خدارا سویلین پر رحم کھائیں !

ایران اسرائیل جنگ کو آج 24دن ہو چکے ، علم نہیں یہ جنگ کب ختم ہوگی،،،کیوں کہ دونوں اطراف سے سخت میزائل باری جاری ہے، جس کی وجہ سے پورا خطہ بلکہ پوری دنیا کی معیشت متاثر ہورہی ہے،،، اگر اس جنگ کو پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان اب تک ایران جنگ میں خود کو ایک ”غیر جانبدار“ فریق کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کیوں کہ پاکستان کی حکومت ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کی مذمت بھی کررہی ہے اور تہران کی جانب سے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر حملوں پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار بھی کر رہی ہے۔۔۔اس لیے آپ کہہ سکتے ہیں، کہ ابھی صاحب اختیار ”محتاط“ رویہ اپنائے ہوئے ہیں،،، لیکن اگر مشرق وسطیٰ میں حالات مزید خراب ہوئے، تو اسلام آباد حکومت کو اس جنگ کا ایک فریق بننا پڑ سکتا ہے۔توایسی صورت میں قوی امکان ہے کہ پاکستان امریکا ، سعودی عرب وغیرہ کے ساتھ کھڑا ہوگا،،، کیوں کہ حال ہی میں وزیر اعظم شہباز شریف نے جدہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی ہے جس میں وزیر اعظم نے ان مشکل حالات میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ولی عہد کو یقین بھی دلایا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا۔اور”سعودی عرب کو جب بھی ضرورت پڑے گی، پاکستان موجود ہو گا۔“

لہٰذااگر پاکستان سعودی عرب یا کسی دوسرے ملک کے بچاؤ کیلئے ایران کے خلاف کھڑا ہوتا ہے یا اگر سعودی عرب کی سرزمین یا توانائی تنصیبات پر مسلسل حملے ہوئے اور ریاض نے باقاعدہ مدد طلب کی( کیوں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے میں یہ شق بھی ہے کہ اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوا تو وہ دونوں کے خلاف حملہ تصور ہو گا۔)تو اس جنگ میں شمولیت پاکستان کیلئےبڑے خطرات لا سکتی ہے، جن میں اقتصادی بدحالی، ایران اور پاکستان کے درمیان سرحدی علاقوں میں عدم استحکام اور ملک کے اندر فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔ایران اور پاکستان کی سرحد پر عسکریت پسندوں کی سرگرمیاں، مہاجرین کا دبائو، انٹیلی جنس آپریشنز یا سرحد پار حملے اور ملک کے اندر فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے،،،

اس لیے اگر اب کی بار پاکستان نے ماضی کی طرح جنگ میں حصہ لیا تو جہاں ہمارے سکیورٹی فورسز کے سپاہی شہید ہوں گے، وہیں ایک بار پھر سویلین بغیر کسی وجہ سے مارے جائیں گے،،، آپ ماضی میں دیکھ لیں کہ پاکستان کی تاریخ کے دو اہم ترین ادوارجنرل محمد ضیاءالحق اور پرویز مشرف کا دورایسے تھے جب ملک کو عالمی اور علاقائی جنگوں کا حصہ بننا پڑا۔ ان جنگوں کے سیاسی، سفارتی اور اسٹریٹجک پہلوو¿ں پر تو بہت بات ہوئی، مگر ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو ہمیشہ نظر انداز رہایعنی عام شہری۔ضیاء الحق کے دور میں افغان سوویت جنگ کے اثرات پاکستان تک آ پہنچے۔ لاکھوں افغان مہاجرین کی آمد، اسلحے اور منشیات کی یلغار، اور سرحدی علاقوں میں مسلسل بدامنی نے پاکستانی معاشرے کو اندر سے بدل کر رکھ دیا۔ اس جنگ میں اگرچہ پاکستان کو ”براہِ راست“ فریق بننے پر مجبور کیا گیا، مگر اس کے اثرات نے عام شہریوں کو شدید متاثر کیا۔ سرحدی علاقوں میں بسنے والے لوگ روزانہ خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے،،، اور پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی فرقہ وارانہ دہشت گردکارروائیاں ہوئیں جس سے پورا پاکستان متاثر ہوا،،،ا ور بے گناہ شہری بھی مارے گئے،،، پھر وقت بدلا، اور پرویز مشرف کے دور میں دہشت گردی کے خلاف جنگ نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ خودکش حملے، بم دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ معمول بن گئے۔ بازار، مساجد، سکول، حتیٰ کہ جنازے تک محفوظ نہ رہے۔ ان حملوں میں 80ہزار کے قریب بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، ایسے لوگ جن کا نہ تو کسی جنگ سے تعلق تھا اور نہ ہی کسی نظریاتی کشمکش سے۔

