر یحییٰ خان تھے اور امریکی صدرنکسن تھے۔ جبکہ امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر تھے۔ ہنری کسنجر خود کہتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے گھبرا رہے تھے کہ اب پاکستان نہ جانے اس کے بدلے اُن سے کیا ڈیمانڈ کریگا، مگر پاکستانی سیاستدانوں اور فیصلہ کرنے والوں نے ماسوائے ذاتی مفادات کے اس قوم کیلئےکچھ حاصل نہ کیا! بقول شاعر
رسوا ہوئے ذلیل ہوئے در بدر ہوئے
حق بات لب پہ آئی تو ہم بے ہنر ہوئے
چلیں آپ صدر یحییٰ کو چھوڑیں،،، جنرل ضیاءالحق پر آجائیں کہ جب انہوں نے مارشل لاءلگایا تو عین اُس وقت یا اُس کے چند ماہ بعد روس کیخلاف جنگ میں ہم نے امریکا کے کہنے پر جہادی تیار کیے ،،،کیا اس بات میں سچائی نہیں کہ اُس کے اثرات آج بھی پاکستان بھگت رہا ہے؟ اُس وقت امریکا نے ایک ڈکٹیٹر کا جس طرح استقبال کیا تھا،،، کیا وہ اس قوم کو یاد نہیں؟ حالانکہ یہ وہ ڈکٹیٹر تھا جو تازہ تازہ بھٹو کو پھانسی دے کر امریکا کے دورے پر گیا تھا،،، لیکن آپ کے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں جب آپ سے کوئی مفاد جڑا ہو…. چلیں آپ جنرل ضیاءکو بھی چھوڑ دیں،،، کیا جنرل پرویز مشرف کا امریکا کے ساتھ رومانس کسی سے ڈھکا چھپا ہے؟ موصوف امریکا ہی سے ”سب سے پہلے پاکستان“ کا نعرہ لے کر آئے اور طالبان کیخلاف جنگ کا آغاز ہوا۔ ہم نے ہوائی اڈے دیے،،، ہم نے امریکی فوج کو Facilitateکیا اور سب سے بڑھ کر ہم نے بندے پکڑ پکڑ کرامریکا کو دیے ۔بدلے میں پاکستان کو تو کچھ نہ ملا بلکہ مشرف کو اقتدار کی طوالت ملی اور پاکستان کے عوام کے حصے میں دہشت گردی جیسی لعنت آئی،،، بلکہ طالبان نے پاکستان کیخلاف اعلان جنگ کر دیا تو امریکا ہماری مدد کو بھی نہ پہنچا،،بلکہ ہمارے ایک لاکھ شہری، و سکیورٹی افسران و اہلکار شہید ہوگئے ،،، اور بدلے میں ٹرمپ کے پچھلے دور میں ہمیں یہ طعنہ دیا گیا کہ پاکستان ڈالر کے بدلے ڈبل گیم کرتا رہا!

بہرحال ہمارے حکمرانوں کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنا دور حکمرانی بڑھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں، اُن کو ملک سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی،،، حالانکہ مصر کی مثال ہمارے سامنے ہے، جس نے امریکا کا اتحادی بننے کے عوض امریکا اور مغربی ممالک کے اربوں ڈالر کے قرض معاف کروائے یا کم کروائے،،، بلکہ وہ ابھی تک ”کیمپ ڈیوڈ معاہدے“ کے تحت سالانہ اربوں ڈالر کے فوائد لے رہا ہے،،، یعنی ہر ملک کو اپنے مفاد عزیز ہوتے ہیں لیکن ہم اس میں ناکام رہتے ہیں،،، اور اس وقت بھی بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان اس وقت قومی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرے گا،،، مگر حقیقت اس سے مختلف لگ رہی ہے، کیوں کہ بادی النظر میں ہمارے حکمرانوں کو امریکا، کسی تیسرے ملک کے ذریعے عمران خان ”کارڈ“ کھیل کر بلیک میل کر رہا ہے،،، اور اپنے فیصلے منوا رہا ہے، اور ہمارے حکمران بھی بھیڑ چال چلتے ہوئے اُن کی ہر چیز کو قبول کیے جا رہے ہیں،،، نہیں یقین تو آپ خود دیکھ لیں، کہ جب ٹرمپ اقتدار میں آیا تو سب کے ذہن میں یہی تھا کہ وہ ایک فون کال کریگااور عمران خان جیل سے باہر ہوگا،،، تو اسی اثناءمیں ہمارے سیاستدانوں نے ٹرمپ کیخلاف اپنے پرانے ٹویٹس کو ڈیلیٹ کرنا شروع کردیا، ،، اور پھر انہوں نے پیشگی اقدامات کے ذریعے اپنے آپ کو صدر ٹرمپ کے سامنے پیش کر دیا اور اب وہ اسی چیز کو بنیا دبنا کر ہمارے حکمرانوں کو نہ صرف بلیک میل کرتا ہے بلکہ ساتھ میں من پسند فیصلے کرواکر وہ کبھی پاکستان کو غزہ امن بورڈ میں اسرائیل کے ساتھ بیٹھنے پر مجبور کرتا ہے تو کبھی انہیں طالبان کیخلاف استعمال کرتا ہے،،، اور اب بھی اگر ایسا ہوا تو خدشہ ہے کہ پاکستان ایران کیخلاف استعمال نہ ہوجائے،،،

