اسلام آباد (نامہ نگار)وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے دہشتگردی کے خلاف کبھی کھل کر مؤقف اختیار نہیں کیا اور جب بھی دہشتگردی کا معاملہ سامنے آیا وہ ہمیشہ سمجھوتہ کرتے رہے۔
قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان شہدا کے بارے میں جس قسم کی زبان استعمال کرتے ہیں، اس پر انہیں جواب دیا ہے۔ قومی معاملات پر مولانا نے ایک نیا مؤقف اختیار کر لیا ہے، جبکہ دہشتگردی کے خلاف ان کا کردار ہمیشہ سمجھوتہ کرنے والا رہا ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ یہ جنگ مولانا فضل الرحمان اور ان کے دیگر ساتھیوں نے 1980ء کی دہائی میں شروع کی تھی۔ ضیاء الحق اور پرویز مشرف کی چھتری تلے یہ جنگ لڑی گئی، جبکہ مولانا فضل الرحمان پرویز مشرف کے اتحادی بھی رہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اس وقت خیبر پختونخوا میں ان کی اور جماعت اسلامی کی حکومت تھی۔ مولانا کا خیال تھا کہ تحریک انصاف سے حکومت لے کر ان کی جھولی میں ڈال دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ قومی اسمبلی کا ماحول خراب ہو۔ گزشتہ 2 سال کے دوران پاکستان کی عزت و آبرو میں اضافہ ہوا ہے اور ہم نے بھارت سے فتح حاصل کی ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی صلح اور سفارتی کوششوں کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جا رہا ہے، لیکن مولانا فضل الرحمان کے منہ سے ان کوششوں کی تعریف میں کبھی ایک لفظ نہیں نکلا۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ پاکستان کی سیاسی جماعت ہے یا کسی اور ملک کی؟

