مولانا فضل الرحمٰن کا خواجہ آصف پر طنز، محسن نقوی کی تہران میں موجودگی پر بھی سوال اٹھا دیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان ہی کا مشہور جملہ ان پر پلٹ دیا اور کہا کہ ’’ایران میں دفاعی معاہدہ تشکیل پا رہا ہے، وہاں اجلاس ہو رہا ہے اور وزیر دفاع یہاں بیٹھے ہیں، کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے۔‘‘ ان کے اس جملے پر ایوان میں ارکان نے ڈیسک بجا کر داد دی اور قہقہے گونج اٹھے۔

28 اکتوبر 2026ء کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے تہران میں ہونے والے اجلاس کا حوالہ دیا، جس میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم قالن سمیت ایرانی قیادت شریک ہوئی تھی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے وزیر دفاع خواجہ آصف کی اجلاس میں عدم موجودگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب دفاعی معاہدے سے متعلق اہم پیش رفت ہو رہی ہے تو وزیر دفاع پاکستان میں کیوں بیٹھے ہیں؟ انہوں نے وزیر داخلہ محسن نقوی کی تہران میں موجودگی پر بھی سوال کیا کہ کیا وہاں وزیر داخلہ کی بھی ضرورت تھی؟

مولانا کے اس بیان پر اگلے روز وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ زیرِ بحث نہیں تھا اور نہ ہی وہاں پاکستان کے دفاع سے متعلق کوئی معاملہ زیرِ غور تھا، اس لیے ان کی وہاں موجودگی ضروری نہیں تھی۔ خواجہ آصف نے مولانا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں شرم و حیا کا طعنہ دے رہے ہیں، لیکن انہیں بھی اپنے گزشتہ 40 سالہ سیاسی کردار پر نظر ڈالنی چاہیے۔

خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمٰن کے سیاسی ماضی، کشمیر کمیٹی کی سربراہی اور مختلف حکومتوں میں ان کے کردار پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے ان کے خطاب کو سیاسی دباؤ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختلافات کے باوجود سیاسی قیادت کو قومی معاملات پر مل کر آگے بڑھنا چاہیے۔

دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی نے سینیٹ میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر تہران گئے تھے اور ان کا دورہ کسی دفاعی معاہدے کے لیے نہیں بلکہ ایران سے متعلق جاری بحران کے تناظر میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کو معلوم نہیں تھا کہ یہ دورہ دفاعی معاملات سے متعلق نہیں تھا۔

محسن نقوی نے مولانا کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے ان کا دل سے احترام کرتے تھے، لیکن جب مولانا نے کہا کہ وہ ریاست پر تھوکتے ہیں تو ان کے دل میں موجود احترام ختم ہوگیا۔ انہوں نے جے یو آئی پر ریاست سے فائدہ اٹھانے اور سیاسی مقاصد کے لیے مذہب استعمال کرنے کے الزامات بھی عائد کیے۔

محسن نقوی کے خطاب کے دوران جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے احتجاج کیا اور ان کے الفاظ پر اعتراض اٹھایا، جس کے بعد ایوان میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