برلن(غیر ملکی میڈیا)جرمنی میں تقریباً 25 سال پرانے ایک قتل کیس میں پیش رفت سامنے آئی ہے، جس میں اپنی ہی بیٹی کے قتل کے الزام میں ایک پاکستانی نژاد شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا اور انٹرپول کے مطابق یہ کارروائی 12 مئی 2026 کو جرمن ریاست ہیسے کی کرمنل پولیس نے فرینکفرٹ کے پراسیکیوٹر آفس کی ہدایت پر کی، اور ملزم کو حراست میں لے کر تفتیش کیلئے پیشی سے قبل قید میں رکھا گیا ہے۔
مقامی حکام کے مطابق گرفتار شخص 67 سالہ جرمن شہری ہے اور وہ مقتولہ کا والد ہے، جس پر اپنی بیٹی کے قتل کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔یہ کیس انٹرپول کی “آئیڈینٹی فائی می” مہم کا حصہ تھا، جس کے تحت یورپ کے مختلف ممالک میں ملنے والی نامعلوم لاشوں کی شناخت اور پرانے حل نہ ہونیوالے مقدمات کو دوبارہ کھولا جا رہا ہے۔
لڑکی کی لاش 31 جولائی 2001 کو دریائے مائن سے ملی تھی، جس کی شناخت بعد میں “ڈیانا ایس” کے نام سے ہوئی۔ تحقیقات میں سامنے آیا کہ اسےتشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اس کی عمر موت کے وقت 16 سال تھی۔
طویل عرصے تک کیس حل نہ ہو سکا، تاہم 2024 میں اس کیس کو عوامی اپیل کے ذریعے دوبارہ کھولا گیا، جس کے بعد موصول ہونیوالی معلومات کی بنیاد پر تحقیقات میں پیش رفت ہوئی اور بالآخر گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

