فرسٹ نیشنز رہنماؤں کی پینے کے صاف پانی کے بل پر کارنی حکومت پرشدید تنقید

اوٹاوا (سی بی سی نیوز)کینیڈا کی اسمبلی آف فرسٹ نیشنز (اے ایف این) کے رہنماؤں نے وفاقی لبرل حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ فرسٹ نیشنز کے صاف پینے کے پانی کے حق پر سیاسی کھیل کھیل رہی ہے اور مجوزہ قانون میں تبدیلیاں کرکے حکومت کو قانونی ذمہ داری سے بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اوٹاوا میں اسمبلی آف فرسٹ نیشنز کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نیوفاؤنڈ لینڈ کے ریجنل چیف برینڈن مچل نے کہا کہ فرسٹ نیشنز کی متعدد برادریاں آج بھی صاف پینے کے پانی سے محروم ہیں اور وہ اپنے لوگوں کے حق کے لیے “سیاسی جنگ” لڑنے کو تیار ہیں۔

اجلاس سے قبل فرسٹ نیشنز کے ایک سو سے زائد نمائندوں نے صاف پانی کے حق کے لیے علامتی واک میں شرکت کی، جس کے دوران قومی چیف سنڈی ووڈ ہاؤس نیپیناک نے کہا کہ حکومت کی مجوزہ قانون سازی کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔

رہنماؤں نے وزیراعظم مارک کارنی کی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے بل سی-37 پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس میں سابق مجوزہ قانون بل سی-61 کے مقابلے میں فرسٹ نیشنز کے محفوظ پینے کے پانی کے بنیادی حق سے متعلق شقوں کو کمزور کیا گیا ہے۔

انیشینابیک نیشن کی گرینڈ کونسل چیف لنڈا ڈیباسیج نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت نے عدالت کے ایک فیصلے کے بعد قانون کا متن تبدیل کیا تاکہ اپیل میں کینیڈا کے مؤقف کو مضبوط بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرسٹ نیشنز سیاسی چال بازی کا شکار بنے ہیں اور وہ حکومت کی اس حکمت عملی کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

دوسری جانب اجلاس میں شریک لبرل رکنِ پارلیمنٹ جینیٹ لاواک نے کہا کہ بل سی-37 بدستور فرسٹ نیشنز کے صاف پینے کے پانی کے حقوق کو تسلیم کرتا ہے اور اس قانون کا مقصد فرسٹ نیشنز کو فیصلہ سازی کا مرکز بنانا ہے۔

اجلاس کے دوران صاف پانی کے مسئلے کے ساتھ ساتھ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بڑے ترقیاتی اور قدرتی وسائل کے منصوبوں کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کی پالیسی پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ فرسٹ نیشنز رہنماؤں کا کہنا تھا کہ مجوزہ اصلاحات مقامی اقوام کے آئینی اور بین الاقوامی حقوق کو متاثر کر سکتی ہیں۔

اسمبلی آف فرسٹ نیشنز کا سالانہ اجلاس جمعرات تک جاری رہے گا، جس میں درجنوں قراردادوں پر غور کیا جائے گا۔