”در فنطنی“ اور اب”ٹرمپنی“

جب سے ڈونلڈ ٹرمپ ایک دفعہ ہار، جانے کے بعد پھر سے صدر منتخب ہوئے ہیں ان کے عمل سے دنیا میں تہلکہ مچا ہوا ہے، پہلے انہوں نے ٹیکس کے نام پر دنیا کو چکرایا اور درآمدی ڈیوٹی لگا لگا کر افراتفری پھیلائی،انہوں نے اپنے دوست ممالک کو بھی نہ بخشا اور ایسا محسوس ہوا کہ وہ یونی پولر دنیا کی وجہ سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ایک وہ دنیا کی تجارت درآمد برآمد کو برباد کرنے پر تُلے ہوئے تھے تو دوسری طرف کسی معصوم اور مسکینی بلی کی طرح غزہ کے فلسطینیوں کی صہیونی حکومت کے ہاتھوں نسل کشی کو اپنے کاروبار کے لئے استعمال کرتے پر تلے ہوئے تھے۔اس سلسلے میں انہوں نے کبھی بھی فلسطینیوں کے قتل عام پر افسوس کا اظہار نہیں کیا۔الٹا اسرائیل کی حمایت اور حماس کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ جاری رکھا،اسی میں انہوں نے اپنے پراپرٹی بزنس کا بھی راستہ نکالا اور پہلے غزہ کو قبضہ میں لے کر ایک تفریحی شہر بنانے کی تجویز گراؤنڈ میں پھینک دی، جب خطے کے ممالک کی طرف سے اس کو تسلیم نہ کیا گیا اور بھرپور مخالفت ہوئی تو انہوں نے یوٹرن لے کر غزہ امن بورڈ کا اعلان کر دیا۔اس بورڈ میں اگرچہ ان کی توقع کے مطابق کم ملکوں نے شرکت کی تاہم اسلامی ممالک نے (پاکستان سمیت) اس کا رکن بن کر ان کے حقیقی منصوبے میں حصہ داری کر لی اور یوں غزہ پر مکمل قبضہ اور نیا شہر بنا کر مال بنانے کا منصوبہ موخر ہو گیا تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جناب ٹرمپ کی حرصِ دولت کہیں ختم نہیں ہوئی، اس کے بعد انہوں نے کمزور ہمسایہ ملک وینزویلا پر عجیب وغریب چڑھائی کر دی،اس چھوٹے ملک کے صدر اور ان کی اہلیہ کو اغواء کر لیا اور وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کر کے اس کی فروخت سے کمائی شروع کر دی۔ہوس زر تو ایسا عمل ہے جس کی کوئی حد قبول نہیں۔اس کے بعد انہوں نے ایران پر حملہ کر دیا اور یہ حملہ صہیونی حکومت کے ساتھ مل کر کیا انہوں نے یہ بھی لحاظ نہ رکھا کہ ایران کے اردگرد مسلم ممالک ہیں جن سے وہ سرمایہ داری کے نام پر اربوں ڈالر لے چکے ہوئے ہیں،ابتداء میں بات ایٹمی صلاحیت کی تاہم اب تھوڑے دن پہلے انہوں نے واضح کیا کہ ان کی پہلی آپشن ایران میں تیل کے ذخائر ہیں جبھی تو وہ ایران کے جزیہ سارگ پر قبضہ کی بات کرتے اور تیاریاں کر چکے ہوئے ہیں۔

یہ حالات سب کے سامنے ہیں البتہ ڈونلڈ ٹرمپ جس قسم کی گفتگو کرتے،صبح کچھ اور شام کو کچھ کہتے ہیں،اسے ہمارے اکثر حضرات نے ”یو ٹرن“ کہا لیکن ”یو ٹرن“ تو بانی سے موسوم ہے اور ویسے یو ٹرن ان کے نہیں ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ تو اس حوالے سے بھی آگے کی چیز ہیں۔ان کو یہ یاد ہی نہیں رہتا کہ پہلے کیا کہا تھا، ان کو ٹوکنے والا بھی کوئی نہیں،وہ دوسروں کے لئے کئی قسم کے القاب وضع کرتے ہیں لیکن اپنے علم پر غور نہیں کرتے اور وہ ایسا کیوں کریں کہ طاقتور ملک کے سربراہ ہیں اور پینٹاگون کی پالیسیاں ان کے مزاج کے مطابق ہیں کہ وہ خود ایسے دیوانے ہیں جو گلی کی اینٹیں اُٹھا اُٹھا کر اپنے ہی گھر میں پھینکتا ہے،ان کی کسی بات پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی کیفیت گھڑی میں گولہ اور گھڑی میں ماشا والی ہوتی ہے۔

