واشنگٹن (رائٹرز، اے پی) روس نے سابق امریکی میرین رابرٹ گلمین کو چار سال سے زائد عرصے تک حراست میں رکھنے کے بعد رہا کردیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ گلمین کی رہائی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ہونے والی ان کی گفتگو کا نتیجہ ہے اور روس نے اس کے بدلے کسی قیدی کی رہائی یا تبادلے کا مطالبہ نہیں کیا۔
رائٹرز کے مطابق 32 سالہ رابرٹ گلمین جنوری 2022 سے روسی حراست میں تھے اور ان کی صحت جیل میں مسلسل خراب ہوتی گئی۔ حالیہ عرصے میں ان کی حالت اس قدر تشویشناک ہوگئی تھی کہ انہیں جیل سے نکال کر ایک شہری اسپتال منتقل کیا گیا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے گلمین کی رہائی پر روسی صدر پیوٹن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ انسانی بنیادوں پر کیا گیا اور اس کے بدلے کوئی قیدی نہیں مانگا گیا۔رہائی کے بعد گلمین کو امریکا واپس لایا گیا، جہاں انہیں طبی معائنے اور علاج کیلئےٹیکساس کے ایک فوجی اسپتال منتقل کیا جائیگا۔
رپورٹس کے مطابق گلمین کو 2022ء میں روس میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ ماسکو میں ایک ٹرین کے واقعے کے بعد پولیس کی تحویل میں گئے۔ ان پر پولیس اہلکار کو لات مارنے کا الزام عائد کیا گیا اور انہیں ساڑھے چار سال قید کی سزا سنائی گئی۔
بعد ازاں جیل میں پیش آنے والے واقعات کے باعث ان کے خلاف مزید مقدمات قائم کیے گئے اور ان کی سزا میں اضافہ ہوتا گیا، یہاں تک کہ انہیں مجموعی طور پر 10 سال قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑا۔ گلمین کے اہل خانہ اور امریکی حکام نے روس میں ان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک اور مقدمات پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی گلمین کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے روس میں زیر حراست دیگر امریکی شہریوں کی رہائی پر زور دیا ہے۔

