جناح کیپ: ایک علامت بننے کی داستان

پاکستان جب اپنا 79واں یومِ آزادی منا رہا ہے تو ذہن اُن رہنماؤں کی طرف جاتا ہے جن کی بصیرت، قربانی اور عزم نے اس ملک کا قیام ممکن بنایا۔ قائداعظم محمد علی جناح کی سیاسی کامیابیوں اور آئینی جدوجہد پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، تاہم عوامی شخصیت کے پسِ پردہ موجود انسان سے ہم نسبتاً کم واقف ہیں۔

قائداعظم کی نجی شخصیت کی ایک دل کش تصویر سیدہ قاضی عیسیٰ کے اُس مضمون میں ملتی ہے جو 25 دسمبر 1987 کو روزنامہ ڈان میں شائع ہوا تھا۔ ’’جناح کیپ کی نام گذاری: ایک گھریلو مہمان کی چند جھلکیاں‘‘ کے عنوان سے لکھے گئے اس مضمون میں انہوں نے قائداعظم کے اپنے خاندان کے ہاں قیام سے وابستہ کئی ذاتی یادیں محفوظ کی ہیں۔ انہی یادوں میں یہ اہم واقعہ بھی شامل ہے کہ قراقلی ٹوپی کس طرح ’’جناح کیپ‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔

سیدہ قاضی عیسیٰ، بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ کے ممتاز رہنما اور قائداعظم کے قابلِ اعتماد رفیق قاضی محمد عیسیٰ کی اہلیہ تھیں۔ وہ پاکستان کے سابق چیف جسٹس، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی والدہ بھی تھیں۔ اپنی یادوں اور اپنے شوہر سے سنے ہوئے واقعات کی روشنی میں انہوں نے پاکستان کے بانی کی شخصیت کا ایک ایسا نادر رخ پیش کیا جو عوامی اجتماعات، سیاسی مذاکرات اور آئینی مباحث سے یکسر مختلف تھا۔

ان یادوں میں اُس ٹوپی کی کہانی بھی شامل ہے جو آگے چل کر قائداعظم کی شخصیت سے گہری وابستگی اختیار کر گئی۔

کوئٹہ کے ایک دورے کے دوران قائداعظم نے قاضی محمد عیسیٰ کے سر پر سجی سیاہ قراقلی ٹوپی کو پسند کیا اور اپنے لیے بھی ایسی ہی ٹوپی خریدنے کی خواہش ظاہر کی۔ قاضی محمد عیسیٰ انہیں کوئٹہ کے قندھاری بازار میں ایواز علی کی دکان پر لے گئے، جو کھالوں اور قراقلی ٹوپیوں کے ایک معروف اور معزز تاجر تھے۔

قائداعظم نے کئی ٹوپیاں دیکھیں اور قاضی محمد عیسیٰ سے دریافت کیا کہ عمدہ قراقلی کھال کی پہچان کیا ہے۔ معیار کے بارے میں پوری طرح مطمئن ہونے کے بعد ہی انہوں نے ایک ٹوپی منتخب کی۔

جب قائداعظم نے قیمت پوچھی تو ایواز علی نے رقم لینے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے معزز مہمان اور عظیم رہنما کو یہ ٹوپی بطور تحفہ پیش کرنا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہوگا۔

قائداعظم نے نہایت شائستگی سے یہ پیش کش قبول کرنے سے معذرت کر لی۔

ان کا اصول تھا کہ دیانت داری سے کیے گئے کام کا مناسب معاوضہ ضرور ادا ہونا چاہیے۔ انہوں نے اپنی چیک بک نکالی اور ٹوپی کی قیمت ادا کرنے پر اصرار کیا۔ سیدہ قاضی عیسیٰ کے بیان کے مطابق، ان کے شوہر نے ٹوپی کی قیمت تقریباً 150 روپے بتائی، لیکن قائداعظم نے 200 روپے کا چیک لکھ دیا۔

ایواز علی اس طرزِ عمل سے بے حد متاثر ہوئے۔ انہوں نے چیک قبول تو کر لیا، مگر پھر اسے واپس کرتے ہوئے درخواست کی کہ یہ رقم مسلم لیگ فنڈ کے لیے ان کی جانب سے عطیہ تصور کی جائے۔

اس مختصر سے واقعے میں تینوں کرداروں کی شخصیت پوری طرح نمایاں ہو گئی: دکان دار نے اپنی سخاوت کی لاج رکھی، قائداعظم نے محنت کے منصفانہ معاوضے کے اصول کی پاسداری کی، اور سیاسی تحریک کو ایک رضاکارانہ عطیہ مل گیا۔

دکان سے باہر نکلتے ہوئے قاضی محمد عیسیٰ نے کہا کہ جس طرح ہندوستان میں ’’گاندھی کیپ‘‘ ہے، اسی طرح آج کے بعد اس سیاہ قراقلی ٹوپی کو ’’جناح کیپ‘‘ کہا جانا چاہیے۔ آنے والے برسوں میں یہ نام قائداعظم سے مستقل طور پر وابستہ ہو گیا اور قراقلی ٹوپی ان کی عوامی شناخت کی نمایاں ترین علامتوں میں شمار ہونے لگی۔

تاہم، سیدہ قاضی عیسیٰ کی یادداشتیں محض ایک مشہور ٹوپی کے نام کی ابتدا ہی بیان نہیں کرتیں؛ وہ قائداعظم کی شخصیت کے کئی اور دل نشیں پہلو بھی سامنے لاتی ہیں۔

