ثالثوں کے ذریعے امریکا کو دی گئی شرائط تسلیم کرنا ہوں گی:محسن رضائی

تہران (رائٹرز، ایرانی میڈیا) ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ امریکا کو ثالثوں کے ذریعے امریکی انتظامیہ تک پہنچائی گئی ایرانی شرائط تسلیم کرنا ہوں گی، بصورتِ دیگر آبنائے ہرمز کھولنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

محسن رضائی نے کہا کہ امریکا کو جنگ ختم کرنا ہوگی اور بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنا ہوں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خطے میں جاری جنگ کا بھی خاتمہ کیا جائے، جس میں غزہ اور لبنان کی جنگیں شامل ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف امریکی جنگ پورے خطے کے لیے خطرہ ہے اور تہران اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ امریکی شرائط میں تبدیلی اور ایران کے مطالبات تسلیم کیے جانے تک آبنائے ہرمز بند رہے گی۔ رائٹرز کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کو امریکا کی جانب سے جنگ ختم کرنے اور ایرانی منجمد اثاثے جاری کرنے سمیت دیگر شرائط سے مشروط کردیا ہے۔

ایرانی حکام کے اس اعلان کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت کے امکانات پر بھی سوالات اٹھ گئے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی توانائی اور تیل کی ترسیل پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل کی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے اور موجودہ بحران کے باعث تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