الغرض ان دونوں ادوار میں ایک مشترک حقیقت یہ تھی کہ عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوئے، مگر سب سے کم یاد رکھے گئے۔ میڈیا کی توجہ زیادہ تر بڑے واقعات، سیاسی فیصلوں اور عسکری کامیابیوں پر رہی، جبکہ ان معصوم جانوں کی قربانیاں پس منظر میں چلی گئیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا کبھی کسی نے ان خاندانوں کے دروازے پر دستک دی؟ کیا کسی نے پوچھا کہ وہ آج کس حال میں ہیں؟ریاست کی ذمہ داری صرف جنگ جیتنا نہیں ہوتی، بلکہ اپنے شہریوں کی حفاظت اور ان کے زخموں کا مداوا کرنا بھی ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے، پاکستان میں متاثرہ خاندانوں کے لیے کوئی منظم اور دیرپا نظام قائم نہیں کیا جا سکا۔ وقتی امداد یا اعلانات تو کیے گئے، مگر ان کا تسلسل اور شفافیت ہمیشہ سوالیہ نشان رہی۔قصہ مختصر کہ ضیاءالحق کی افغان وار میں بھی جرنیل امیر ہوگئے، عوام کو کچھ نہ ملا، مشرف کی ”سب سے پہلے پاکستان “یعنی دہشت گردوں کے خلاف فرنٹ پر لڑنے کی وجہ سے اُس وقت کے جرنیل امیر ہوگئے،، مگر عوام کو کچھ نہ ملا، اور اب علم نہیں آگے کیا ہوگا؟ کیوں کہ مرتے سویلین ہیں، جن کے خاندان کو کوئی نہیں پوچھتا کہ وہ کیسے زندگی بسر کر رہا ہے، ،، بس دو چار لاکھ روپے دے کر ٹرخا دیا جاتا ہے، حالانکہ کوئی فوجی افسریا اہلکار یا پولیس اہلکار شہید ہوتا ہے تو اُسے دنیا جہان کی مراعات ملتی ہیں،،، کروڑوں روپے ملتے ہیں، ساری زندگی کے لیے اُن کی فیملی کی کفالت کی جاتی ہے، ،، لیکن جو غریب سویلین جن کی حفاظت کرنا ان سکیورٹی اہلکاروں کی ذمہ داری ہے، وہ ساری زندگی دربدر کی ٹھوکریں کھاتے رہتے ہیں،،، اُن کا تو خاندان ہی برباد ہو جاتا ہے،،، بلکہ اُس کے لیے تو زندگی ہی ختم ہو جاتی ہے،،، بلکہ حد تو یہ ہے کہ حکومت کے پاس کو ئی ریکارڈ بھی نہیں ہے، کہ آج تک کتنے سویلین دہشت گردی کی کارروائیوں میں شہید ہوئے ہیں،،، اور اُن کے خاندان کہاں کہاں رہتے ہیں ،،، اور کس حال میں ہیں،،،

اس میں کوئی شک نہیں کہ شہدا ہمارے لیے باعث احترام ہی نہیں، بلکہ باعث عقیدت بھی ہیں، مگر اُن کی ڈیوٹی ہے، عوام کو بچانا،،، لیکن جب ان کی غفلت سے عوام مرتے ہیں تو پھر ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا،،، اس لیے اگر آپ بالفرض سعودی عرب کا ساتھ دے کر ایران کے خلاف جنگ میں اُترتے ہیں تو ظاہر ہے بدلے میں ایران ، افغانستان آپ پر حملہ کریں گے،،، اور بدلے میں عام شہری بھی شہید ہوں گے،،، تو ان کا والی وارث کون ہوگا؟ پاک انڈیا جنگ میں جو سویلین شہید ہوئے تھے،، اُن کا کون وارث ہے؟ کیا حکومت نے پلٹ کر اُن کے خاندانوں کا حال پوچھا، یا اُن کے لیے کوئی تقریب منعقد کی؟ فوجی ہمارا بہادر ہے، ،،اگر وہ شہید ہوتا ہے تو اُسے علم ہے کہ قوم ، اُس کا ادارہ اُس کے خاندان کو سنبھال لے گا، ،، لیکن جب سویلین شہید ہوتا ہے، تو اُسے خوف ہوتا ہے کہ اُس کے پیچھے اُس کا خاندان بھی شہید ہو جائے گا، لہٰذاپاکستان میں سویلین شہدا جو ہمارے فیصلہ کرنے والوں کی غفلت سے مارے جاتے ہیں،،، کے خاندان کو بھی اُتنی ہی پذیرائی ملنی چاہیے جتنی فورسز کے شہدا کو دی جاتی ہے،،، آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ماضی کی غلطیوں سے سیکھیں۔ ان متاثرہ خاندانوں کو صرف اعداد و شمار کا حصہ نہ سمجھا جائے بلکہ انہیں باعزت زندگی دینے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ ان کے بچوں کی تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع کو یقینی بنایا جائے تاکہ وہ بھی معاشرے کا فعال حصہ بن سکیں۔یہ بھی ضروری ہے کہ قومی بیانیے میں ان عام شہریوں کی قربانیوں کو شامل کیا جائے۔ یادگاریں، نصاب اور میڈیا کے ذریعے ان کی کہانیاں آگے لائی جائیں تاکہ آنے والی نسلیں جان سکیں کہ اس ملک کی سلامتی کی قیمت صرف سپاہیوں نے ہی نہیں بلکہ عام شہریوں نے بھی ادا کی ہے۔آخر میں یہ سوال ہم سب کے لیے ہے: کیا ہم نے واقعی اپنے ان بے گناہ شہریوں کا حق ادا کیا ہے؟ اگر نہیں، تو ابھی بھی وقت ہے کہ ہم ان کی قربانیوں کو تسلیم کریں اور ان کے خاندانوں کو وہ مقام دیں جس کے وہ حقیقی حقدار ہیں۔