لہٰذامیرے خیال میں ہمارے حکمرانوں کو بانی تحریک انصاف کے حوالے سے بلیک میلنگ کا حصہ بننے کے بجائے اپنے ملک کے مفاد کے لیے فیصلے کرنے چاہیے،،، بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ ہمارے سیاستدان اس حوالے سے جگ ہنسائی کا باعث بنے ہی ناں ،،، اگر یہ خان کو جیل میں بنیادی انسانی حقوق دے دیں تو کیا قباحت ہے؟ یا یہ اگر ملاقاتوں کی اجازت دے دیں تو اُس سے کیا ہی ہو جائیگا،،، مسئلہ یہ ہے کہ آپ بلیک ہو کیوں رہے ہیں؟ ظاہر ہے اگر آپ زیادتی کرینگے کسی کو اُس کے حقوق نہیں دینگے،،، تحریک انصاف کے سیاسی کارکنوں کی بلاوجہ پکڑ دھکڑ کرینگے ،،، یا الیکشن میں دھاندلی کرینگےتو کیا یہ باتیں چھپ سکتی ہیں؟ لہٰذاآپ ان چیزوں کو چھپانے اور پردہ پوشی کرنے کیلئے آپ کو بلیک میل بھی ہونا پڑیگااور پھر لوگوں کی باتیں ماننا بھی پڑینگی،،،

بہرکیف یہ ملک کو اُٹھانے اور گرانے کا وقت ہے، یا تو آپکے فیصلوں سے ملک کھڑا ہوجائیگا، یااگر آپ نے اپنے ذاتی مفاد کیلئےفیصلے کیے تو یہ مزید پیچھے چلا جائیگا، کیوں کہ اس وقت دنیا کو آپ کی ضرورت ہے،،، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو ازسرِ نو ترتیب دے۔ ایران اسرائیل کشیدگی میں ثالثی کا کردار ادا کرنا ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے، لیکن اس کیلئےچند اصولوں پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔سب سے پہلے، پاکستان کو اپنی پالیسی مکمل طور پر خودمختار بنانی ہوگی۔ کسی بھی بیرونی دباؤ یا لالچ کو مسترد کرنا ہوگا۔ اگر ثالثی کی جائے تو وہ پاکستان کے اپنے مفادات اور خطے کے امن کیلئےہونی چاہیے، نہ کہ کسی اور ملک کے ایجنڈے کے تحت۔دوسرا، شفافیت کو یقینی بنانا ہوگا۔ ماضی میں کئی فیصلے خفیہ معاہدوں کے تحت کیے گئے، جن کے نتائج بعد میں قوم کے سامنے آئے۔ اس بار عوام کو اعتماد میں لینا ضروری ہے تاکہ قومی یکجہتی برقرار رہے۔تیسرا، اقتصادی مفاد کو ترجیح دی جائے۔ پاکستان اس وقت معاشی مشکلات کا شکار ہے اور کسی بھی بڑے فیصلے کا اثر معیشت پر پڑتا ہے۔ اگر ثالثی کے نتیجے میں پاکستان کو اقتصادی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں، جیسے تجارت میں اضافہ، توانائی کے منصوبے یا سرمایہ کاری، تو اسے ترجیح دی جانی چاہیے۔چوتھا، داخلی استحکام کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ پاکستان کے اندرونی مسائل، جیسے سیاسی عدم استحکام، مہنگائی اور سیکیورٹی چیلنجز، پہلے ہی سنگین ہیں۔ کسی بھی بین الاقوامی کردار کے نتیجے میں اگر یہ مسائل مزید بڑھتے ہیں تو یہ ایک نقصان دہ قدم ہوگا۔اسلئے اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھ کر اگر اقدامات کیے جائیں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ پاکستان کیلئےیہ چیزیں دیرپا کارگر ثابت ہوں!