زندگی کیسے گزر جاتی ہے، کب گزرتی ہے، پتہ ہی نہیں چلتا۔ سالگرہ پہلے والدین مناتے ہیں، پھر انسان خود اپنی سالگرہ مناتا ہے، پھر وقت آتا ہے کہ اس کے بچے اس کی سالگرہ منانا شروع کر دیتے ہیں۔ غرض اِسی طرح 50 ویں سالگرہ یعنی (گولڈن جوبلی) آ جاتی ہے اور تب حساب شروع ہوتا ہے کہ کیا کھویا کیا پایا۔ ہم کچھ دوستوں نے زندگی کے سفر کا آغاز 1964ء میں جونیئر مسلم ماڈل سکول لوئر مال سے کیا۔ 1969ء میں جونیئر مسلم ماڈل سے سینئر مسلم ماڈل یعنی ہائی سکول (گراؤنڈ فلور) میں منتقل ہوئے تو کچھ اور دوستوں کا اضافہ ہوا۔ یہ ساتھ 1974ء تک رہا۔ جب ہم سب مسلم ماڈل سے ”پاس آؤٹ“ ہوئے، یعنی میٹرک کا امتحان پاس کر کے بکھر گئے،جو زیادہ اچھا طالبعلم تھا وہ گورنمنٹ کالج میں گیا، میرے جیسے سول لائنز کالج میں تو کچھ ایم اے او کالج میں گئے، جن کو انجینئرنگ پسند تھی وہ سائنس کالج وحدت روڈ پہنچے، کچھ دوست ایف سی کالج بھی پہنچے، لیکن وہ عمر اور زمانہ ایسا تھا کہ آپس میں رابطے کا فقدان تھا، نہ آج کی طرح موبائل فون میسر تھے اور ”لینڈ لائن فون“ بھی اس زمانے میں ایک لگژری کہلاتا تھا جو ہر گھر میں نہیں تھا۔ لینڈ لائن فون لگوانا بھی مشکل مرحلہ تھا، لہٰذا جب ”بکھرے تو بکھرتے“ ہی چلے گئے۔ زندگی کی جدوجہد میں ایسے مصروف ہوئے کہ پیچھے مڑ کے نہیں دیکھا۔ چند دوستوں کا باہمی رابطہ رہا، لیکن بیشتر بکھر گئے اور پھر ہم میں سے ایک دوست احمد رضا نے ہمت کی، اس نے دوستوں کو اکٹھا کرنا شروع کیا۔ مسلم ماڈل سکول کے ریکارڈ کھنگالے، جو دوست رابطے میں آئے ان سے دوسروں کا پتہ چلا اور کرتے کراتے تقریباً دو درجن سے زائد دوست 25 سال بعد اکٹھے ہو گئے۔ اب کبھی کبھی ”دوستوں کی یہ انجمن“ کبھی نہ کبھی کہیں اکٹھی ہوجاتی ہے، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ زیادہ تر بلکہ بیشتر اوقات اس کا سہرا سجاد قریشی کے سر رہتا ہے کہ وہ کبھی اپنے گھر اور کبھی گھر سے باہر ”لذت کام و دہن“ پر مدعو کرتا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہم ”67 سالہ لاہوری بوڑھوں“ نے اِس عمر میں بھی ”کھابہ نہیں چھوڑا“ جاتا۔
سجاد قریشی کی کھانے کی دعوت میں دوستوں کو مدعو کرنے کی ذمہ داری عرفان بادشاہ کی ہے اور وہ کمال ذمہ داری سے یہ کام کرتا ہے، لیکن اِس دفعہ وہ چُوک گیا۔ سجاد قریشی نے پائے کھلانے کا سوچا تو قرعہ فال چوبرجی لاہور میں گوجرانوالہ کے غنی پائے والے کے نام نکلا۔ کسی نے بتایا گوجرانوالہ کے معروف پائے والے ہیں،جو اب لاہور میں ”دھوم مچا رہے“ ہیں، لیکن بدقسمتی سے یہ ڈس انفارمیشن تھی، وہ دکان تو بند ہوچکی تھی۔ بہرحال ”بوڑھے“ تو گھر سے نکل چکے تھے، رابطے شروع ہوئے، باہمی رابطوں سے فیصلہ ہوا کہ حیدری بونگ پائے دھرم پورہ پہنچا جائے۔ میں گھر سے نکلتے وقت ”ڈیٹا“ آن کرنا بھول گیا تھا لہٰذا چوبرجی پہنچا تو ”دکان“ بند ملی۔ عرفان بادشاہ سے رابطہ کیا اور پھر جس اِن ڈرائیو کار میں چوبرجی گیا تھا اسی سے حیدری بونگ پائے پہنچ گیا۔
”لاٹھی ٹیکتے“ حیدری بونگ پائے کی دوسری منزل پر پہنچا تو سامنے ہی دوستوں کی محفل جمی تھی۔ سجاد قریشی، نعیم چٹھہ، مبشر بٹ، شہباز خان، احمد رضا، افضل، عرفان بادشاہ سب موجود تھے، لیکن کچھ دوستوں کی کمی پھر بھی محسوس ہوئی کاش سابق ناظم راوی ٹاؤن قیصر امین بٹ، کویت والے عدیل اکبر، اسلام آباد والا سینئر بیوروکریٹ عارف ابراہیم اور دیگر دوست بھی ہوتے تو کیا ہی اچھا ہوتا، لیکن پھر یاد آیا کہ اِس عمر میں جو میسر آجائے وہی غنیمت ہے۔ تاخیر سے پہنچا تھا، لہٰذا بکرے کے پائے، مغز اور نلی کے گودے سے بھرے پیالے سب ”بوڑھوں“ کے آگے سجے ہوئے تھے۔ میرے پہنچنے کی دیر تھی کہ ایسا ہی ایک گرما گرم پیالہ ”بھرپور تل والے نان“ کے ساتھ میرے سامنے بھی آگیا۔