بہرکیف واپس ایران جنگ پر آتے ہیں،،، کہ کچھ ریاستیں میدانِ جنگ بنتی ہیں، کچھ تماشائی رہتی ہیں اور کچھ وہ ہوتی ہیں جو جلتی ہوئی لکڑیوں کے درمیان پل بننے کی کوشش کرتی ہیں۔ پاکستان اس وقت تیسرے کردار میں ہے۔ اور یہی اس کی مجبوری بھی ہے اور حکمت بھی۔لہٰذاتاریخ، جغرافیہ اور مفادات تینوں چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کیلئے کسی ایک فریق کا حصہ بننا خود اپنے پاو¿ں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہو گا۔ پاکستان کو نہ ایران کے خلاف جانا چاہیے، نہ ہی اس جنگ میں شامل ہو کر اس پر حملہ کرنا چاہیے، کیونکہ یہ پاکستان کے مفاد کے خلاف ہے اور ایسا کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں ہو گا۔ بلکہ پاکستان کو کوشش کرنی چاہیے کہ سعودیہ اور ایران ایک سمجھوتے کے تحت آگے چلیں صرف یہی نہیں وہ اس جنگ کے روک تھام کیلئے اپنی کیپسٹی میں حد ممکن کوشش کر ے۔کیوں کہ پاکستان سب سے پہلے ہے اور اس کے مفادات کا تحفظ اولین ہے۔ اس پر کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی۔ اور ویسے بھی ایران پاکستان تعلقات کی ایک تاریخ ہے اور ماضی قریب میں تعلقات بہت بہتر ہوئے ہیں ورنہ یہی ایران تھا اور کلبھوشن نیٹورک تھا، چاہ بہار بندرگاہ تھی اور را وہاں بیٹھی تھی۔ بی ایل اے کے لوگ ایرانی بلوچستان میں پناہ لئے تھے۔لیکن حالیہ تین برس میں ایران نے بھی کافی کچھ سیکھا اور پاکستان نے بھی اور دونوں ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں جو ہر لحاظ سے خوشگوار ہے۔ یہی نہیں، ایران سعودیہ تعلقات بھی سفارتی سطح پر بحال ہوئے۔ اس میں مرکزی کردار چین نے ادا کیا تھا مگر اہم رول پاکستان کا بھی تھا۔ اور کوشش کرنی چاہیے کہ ہمارے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات ایسے ہی رہیں،،، قصہ مختصر کہ اب پاکستان مشرق وسطیٰ کے ممالک اور ایران کے مابین پل کا کردار ادا کرے۔ یہ برج ضرور بننا چاہیے،،، مگر کسی ایک طرف جا کر دوسرے پر حملہ آور ہونا تاریخ کی سب سے بڑی غلطی ہوگی،،، ۔ وجہ بالکل سادہ اور صاف ہے۔ یہ پاکستان کے مفاد کے خلاف ہے۔ یہاں مذہبی جذباتیت کے ساتھ سیاسی جذباتیت بھی عروج پر ہے اور لوگ نہ خارجہ پالیسی کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں نہ ان کو اپنے وطن کو مقدم رکھنا سکھایا جاتا ہے۔ کوئی ایرانی بنا ہوا ہے تو کوئی سعودی، کوئی افغانستان کا پہرے دار ہے۔ حد ہے اور بے حد ہے۔ حد تو یہ بھی ہے کہ پاکستان میں اسرائیل کے بھی کچھ رشتے دار پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ مادر پدر آزاد وہ لوگ ہیں جو خود کو لبرل سیکولر کہلواتے ہیں اور خود اس کی دھجیاں اڑا دیتے ہیں۔اس لیے ہمیں جنگ کے موڈ میں نہیں جانا چاہیے،،، کیوں کہ اس میں سیاستدانوں اور فیصلہ کرنے والوں کا تو علم نہیں مگر عوام کا نقصان ہی نقصان ہے،،،