لاہور (نمائندہ خصوصی)پاکستان کے سینئر اداکار، ہدایت کار اور تھیٹر کے معروف فنکار عثمان پیرزادہ نے اپنی زندگی پر بننے والی ممکنہ بائیوپک اور زیرِ تحریر سوانح عمری کے حوالے سے دلچسپ انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کی زندگی پر فلم بنائی گئی تو سب سے پہلے ان کی بائیوپک ہی سنسر ہوجائے گی۔
ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عثمان پیرزادہ نے اپنی زندگی پر کتاب لکھنے اور مستقبل میں بائیوپک بنائے جانے کے امکان پر بات کی۔ اپنی زندگی پر بننے والی فلم کے ممکنہ عنوان سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے برجستہ کہا کہ ’’سب سے پہلے تو میری بائیوپک سنسر ہو جائے گی۔‘‘
عثمان پیرزادہ نے بتایا کہ وہ اس وقت اپنی سوانح عمری لکھنے کے مرحلے میں ہیں، تاہم انہیں یہ فیصلہ کرنے میں دشواری پیش آتی ہے کہ زندگی کے کون سے واقعات کتاب میں شامل کیے جائیں اور کن واقعات کو حذف کردیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ کتاب ان کی زندگی کی داستان ہوگی، اس لیے اس میں سچ شامل ہونا چاہیے، کیونکہ اگر اہم واقعات کو بیان نہ کیا جائے تو یہ قارئین کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔
سینئر اداکار نے بتایا کہ وہ اب بھی کتاب لکھ رہے ہیں اور جب بھی کوئی بات یا واقعہ ذہن میں آتا ہے تو اسے لکھ لیتے ہیں۔ ان کے بقول کتاب اب ایک اچھی شکل اختیار کررہی ہے۔
عثمان پیرزادہ نے بتایا کہ ان کے بچے بھی انہیں مشورہ دیتے ہیں کہ یہ کتاب ضرور لکھی جانی چاہیے تاکہ مداح اسے پڑھ سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں میں مطالعے کا رجحان کم ہوگیا ہے اور آج کل لوگ کتابیں پڑھنے کے بجائے کمپیوٹر اور دیگر ذرائع میں زیادہ مصروف رہتے ہیں۔
انہوں نے موجودہ نسل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’جین زی‘‘ نے مطالعہ چھوڑ دیا ہے، جبکہ ان کی کتاب ایک طویل عرصے اور زندگی کے بہت سے واقعات پر محیط ہوگی۔
عثمان پیرزادہ کا کہنا تھا کہ ان کی سوانح عمری صرف ان کی اپنی نسل کیلئے نہیں بلکہ آنے والی نسل کیلئے بھی اہم ہوسکتی ہے، کیونکہ جس دور میں انہوں نے زندگی گزاری وہ آج کے پاکستان سے مختلف تھا۔
انہوں نے کہا کہ ان کے زمانے کا پاکستان ایک متحرک، جدید اور رنگا رنگ ملک تھا اور ان کی زندگی کے تجربات اور اس دور کے حالات نئی نسل کیلئے ماضی کے پاکستان کو سمجھنے کا ایک ذریعہ بن سکتے ہیں۔

