ٹورنٹو (اشرف خان لودھی سے)کینیڈا میں پاکستانی کھانوں کے ذائقے کو متعارف کرانے اور پاکستانی کاروباری برانڈ کو عالمی سطح پر وسعت دینے کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ پاکستان کے معروف طاہر خان ریسٹورنٹ (ٹی کے آر) نے کینیڈا میں اپنی نئی شاخ کھولنے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت ٹورنٹو میں ریسٹورنٹ قائم کیا جائیگا۔اس سلسلے میں منعقدکی گئی تقریب میں کاروباری شخصیات، میڈیا نمائندوں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مہمانوں نے شرکت کی۔
عمران گوندل نے میڈیا کے کردار کو بھی انتہائی اہم قرار دیا اور کہا کہ کسی بھی پیغام کو عوام اور دنیا تک پہنچانے کے لیے ذرائع ابلاغ کا ساتھ ضروری ہے۔ انہوں نے جنگ نیوز کینیڈا کے چیف ایڈیٹر اشرف خان لودھی، کینیڈین ایشین نیوز کے مدیرِ اعلیٰ لطافت علی صدیقی، 92 نیوز اور الف ٹی وی کے رانا رؤف، پاکستان انچارج ٹائم ٹی وی اور زوم ریڈیو کے مدیرِ اعلیٰ محمد ندیم، سوشل میڈیا پر معروف عرفان بابا، فوٹوگرافر علی اعوان، محبوب شیخ، سید توصیف اور دیگر صحافتی و سماجی شخصیات کا نام لے کر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام افراد نے مختصر رابطے پر تقریب کی کوریج اور پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لیے تعاون کیا۔

عمران مہدی گوندل نے شرکا اور مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے پوری ٹیم نے محنت اور جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر آج جو کامیابی سب کے سامنے ہے، اس کے پیچھے کئی مشکلات اور رکاوٹیں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹورنٹو میں ریسٹورنٹ کھلنے کے بعد صارفین کو پاکستان کا اصل ذائقہ پیش کیا جائے گا اور اس ذائقے کو صرف ٹورنٹو نہیں بلکہ پورے کینیڈا میں متعارف کرانے کا ارادہ ہے۔ انہوں نے ٹیم کے ارکان، طاہر خان، ندیم بھائی، مرتضیٰ،طاہر خان اور دیگر معاونین کا شکریہ بھی ادا کیا۔
ٹی کے آر ریسٹورنٹ کے بانی اور چیف ایگزیکٹو طاہر خان نے اپنے خطاب میں بتایا کہ کینیڈا اور امریکا سے ان کے ریسٹورنٹ کی فرنچائز حاصل کرنے کے لیے پہلے بھی متعدد افراد رابطہ کرتے رہے ہیں، تاہم وہ محض کسی کو رقم لے کر برانڈ کا نام دینے کے حق میں نہیں۔ ان کے بقول، فرنچائز دینے سے پہلے ممکنہ شراکت داروں کے کاروباری پس منظر، کام کرنے کے طریقے اور صلاحیتوں کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے، کیونکہ وہ دنیا بھر میں قائم کیے گئے برانڈ کے معیار اور ساکھ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے۔

طاہر خان نے بتایا کہ کینیڈا میں کاروبار کے لیے منتخب ہونے والے شراکت داروں نے محنت، دیانت داری اور لگن کے ساتھ ان کا اعتماد حاصل کیا، جس کے بعد تقریباً 2 سے 3 ہفتے قبل اسلام آباد میں ان کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ انہوں نے افشان گروپ آف کمپنیز کے مرتضیٰ اور جاوید سمیت دیگر شراکت داروں کا خصوصی شکریہ ادا کیا، جو متحدہ عرب امارات سے آ کر کینیڈا میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی جگہ حاصل کرنا اور اس نوعیت کا کاروبار شروع کرنا آسان کام نہیں، اس کے لیے سرمایہ کاری کے ساتھ بڑا حوصلہ اور خطرہ مول لینے کی صلاحیت بھی درکار ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد صرف اپنے بچوں کے لیے چند ریسٹورنٹس قائم کرنا نہیں، بلکہ پاکستانی کھانوں کے ایسے برانڈ کو دنیا بھر میں متعارف کرانا ہے جو پاکستان کی نمائندگی کرے۔ وہ مختلف ممالک کا سفر کرتے ہیں تو وہاں میکڈونلڈز، کے ایف سی اور برگر کنگ جیسے عالمی برانڈز نظر آتے ہیں، مگر پاکستانی روایتی کھانوں کا کوئی ایسا برانڈ دکھائی نہیں دیتا جو عالمی سطح پر ملک کی شناخت بن سکے۔ ان کے مطابق ٹی کے آر کو مختلف ممالک میں متعارف کرانے کے پیچھے یہی سوچ ہے کہ پاکستان کے کھانوں اور ثقافت کو عالمی سطح پر پہچان ملے۔
طاہر خان نے کینیڈا میں پہلے سے کام کرنے والے پاکستانی اور بھارتی ریسٹورنٹس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ سب ان کے بھائی ہیں اور ہر وہ شخص جو یہاں کاروبار کر رہا ہے، اپنے ملک کی نمائندگی بھی کر رہا ہے۔ انہوں نے پاکستانی فوڈ برانڈز کے مالکان سے اپیل کی کہ وہ بھی اپنے کاروبار کو عالمی سطح پر وسعت دیں اور پاکستان کا نام روشن کریں۔ انہوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ملک کے سفیر ہیں اور انہیں اپنے کردار اور طرزِ عمل سے ایسی مثال قائم کرنی چاہیے جس سے پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر ہو۔