پائے اور نان کے ساتھ لسی کے گلاس بھی جب سامنے ہوں تو پھر گفتگو کے لئے وقت کم ملتا ہے، لیکن جب پرانے دوست سامنے ہوں اور ان میں بھی نعیم چٹھہ جو امریکہ سے پاکستان پہنچا ہے، نعیم چٹھہ نے میٹرک کے بعد والد کا کاروبار جوائن کیا اور پھر 1989ء میں (کیلیفورنیا) امریکہ چلا گیا جہاں اُس نے پہلے ریسٹوڑنٹ کھولا اور پھر اسے کامیابی سے چلانے کے بعد وہ اب رئیل سٹیٹ کے کاروبار میں مصروف رہتا ہے لیکن اس کا دِل امریکہ میں کم پاکستان میں زیادہ لگتا ہے کہ جلدی جلدی پاکستان بلکہ لاہور آجاتا ہے۔
مبشر بٹ ہمارے پرانے آقا، یعنی گوروں کے دیس برطانیہ کا باسی بن چکا ہے۔ میٹرک کے بعد ہیلی کالج سے بی کام کرنے والے مبشر نے مشہور BCCI بینک جوائن کیا اور برطانیہ چلا گیا۔ بی سی سی آئی کے بعد الفلاح بینک اور بینک آف پنجاب میں بھی کام کیا،اب وہ بھی برطانیہ اور لاہور کے درمیان شٹل کاک بنا ہوا ہے جب دِل کرتا ہے لاہور آجاتا ہے بچے یاد آتے ہیں تو لندن واپس چلا جاتا ہے۔
پائے کھانے والے دیگر بوڑھوں میں شہباز خان نے میٹرک کے بعد انجینئرنگ یونیورسٹی سے الیکٹریکل انجینئرنگ کی ڈگری لی اور پھر پی ٹی سی ایل میں نوکری کی جہاں سے وہ ڈویژنل انجینئر کے عہدے پر پہنچ کر ریٹائر ہوا۔ افضل 1978ء میں دبئی چلا گیا، 8 سال وہاں گزارنے کے بعد پاکستان آیا توہال روڈ پر کام شروع کیا، 98ء تک وہاں مصروف رہا، پھر کنسٹرکشن کا کاروبار شروع کیا اب بھی کنسٹرکشن اور رئیل سٹیٹ کے کاروبار سے منسلک ہے۔ احمد رضا جس کے سر ”بوڑھوں کی اس انجمن“ کو اکٹھا کرنے کا سہرا ہے، میٹرک کے بعد سائنس کالج وحدت روڈ گیا، وہاں سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد گورنمنٹ کنٹریکٹر بنا، 1984ء میں سعودیہ چلا گیا، چار سال وہاں پر کام کیا اور اب پراپرٹی بزنس کنسلٹنٹ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ بوڑھوں کی اِس محفل کی رونق اور بوڑھوں کو ”جمع کرنے والا“ عرفان بادشاہ تعلیم کے بعد والد کے پرنٹنگ پریس اتحاد بکس انارکلی سے وابستہ ہوا اور پھر مختلف کاروبار کرتا ہوا ہمارے ساتھ بوڑھا ہوگیا ہے۔ سب کا تذکرہ ہوگیا لیکن میزبان سجاد قریشی کا باقی ہے، سجاد ایک خوش قسمت انسان ہے،اس کے والد نے 1970ء میں المکہ پریس لارنس روڈ سے جس کام کا آغاز کیا اس کو عروج پر سجاد قریشی نے پہنچایا اور آج اس کام کو مزید بلندیوں پر لیجا رہا ہے۔ المکہ پریس اب گجومتہ فیروزپور روڈ کی ایک وسیع عمارت میں منتقل ہو چکا ہے۔ سجاد کی ایک خوبی جو مجھے سب سے زیادہ پسند آئی وہ ”ماحول دوست“ ہے، اس کے گھر جائیں تو گھر کے باہر کی گرین بیلٹ، گھر کے لان سے لیکر اوپر چھت تک صرف سبزہ ہی سبزہ ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کسی گھر نہیں کسی باغیچے میں آگئے ہوں۔ دوستوں کی یہ محفل دو گھنٹے جاری رہی اور پھر سب بوڑھے اپنے اپنے ”آشیانوں“ میں واپس چلے گئے۔ گھر واپس پہنچنے پر مرحوم شعیب اکبر نجانے کیوں بہت یاد آیا، شاید ہم نام تھا اس لئے، وہ محکمہ انہار میں سپرنٹنڈنگ انجینئر تھا۔ رپورٹنگ کے لئے اس محکمے میں کئی بار گیا مگر افسوس آمنا سامنا نہیں ہوا۔

