لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر اہتمام تین روزہ لاہور شاپنگ فیسٹیول کا دوسرا روز بھی لاہور ایکسپو سینٹر میں بھرپور کاروباری سرگرمیوں، عوامی دلچسپی اور بین الاقوامی شرکت کے ساتھ جاری رہا۔ فیسٹیول میں 150 سے زائد سٹالز پر معروف قومی و بین الاقوامی برانڈز، گھریلو مصنوعات، گارمنٹس، فوڈ، لائف سٹائل اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں نے اپنی مصنوعات کی نمائش کی۔
دوسرے روز ترکیہ کے قونصل جنرل مہمت ایمن شمشیک، سری لنکا کے اعزازی قونصل یاسین جوئیہ اور 20 رکنی چینی تجارتی و سیاحتی وفد نے خصوصی طور پر فیسٹیول کا دورہ کیا۔ غیر ملکی مہمانوں نے مختلف اسٹالز میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور پاکستان کی کاروباری برادری کی کاوشوں کو سراہا۔صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمٰن سہگل، سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، نائب صدر خرم لودھی اور ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔

ترکیہ کے قونصل جنرل نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات موجود ہیں اور ایسے تجارتی ایونٹس ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور شاپنگ فیسٹیول جیسے پلیٹ فارم دونوں ممالک کے درمیان بزنس تعاون کے نئے مواقع پیدا کرتے ہیں۔ چینی وفد نے بھی پاکستان میں موجود کاروباری مواقع اور مارکیٹ کی صلاحیت کو سراہا۔
صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ لاہور شاپنگ فیسٹیول مقامی صنعت، تجارت اور برانڈز کے فروغ کے لیے ایک مؤثر اور نتیجہ خیز پلیٹ فارم ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیسٹیول کا مقصد نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے بلکہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو پاکستان کی مارکیٹ سے جوڑنا بھی ہے۔ سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ اور نائب صدر خرم لودھی نے کہا کہ ایسے ایونٹس کاروباری برادری کے لیے نئی مارکیٹنگ کے مواقع پیدا کرتے ہیں اور مقامی معیشت کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

فیسٹیول میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور مختلف سٹالز سے خریداری کے ساتھ ساتھ تفریحی سرگرمیوں سے بھی بھرپور لطف اٹھایا۔ترکیہ کے قونصل جنرل نے اپنے تاثرات میں کہا کہ ترکیہ پاکستان کی متحرک کاروباری برادری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے مزید فروغ کے خواہاں ہیں۔ فیسٹیول کے دوسرے روز کی سرگرمیوں نے یہ واضح کیا کہ لاہور شاپنگ فیسٹیول 2026 نہ صرف مقامی کاروباری ترقی بلکہ خطے میں بین الاقوامی تجارتی روابط کے فروغ کے لیے بھی ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر ابھر رہا ہے۔