تقریب میں دیپک آنند،ًمحمدندیم،طاہرخان،عمران مہدی گوندل ،جاویدخان،محمدیاسر،مرتضیٰ غلام،احسن ضیا سمیت مسی ساگا کے رکنِ صوبائی اسمبلی شریف سباوی نے بھی شرکت کی اور اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ وہ خود 31 سال قبل تارکِ وطن کی حیثیت سے مسی ساگا آئے تھے، اس لیے وہ بیرون ملک آباد ہونے والے افراد کے تجربات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق آج اونٹاریو میں مختلف قومیتوں کے افراد کو اپنی ثقافت، مذہبی تہوار، کھانے، دکانیں اور ذرائع ابلاغ میسر ہیں، جس سے وہ اپنی جڑوں اور روایات سے جڑے رہ سکتے ہیں اور اپنی ثقافت اگلی نسل تک منتقل کر سکتے ہیں۔
شریف سباوی نے کہا کہ تقریباً 30 سال پہلے کینیڈا یا امریکا ہجرت کرنے والے خاندانوں کو خدشہ ہوتا تھا کہ شاید ان کے بچے اپنی آبائی ثقافت سے دور ہو جائیں گے، لیکن اب صورت حال بدل چکی ہے۔ مختلف قومیتوں کے کھانے، موسیقی، ثقافت اور تقریبات کینیڈا کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب پاکستانی کھانے صرف پاکستانی برادری تک محدود نہیں رہے بلکہ کینیڈین، مصری، عرب اور دیگر ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی پاکستانی کھانوں میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ اس طرح مختلف کمیونٹیز ایک دوسرے کی ثقافت اور روایات سے واقف ہو رہی ہیں۔
جاوید خان نے اپنے خطاب کے اختتام پر کینیڈا میں شراکت دار خاندانوں کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے کاروباری شراکت کی تجویز پیش کی تو ان خاندانوں نے ان کی مالی حیثیت دیکھنے کے بجائے ان کے کاروباری پس منظر، برانڈ کے معیار، ساکھ اور مستقبل کے وژن کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ہمارے معاشرے میں رشتے کے معاملے میں خاندان کے پس منظر اور کردار کو اہمیت دی جاتی ہے، اسی طرح ان شراکت داروں نے بھی مکمل اطمینان کے بعد ان پر اعتماد کیا۔
انہوں نے افشان گروپ آف کمپنیز کے چیف ایگزیکٹو اور اپنی کاروباری ٹیم کا تعارف بھی کرایا اور بتایا کہ انہیں خود کپڑے کے کاروبار میں 5 سال کا تجربہ ہے۔ طاہر خان نے کہا کہ کینیڈا میں کاروبار کے حوالے سے ان کا وژن شراکت داروں کو پسند آیا، جس کے بعد انہوں نے ان پر اعتماد کیا۔ انہوں نے تقریب میں شرکت کرنے والے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنا قیمتی وقت نکال کر ان کی خوشیوں میں شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرنیوالے محمدیاسر نے منتظمین اور ٹیم کے ارکان کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ اس مقام تک پہنچنے کے لیے سب نے مل کر بہت محنت اور جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ریسٹورنٹ کھلنے کے بعد مہمانوں کو وہاں خوش آمدید کہا جائے گا اور پاکستان کا اصل ذائقہ ٹورنٹو سمیت پورے کینیڈا میں متعارف کرایا جائے گا۔
طاہر خان ریسٹورنٹ پاکستانی روایتی کھانوں اور اعلیٰ معیار کے کھانے پیش کرنے کیلئےمعروف ہے۔ اس کے خصوصی پکوانوں میں دم پخت، چرسی چکن، مٹن کڑاہی، کابلی پلاؤ، باربی کیو اور چپلی کباب شامل ہیں۔ ریسٹورنٹ کے بانی اور چیف ایگزیکٹو طاہر خان ہیں۔ ٹورنٹو میں نئی شاخ کے قیام کا اعلان کر دیا گیا ہے، تاہم اس کے حتمی مقام اور افتتاح کی تاریخ کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا۔

