2 خواتین کی اکٹھے موت پولیس کیلئے بھی معمہ ہے:سی سی پی او لاہور

لاہور (نمائندہ خصوصی) سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے کہا ہے کہ پولیس بھی اس سوال کا جواب تلاش کر رہی ہے کہ دو خواتین کی یکے بعد دیگرے موت کیسے ہوئی؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تشدد ثابت نہیں ہوا، فرانزک رپورٹ سامنے آنے کے بعد موت کی اصل وجہ واضح ہوگی۔

سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران اور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 4 اگست کو تھانہ ٹاؤن شپ میں دو خواتین کی اچانک اور یکے بعد دیگرے ہلاکت پولیس کیلئے بھی معمہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 4 اگست کو 2 بج کر 52 منٹ پر پولیس کو نوسربازی کی اطلاع ملی، جس کے بعد 3 بج کر 11 منٹ پر پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ عوام نے دونوں خواتین کو پولیس کے حوالے کیا، جس کے بعد پولیس انہیں 3 بج کر 26 منٹ پر تھانے لے کر پہنچی۔

سی سی پی او کے مطابق 4 بج کر 39 منٹ پر مدعی نے درخواست دی اور 4 بج کر 50 منٹ پر مقدمہ درج کرلیا گیا۔ 5 بج کر 20 منٹ پر خواتین کو تفتیشی ٹیم کے حوالے کیا گیا، جبکہ 5 بج کر 45 منٹ پر وقفے وقفے سے ان کی طبیعت خراب ہونا شروع ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں خواتین کو شام 7 بجے جناح اسپتال پہنچایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔ شناختی کارڈ موجود نہ ہونے کے باعث پوسٹ مارٹم میں تاخیر ہوئی۔

بلال صدیق کمیانہ کا کہنا تھا کہ مختلف مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے اور کسی مقام پر خواتین پر تشدد کے شواہد نہیں ملے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی تشدد ثابت نہیں ہوا، تاہم خواتین کی موت کی اصل وجہ فرانزک رپورٹ سامنے آنے کے بعد معلوم ہوگی۔

سی سی پی او لاہور نے واضح کیا کہ خواتین اپنی شکایت کیلئےجب چاہیں تھانے آسکتی ہیں، تاہم تفتیش کیلئے پولیس کسی خاتون کو مغرب کے بعد تھانے نہیں بلا سکتی۔انہوں نے کہا کہ پولیس اس معاملے کی مکمل تحقیقات کررہی ہے اور فرانزک رپورٹ آنے کے بعد واقعے کے تمام حقائق سامنے آجائیں گے۔