وہ قائداعظم کو باغ میں چہل قدمی کرتے اور مالی سے پھولوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے یاد کرتی ہیں۔ جب مالی کو ان کی بات سمجھنے میں دشواری ہوئی تو قاضی محمد عیسیٰ نے ترجمانی کی۔ قائداعظم سمجھا رہے تھے کہ ڈاہلیا کے پودے فلوکس کے پیچھے اور کینڈی ٹفٹ کے پودے سامنے لگائے جائیں۔

یہ ایک ایسے شخص کی شخصیت کی غیر متوقع جھلک ہے جسے بالعموم سیاست اور آئینی جدوجہد کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہاں قائداعظم باغ کی آرائش اور پھولوں کی ترتیب میں دل چسپی لیتے دکھائی دیتے ہیں، جس سے خوب صورتی، نظم اور باریک بینی کے لیے ان کی قدر شناسی کا اظہار ہوتا ہے۔

سیدہ قاضی عیسیٰ اُن شاموں کا ذکر بھی کرتی ہیں جب قائداعظم، قاضی محمد عیسیٰ کے ساتھ گاڑی میں سیر کے لیے نکلتے تھے۔ قائداعظم کی خواہش ہوتی کہ گاڑی قاضی محمد عیسیٰ چلائیں اور ان دونوں کے سوا کوئی تیسرا شخص موجود نہ ہو۔ ان پُرسکون لمحات میں وہ مسلم لیگ کے مستقبل پر تبادلۂ خیال کرتے۔ یہ نجی گفتگو ایک طرف قائداعظم کے کندھوں پر موجود بھاری ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے تو دوسری طرف اُس گہرے اعتماد کی نشان دہی کرتی ہے جو وہ اپنے رفیق پر کرتے تھے۔

سیاست سے ہٹ کر قائداعظم شگفتہ مگر شائستہ حسِ مزاح بھی رکھتے تھے۔ رات کے کھانے کے بعد وہ قدرے بے تکلف ہو جاتے، سادہ سے لطیفے سناتے اور سامعین سے پوچھتے کہ کہیں وہ یہ لطیفہ پہلے تو نہیں سن چکے۔

ان یادوں میں ان کی بے داغ وضع قطع بھی محض خوش لباسی نہیں بلکہ ان کے نظم و ضبط کا عکس بن کر سامنے آتی ہے۔ خواہ وہ نفاست سے سلا ہوا سوٹ پہنے ہوں یا ریشمی پاجامے کے ساتھ ڈریسنگ گاؤن، ان کے انداز میں ہمیشہ وہی سلیقہ، وقار اور باریک بینی نمایاں رہتی تھی۔

ان تمام واقعات کو یکجا دیکھا جائے تو قائداعظم کی عوامی اور نجی زندگی میں ایک حیرت انگیز ہم آہنگی دکھائی دیتی ہے۔ جو رہنما قومی زندگی میں آئینی اصولوں کی پاسداری پر اصرار کرتا تھا، وہی اس بات پر بھی مصر تھا کہ ایک دکان دار کو اس کی محنت کا پورا معاوضہ دیا جائے۔ ایک قوم کے مستقبل کی فکر میں مصروف مدبر ایک مالی کے پھولوں میں دل چسپی بھی لے سکتا تھا، کسی دوست کے ساتھ شام کی سیر سے لطف اندوز بھی ہو سکتا تھا اور رات کے کھانے کے بعد ایک سادہ سا لطیفہ بھی سنا سکتا تھا۔

یہی پہلو جناح کیپ کی کہانی کو دائمی اہمیت عطا کرتا ہے۔ اس کی معنویت صرف یہ بتانے تک محدود نہیں کہ ایک ٹوپی کو مشہور نام کیسے ملا، بلکہ یہ اُس انسان کی شخصیت کی جھلک بھی دکھاتی ہے جو آگے چل کر اس ٹوپی کی پہچان بن گیا۔

قائداعظم نے کبھی شعوری طور پر اپنی کوئی شخصی علامت تخلیق کرنے کی کوشش نہیں کی۔ یہ نسبت خود ان کے گرد وجود میں آئی اور ان کے کردار، نظم و ضبط اور وقار نے اسے مضبوط تر کر دیا—وہ اوصاف جنہیں انہیں قریب سے جاننے والوں نے ہمیشہ یاد رکھا۔

پاکستان جب ایک اور یومِ آزادی منا رہا ہے تو ایسی کم معروف ذاتی حکایات کو بھی عظیم سیاسی سنگِ میلوں کے ساتھ جگہ ملنی چاہیے۔ تاریخی تقاریر، آئینی کامیابیاں اور سیاسی تحریکیں ہمیں بتاتی ہیں کہ قومیں کیسے وجود میں آتی ہیں؛ ذاتی یادیں ہمیں اُن انسانوں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں جو قوموں کی تشکیل کرتے ہیں۔

سیدہ قاضی عیسیٰ کی محفوظ کردہ یہ کہانی بھی یہی کام کرتی ہے۔ ایک مدبر اور قومی رہنما کی شخصیت کے پسِ پردہ یہ ایسے انسان کو سامنے لاتی ہے جو انصاف، دوستی، خوب صورتی اور اصول پسندی کو اہمیت دیتا تھا۔ ساتھ ہی، یہ سمجھنے میں بھی مدد دیتی ہے کہ ایک عام سی قراقلی ٹوپی کس طرح ہمیشہ کے لیے ’’جناح کیپ‘‘ کے نام سے یاد کی جانے لگی۔