مسی ساگا: لی فیئرکلاف کے اعزاز میں میٹ اینڈ گریٹ،عوامی اعتماد کی بحالی پر زور

مسی ساگا (اشرف خان لودھی سے) اونٹاریو لبرل پارٹی کی قیادت کی امیدوار اور ایٹوبیکوک لیک شور سے ایم پی پی لی فیئرکلاف سے ملاقات اور صوبے کی بہتری و ترقی کے حوالے سے ان کے منشور پر تبادلہ خیال کیلئے مسی ساگا میں خصوصی میٹ اینڈ گریٹ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں پنکج سندھو,منو دتہ,بھاوک پاریکھ,اوتار منہاس, احسن ضیااور باباعرفان ملک سمیت پارٹی رہنماؤں، کارکنان اور کمیونٹی کے افراد نے شرکت کی۔

تقریب میں لی فیئرکلاف کے سیاسی وژن، صحت، تعلیم، روزگار، استطاعت، عوامی اعتماد کی بحالی اور کینیڈا و امریکا کے تجارتی تعلقات سمیت مختلف امور پر گفتگو کی گئی۔

لی فیئرکلاف نے تقریب میں شریک افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ بہت سے لوگ طویل عرصے سے لبرل پارٹی کے ساتھ وابستہ ہیں اور پارٹی کی سرگرمیوں میں شرکت کیلئے موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ ایٹوبیکوک لیک شور کی ایم پی پی اور لبرل کاکس میں اسپتالوں، ذہنی صحت، نشے کی لت اور بے گھری کے معاملات کی نقاد ہیں اور روزانہ ڈگ فورڈ کی حکومت کو جوابدہ بنانے کیلئےکام کرتی ہیں۔

لی فیئرکلاف نے کہا کہ وہ پورے اونٹاریو کا دورہ کرچکی ہیں اور اب تک صوبے کے 84 حلقوں میں جاچکی ہیں۔ مختلف علاقوں کے لوگ تبدیلی چاہتے ہیں اور اونٹاریو لبرلز سے اس تبدیلی کی قیادت کی توقع رکھتے ہیں۔

کینیڈا اور امریکا کے درمیان موجودہ تجارتی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے لی فیئرکلاف نے کہا کہ اس وقت سب ’’ٹیم کینیڈا‘‘ کے طور پر زیادہ متحد ہیں اور ملک کو مضبوطی سے کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ اونٹاریو کی وزیرِاعلیٰ بنیں تو وزیراعظم مارک کارنی کے ساتھ مل کر کام کریں گی تاکہ کینیڈا کامیاب ہو اور اونٹاریو کے مفادات کا تحفظ کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ آٹھ سال کے دوران لوگوں کیلئےمطلوبہ صحت کی سہولیات حاصل کرنا مشکل رہا ہے، اس لیے صحت کے نظام میں بہتری لانا ضروری ہے۔ تعلیم کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بچوں کیلئےمعیاری تعلیم کے ساتھ پوسٹ سیکنڈری تعلیم کے مواقع بھی یقینی بنانا ہونگے اور او ایس اے پی میں کی گئی تبدیلیوں کو واپس لینے پر توجہ دینا ہوگی۔

لی فیئرکلاف نے اپنے سیاسی سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دیہی اونٹاریو میں پرورش پائی اور 25 سال صحت کے شعبے میں کام کیا۔ انہوں نے 2022 میں ایٹوبیکوک لیک شور سے صوبائی انتخاب لڑا، جس میں شکست کے باوجود دوبارہ میدان میں اتریں اور جدوجہد جاری رکھی۔

انہوں نے کینیڈین ویمنز رگبی ٹیم کے ساتھ اپنے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹیم کا حصہ بننے سے انہوں نے محنت، مقابلہ کرنے اور شکست کے بعد دوبارہ میدان میں اترنے کا سبق سیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اونٹاریو لبرلز ایک ٹیم ہیں اور پارٹی کو متحد ہوکر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

لی فیئرکلاف نے کہا کہ وہ وزیرِاعلیٰ بنیں تو تعلیم اور صحت کو دوبارہ اولین ترجیحات میں شامل کریں گی، خاندانوں خصوصاً نوجوانوں کیلئےاستطاعت کے مسائل سے نمٹیں گی اور ایسا مستقبل یقینی بنانے کی کوشش کریں گی جس میں نوجوانوں کو اونٹاریو میں آگے بڑھنے کے مواقع نظر آئیں۔

انہوں نے کہا کہ اونٹاریو کے تمام علاقوں کیلئے ایسا مضبوط معاشی نظام ضروری ہے جو روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے۔ وہ کینیڈا بھر کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ مل کر کام کریں گی تاکہ نئی ملازمتیں پیدا ہوں اور مزید روزگار کے مواقع اونٹاریو آئیں۔

