پشاور: 13 سالہ بچی کی زبردستی شادی کیس کا تحریری فیصلہ جاری

پشاور(نامہ نگار) چائلڈ پروٹیکشن کورٹ نے نواحی علاقے پھندو میں 13 سالہ بچی کی مبینہ زبردستی شادی کے خلاف درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کردیا۔عدالت نے حکم دیا ہے کہ بچی کی عمر 16 سال ہونے تک نہ اس کی شادی کی جائیگی اور نہ ہی رخصتی ہوگی۔ بچی کے والد نے بھی عدالت میں اس فیصلے سے اتفاق کیا ہے۔

چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کے افسر نے بچی کی مبینہ زبردستی شادی کے خلاف درخواست دائر کی تھی، جس پر سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ جاری کیا۔فیصلے کے مطابق سماجی کارکن اور چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کی ماہرِ نفسیات کی موجودگی میں بچی کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

دورانِ سماعت بچی کے والد، دادا اور دادی نے شادی کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس روز صرف منگنی کی تقریب منعقد کی گئی تھی۔عدالت نے چائلڈ پروٹیکشن آفیسر کو بچی کی حفاظت سے متعلق ہر تین ماہ بعد فالو اپ رپورٹ جمع کرانے کی بھی ہدایت کی ہے۔