یہ حالات بڑے دلسوز ہیں اور میں اپنے خیالات کا اظہار بھی کر چکا ہوا ہوں تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی باتوں سے مجھے منو بھائی بہت یاد آ رہے ہیں۔مجھے ان کی رفاقت میں کام کرتے بہت عرصہ گذرا اور پھر سماجی محافل، ٹریڈ یونین اور گھریلو تعلقات بھی تھے وہ نہ صرف اہل بلکہ بڑی پیاری شخصیت تھے۔انہوں نے روزنامہ ”مساوات“ میں ”گریبان“ کے عنوان سے کالم شروع کیا تو واقعی گریبانوں کے ڈھیر ہی لگا دیئے،اِس وقت مجھے اُن کے کالموں یا ان کی شخصیت کی تعریف نہیں کرنا، مجھے تو وہ حالاتِ حاضرہ کے باعث اس وجہ سے یاد آ رہے ہیں کہ وہ برموقع اور برمحل زبردست بات کرتے تھے۔ ایسے ہی میں انہوں نے ایک لفظ ”در فنطنی“ ایجاد کیا۔ یہ لفظ کسی کتاب اور کسی ڈکشنری میں نہیں ہے لیکن منوبھائی نے اس کا استعمال ایسے کیا کہ یہ لفظ ”در فنطنی“ ادب اور زبان کا حصہ بن کر رہ گیا اور اب بھی استعمال ہو جاتا ہے، میں سوچتا ہوں کہ اگر منو بھائی آج ہم میں ہوتے تو وہ حضرت ٹرمپ کی قلابازیوں، کہہ مکرینوں اور بھول جانے والی عادت کے حوالے سے بھی ضرور کوئی نیا لفظ ایجاد کرتے۔میں ان جیتا اہل تو نہیں تاہم درفنطنی کے وزن پر”ٹرمپنی“ اگر استعمال کروں تو شاید یہ بات سے پھر جانے کے حوالے سے یہ لفظ بھی مقبول ہو جائے کہ حضرت ٹرمپ بھی کسی جگہ رکتے نہیں اور ایک بات جو وائٹ ہاؤس میں کہتے ہیں ایئر فورس ون(ہوائی جہاز) میں چڑھ کر کچھ اور بات کرتے ہیں۔ انہوں نے جتنی ”ٹرمپنیاں“ جھاڑیں ان کی اکثریت جہاز ہی سے کی جانے والی گفتگو میں جھلکتی ہے حتیٰ کہ ایران کو غزہ بنانے کے لئے اسرائیل کے ساتھ مشترکہ بمباری اور ایرانی قیادت کو شہید کرنے کے بعد بھی عجیب و غریب باتیں ہی کرتے ہیں اور پھر انہوں نے یہی تکرار کی کہ ایران کی ساری قیادت ختم کر دی اور اب جو حضرات برسر اقتدار ہیں وہ بھلے لوگ ہیں جن سے بات ہو گی۔اب تو انہوں نے رجیم چینج کا بھی دعویٰ کر دیا اور بڑے ہی مضحکہ خیز انداز میں کہا اب اس کی ضرورت نہیں۔

ایران کی موجود قیادت بھی ثابت قدم ہی نظر آ رہی ہے اور اب ٹرمپ خود اپنی طرف سے کہی گئی بات پر قائم نہیں رہے،ان کی طرف سے چھ اپریل تک ایران کی اہم تنصیبات پر حملہ نہ کرنے کا اعلان کیا گیالیکن ایسا ہوا نہیں کہ یہ سلسلہ جاری رہا اور ہے، حتیٰ کہ ان کے وزیر جنگ فرماتے ہیں کہ امریکہ نے پھر بی2-بمبار طیاروں سے حملے شروع کئے ہیں کہ ایران کی زیر زمین ایٹمی تنصیبات کو ختم کیا جا سکے، امریکہ نے انہی طیاروں کے ذریعہ اچانک کسی اعلان کے بغیر حملہ کر کے ایران کی زیر زمین ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا اور اعلان کیا تھا کہ ایران کی ایٹمی صلاحیت ختم کر دی۔ اب وہ کبھی بھی ایٹمی اسلحہ نہیں بنا سکے گا۔ ٹرمپ نے یہ حملہ بھی مذاکرات کے دوران ہی کیا جب ایران کی طرف سے بار بار کہا جا رہا تھا کہ وہ اپنی ایٹمی صلاحیت صرف توانائی کی ضروریات تک محدود رکھے گا اور کبھی بھی اسلحہ نہیں بنایا تھا لیکن ایران کی نہ سنی گئی اور سابقہ حملہ بھی اچانک ہوا اور اب مشترکہ جارحانہ کارروائی بھی کسی اعلان کے بغیر ہوئی ہے۔

محترم ٹرمپ،امریکی پینٹاگون اور صہیونی رہنماؤں اور موساد نے بھی ایرانی صلاحیت کا غلط اندازہ لگایا جس کا ثبوت یہ ہے کہ ایران اب تک ڈٹا ہوا ہے اور امریکہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان استثنیٰ کے دوران ہی ایران پر بڑے حملے شروع کر دیئے ہیں حالات سب کے سامنے ہیں۔ مزید کیا کہا جائے کہ ایران اگر اور کچھ نہ کر سکا تو آبناء ہرمز کو سالوں کے لئے بند کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس لئے ٹرمپ صاحب کو اپنی ”ٹرمپنی“ حرکات ترک کر دینا چاہئیں کہ ان کی ٹرمپنیت دنیا بھر کو مسائل سے دوچار کئے ہوئے ہے۔