اوٹاوا (بی بی سی، کینیڈین قومی اعداد و شمار): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں، کینیڈا کے بارے میں بیانات اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باعث کئی کینیڈین شہری امریکا کے سفر کا بائیکاٹ کرکے اپنے ملک اور دیگر ممالک میں سیاحت کو ترجیح دے رہے ہیں۔
لندن، اونٹاریو سے تعلق رکھنے والے کین ٹرسکاٹ اور ان کے خاندان نے 2024 کے اواخر سے امریکا کے سفر کا مکمل بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ خاندان نے ٹیکساس میں اسپیس ایکس کے اسٹارشپ لانچ کو دیکھنے کیلئےگزشتہ موسم بہار میں امریکا جانے کا منصوبہ منسوخ کرکے وہ رقم کینیڈا کے صوبوں نووا اسکاٹیا اور پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ میں خرچ کی۔
قومی اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں امریکا جانے والے کینیڈین روڈ ٹرپس میں معمولی اضافہ ہوا، تاہم 2024 کے اسی مہینے کے مقابلے میں کینیڈین شہریوں نے امریکا کے تقریباً 8 لاکھ کم دورے کیے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا میں کینیڈین سیاحت کے بائیکاٹ کے باعث گزشتہ سال امریکی سفری آمدنی میں تقریباً 3.3 ارب کینیڈین ڈالر کی کمی ہوئی، جبکہ کینیڈین شہریوں نے یہ رقم بیرون ملک یا اپنے ہی ملک میں خرچ کرنے کو ترجیح دی۔
امریکی شہروں اور ریاستوں نے کینیڈین سیاحوں کو واپس متوجہ کرنے کیلئےخصوصی تشہیری مہمات اور رعایتیں بھی شروع کی ہیں۔ نیویارک سٹی کے سیاحتی ادارے نے جولائی میں کینیڈین سیاحوں کیلئےبراڈوے ٹکٹوں اور ہوٹلوں پر 30 فیصد رعایت دینے کا اعلان کیا تھا۔
کینیڈا کے شہر اوٹاوا میں رہنے والی لنڈا روسو اور ان کے شوہر جو نے نیویارک سے روانہ ہونے والی پاناما کینال کروز منسوخ کرکے روم اور بارسلونا سے روانہ ہونے والی کروز کا انتخاب کیا۔ دونوں نے امریکا میں موسم سرما گزارنے والے کینیڈین شہریوں کیلئے استعمال ہونے والی اصطلاح ’’سنو برڈز‘‘ کے طور پر امریکا جانے کا منصوبہ بھی ترک کردیا ہے۔
برٹش کولمبیا سے تعلق رکھنے والے نک اسمتھ نے بھی امریکا کے سفر سے گریز کرتے ہوئے میکسیکو سٹی کے لیے وینکوور سے براہ راست پرواز کا انتخاب کیا۔ بعدازاں وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ مراکش گئے جہاں انہوں نے مراکش، فیز اور الصویرہ سمیت مختلف شہروں کا دورہ کیا اور رمضان کے دوران وہاں قیام کیا۔
برٹش کولمبیا کی رہائشی کرسٹی مچل نے امریکا کے بجائے اسپین میں 790 کلومیٹر طویل کیمینو فرانسس پیدل سفر مکمل کیا۔ انہوں نے اپنی 50ویں سالگرہ لاس ویگاس جانے کے بجائے اسپین میں منانے کا فیصلہ کیا۔
مچل کا کہنا ہے کہ وہ امریکا اور امریکی عوام سے محبت کرتی ہیں تاہم موجودہ امریکی انتظامیہ کی حمایت کرنے کیلئے اپنی خریداری کی طاقت استعمال نہیں کرنا چاہتیں۔رپورٹ کے مطابق متعدد کینیڈین شہریوں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی تبدیلی کے باوجود امریکا کا دوبارہ سفر کرنے کیلئے کینیڈا اور امریکا کے درمیان تعلقات کی بحالی اور مفاہمت کے عملی اقدامات ضروری ہوں گے۔

