ابھی تو کالم کی سیاہی خشک نہیں ہوئی کہ خطے کے حالات میں پھر سے تناؤ کی کیفیت پیدا کرنا شروع کر دی گئی، حالانکہ حالات کا تقاضہ تو یہ ہے کہ انسانیت کا نام لینے والے انسان دوستی کا بھی مظاہرہ کریں، میں نے گذشتہ روز عرض کیا تھا کہ نیتن یاہو نے معاہدہ میں بھی ٹیڑھ نکال دی ہے اور لبنان کے مسئلہ پر عدم اتفاق کا اظہار کر دیا اور پھر حسب ِ روایت و توقع نہ صرف وائٹ ہاؤس کی ترجمان بلکہ خود ٹرمپ صاحب نے بھی ٹرمپی چھوڑ دی اور کہہ دیا کہ لبنان تو معاہدے کا حصہ نہیں اور اس کے عوض اسرائیل کی طرف سے لبنان پر شدید بمباری کی گئی،دنیا دیکھ رہی اور اب بولنا بھی شروع ہو گئی ہے، بہرحال کل سے اسلام آباد میں فریقین کے درمیان بات چیت کا سلسلہ شروع ہو گا، ایرانی وفد گذشتہ شب پہنچا اور امریکی وفد آج آ جائے گا۔ میرے خدشات کے مطابق گو اِس وفد کی سربراہی نائب صدر جے ڈی وینس ہی کریں گے تاہم اس میں جیراڈ کشنز بھی ہوں گے ہم تو دُعا گو ہیں کہ اللہ یہ مذاکرات کامیاب ہی کرے جو پاکستان کی محنت اور دوست ممالک کے تعاون سے ہونے جا رہے ہیں۔سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور قطر کے علاوہ چین کی موجودگی بھی بتائی جا رہی ہے۔
حالات سے دنیا کس طرح متاثر ہوتی ہے اس کا اندازہ یوں لگا لیں کہ معاہدہ کی خبر کے نشر ہوتے ہی پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کمی آ گئی اور سٹاک ایکسچینج مندے سے منافع میں چلے گئے اور پھر جونہی ٹرمپ صاحب کی ٹرمپی اور نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی سامنے آئی پھر سے معمولی چڑھاؤ کی خبریں آنے لگیں،اب ہمیں انتظار کرنا ہو گا کہ یہ حساس تر مذاکرات کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔
جب سے امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر حملہ کیا اور ایران نے جوابی کارروائی کی تب سے دنیا بھر میں کساد بازاری حملہ آور ہو گئی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان پر چڑھ گئیں اور کمزور معیشت والے ممالک ہی نہیں ترقی یافتہ ملک بھی پریشانی میں مبتلا ہو گئے۔ہمارا پاکستان تو ایک ایسا ملک ہے جو ماہرین کے بقول بہت مشکل اور تگ و دو کے بعد دیوالیہ پن سے بچ کر سنبھلنے کی کوشش کر رہا ہے،اچھی خبریں تھیں اور توقعات بھی بہت باندھ لی گئی تھیں کہ یہ جنگ چھڑ گئی اور ملک کے اندر بھی پٹرولیم کے نرخ بڑھانا پڑے اور زیادہ اضافے کی وجہ سے آہ و بکا بھی لازمی تھی عوام پر بہت زیادہ بوجھ پڑا تو وزیراعظم کو سوچنا پڑا اور انہوں نے سادگی کا راستہ اختیار کیا، حکومتی اخراجات میں کمی کے اقدامات اور توانائی کی بچت شروع کی اور ساتھ ہی عوام کو سہولت دینے کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا، صوبوں نے بھی تعاون کیا۔
جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے تو وزیراعلیٰ مریم نواز نے جو پہلے ہی متحرک ہیں وفاقی اپیل پر فوری عمل کا اعلان ہی نہ کیا بلکہ عملی اقدامات بھی شروع کر دیئے ان اقدامات کے عملی پہلوؤں کی روشنی میں کئی دلچسپ حقائق بھی ظاہر ہوئے، صوبائی حکومت کی طرف سے موٹر سائیکل والوں کو ریلیف دی گئی اور ان کے لئے دو ہزار روپے ماہوار وظیفہ جاری کرنے کی ہدایت کی اور ساتھ ہی یہ رعایت بھی دی کہ مہینے میں 20لیٹر تک پٹرول ایک سو روپے فی لیٹر کم قیمت پر ملے گا تاہم پابندی یہ ہے کہ موٹر سائیکل باقاعدہ صارف کے نام پر رجسٹرڈ ہو، وزیراعلیٰ نے اس سلسلے میں حالات سے واقفیت کی بناء پر یہ رعایت بھی دی کہ موٹر سائیکل کی ملکیت(رجسٹریشن) کے تبادلہ پر فیس ختم کر دی، قارئین! آپ کو حیرت ہو گی کہ رجسٹریشن لازمی ہونے اور تبادلے کی فیس معاف ہونے کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ قریباً 25سے30 فیصد بلکہ اس سے بھی زیادہ موٹر سائیکل ایک ہاتھ سے دوسرے اور تیسرے ہاتھ تک فروخت ہو چکیں اور لوگوں نے اپنے نام ملکیت ٹرانسفر نہیں کرائی،اب وہ پٹرول کے نرخوں میں اضافے پر تو پریشان اور احتجاج کرتے ہیں لیکن یہ غور نہیں کرتے کہ معمولی غفلت اور تھوڑا خرچ بچانے کے لئے ملکیت کی منتقلی نہ ہونے سے وہ حکومتی ریلیف سے محروم رہ سکتے ہیں۔اسی صورتحال کے پیش نظر فیس معاف کر دی گئی تو اب بھاگ دوڑ شروع ہو چکی ہے۔صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ کسانوں کے لئے بھی سبسڈی کا اعلان کیا گیا ہے کہ گندم کی کٹائی میں سہولت ہو، ڈیزل کے لئے150 روپے فی لیٹر دیئے جا رہے ہیں اور دوسری معاونت الگ ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز جدید ٹیکنالوجی سے استفادے کے لئے بھی پُرجوش ہیں اور مختلف امور ڈیجیٹل کرتی چلی جا رہی ہیں،اب ان کی طرف سے ایک پولیس ایپ تیار کی گئی، جس کی بدولت گمشدگی کے حوالے سے آن لائن ایف آئی آر درج کرائی جا سکے گی اور ایف آئی آر کی نقل بھی آن لائن موصول ہو گی۔ یہ ایپ بھی شاید اس حقیقت کے پس منظر میں تیار کی گئی کہ لوگ اکثر کاغذات وغیرہ کی گمشدگی کے حوالے سے رپورٹ درج کرانے میں مشکلات کا شکار تھے اور اِس وجہ سے بھی موٹر وہیکلز کی ملکیت منتقل نہیں کراتے تھے اب ایسا نہیں ہو گا جب ایف آئی آر خود کار طور پر درج ہو کر نقل مل جائے گی تو دوسرے معاملات بھی حل ہو جائیں گے۔شہریوں کو اب ان سہولتوں سے مستفید ہونا چاہئے اور شکایت سے پہلے اپنے کاغذات درست کرا لیں۔
اس سلسلے میں وزیراعلیٰ سے یہ گذارش غیر ضروری نہیں تصور ہو گی کہ انہوں نے پولیس اصلاحات کے لئے جو بیڑہ اٹھایا تھا اس کی پیروی بھی پورے عزم سے کریں کہ ان کے یہ تمام عوام دوست کام نچلی سطح پر مکمل اور غیر مشروط تعاون نہ ہونے سے وہ اثر نہیں دکھا پاتے جو ہونا چاہئے۔وزیراعلیٰ کا مشن یہ دکھائی دیتا ہے کہ سب کام خود کار طریقے سے ایک اشارے اور بٹن دبانے سے ہوں، وہ اسی صورت ممکن ہے کہ نچلے سطح کے عملے بھی اس مشن کا پورا حصہ بن جائیں۔