لی فیئرکلاف کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت عوام کا اعتماد بحال کرنے کیلئےٹیکس دہندگان کے پیسے دانشمندی سے خرچ کریگی، مطلوبہ نتائج پر توجہ دے گی اور حکومتی معاملات میں ایمانداری و شفافیت یقینی بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ اونٹاریو کے بہترین دن ابھی آگے ہیں اور صوبے کی کمیونٹیز مزید ترقی کرسکتی ہیں، مضبوط اور محفوظ بن سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ موجودہ وقت میں قیادت کیلئے خود کو موزوں امیدوار سمجھتی ہیں کیونکہ ان کے پاس سیاسی و پیشہ ورانہ تجربہ ہے اور صحت کے شعبے میں کئی سال کام کرنے کے باعث وہ لوگوں کی ضروریات اور مشکلات کو سمجھتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ 16 اور 19 سال کے دو نوعمر بیٹوں کی والدہ ہیں اور اپنے بچوں سمیت تمام نوجوانوں کے مستقبل کیلئےبہترین مواقع چاہتی ہیں۔

لی فیئرکلاف نے تقریب میں موجود افراد سے اپیل کی کہ وہ ان کی انتخابی مہم کا حصہ بنیں اور ان کی حمایت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اونٹاریو لبرلز دوبارہ میدان میں اترنے کیلئےتیار ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اونٹاریو لبرل پارٹی کے سینٹرل ویسٹ کے ریجنل وائس پریزیڈنٹ سکھونت تھیٹی نے بارش کے باوجود بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ تقریب کا مقصد لی فیئرکلاف کو سننا، ان کے مؤقف سے آگاہ ہونا اور شرکا کو ان سے براہِ راست گفتگو کا موقع فراہم کرنا ہے۔

سکھونت تھیٹی نے کہا کہ اونٹاریو لبرل پارٹی کی قیادت کا مقابلہ آسان نہیں، اس میں 6 امیدوار حصہ لے رہے ہیں اور قیادت کیلئے انتخاب لڑنے میں بہت زیادہ عزم، وقت اور ذاتی قربانی درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے تمام امیدواروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اپنی حیثیت میں لی فیئرکلاف کی حمایت کا باضابطہ اعلان کیا۔

سابق کینیڈین رکنِ پارلیمنٹ رمیشور سنگھا نے بھی تقریب میں لی فیئرکلاف کی حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کینیڈین رکنِ پارلیمنٹ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور متعدد انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں سیاسی عمل اور انتخابی مقابلوں کا تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے لی فیئرکلاف کو ذہین، تجربہ کار، محنتی، دیانت دار اور قابلِ احترام قرار دیتے ہوئے ان کی قیادت کی حمایت کی۔

دوسری جانب ہریندر ٹھاکر نے کہا کہ اونٹاریو لبرل پارٹی کی قیادت کا انتخاب صوبے کے مستقبل کیلئےانتہائی اہم ہے اور وہ کسی امیدوار کی حمایت کا فیصلہ اس کی پالیسیوں کا جائزہ لینے کے بعد کریں گے۔

ہریندر ٹھاکر نے کہا کہ ایسے پروگرام جمہوری نظام کیلئےاہم ہیں اور وہ تقریب میں کسی امیدوار کی حمایت کا اعلان کرنے کے بجائے لوگوں کو سننے کیلئے آئے ہیں۔ ان کے مطابق صوبے کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو عوام کے مسائل اور مشکلات کو سمجھتی ہو اور صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور خصوصاً روزگار جیسے بنیادی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

انہوں نے کہا کہ لبرل پارٹی گزشتہ کئی برسوں کے دوران اپنی بنیادی سیاسی سمت سے دور ہوگئی ہے اور مرکز سے بائیں جانب بہت زیادہ چلی گئی ہے، اسلئے پارٹی کو اپنی بنیادی اقدار کی طرف واپس آنے کی ضرورت ہے۔

ہریندر ٹھاکر نے کہا کہ وہ قیادت کے تمام امیدواروں سے رابطہ کرکے ان کی پالیسیوں اور اونٹاریو کیلئے ان کے منصوبوں کو جاننا چاہتے ہیں، جس کے بعد اپنی حمایت کا فیصلہ کرینگے۔ انہوں نے امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کی تقریباً 75 فیصد تجارت امریکا کے ساتھ ہے اور اگر امریکا کے ساتھ قابلِ عمل تجارتی معاہدہ نہ ہوا تو اونٹاریو کو بھی اس کے معاشی اثرات کا سامنا کرنا پڑیگا۔