یوم آزادی کو سول و ملٹری اعزازات کا اعلان صرف ایک روایت ہی نہیں بلکہ قوم کی زندگی کی علامت بھی ہے۔ یعنی وہ معاشرے جو اپنی اُن ہستیوں کو یاد رکھتے ہیں اور اُن کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں جن کی وجہ سے ملک اور قوم کی عزت و وقار میں اضافہ ہوا ہو زندہ معاشرے کہلاتے ہیں۔ اِس بار 14اگست 2026ء کو جب ایسی شخصیات کی فہرست سامنے آئی تو بعض ناموں کو دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی اور محسوس ہوا کہ سول اعزازات کیلئے شخصیات کے انتخاب میں کچھ نہ کچھ میرٹ کو بھی سامنے رکھا گیا ہے۔ اِن میں سے میں خاص طور پر چند شخصیات کا ذکر کرنا چاہوں گا جن میں سب سے پہلے بانی پاکستان قائداعظمؒ کے قیام پاکستان سے قبل کے وہ دو ڈاکٹر صاحبان تھے جنہوں نے قائداعظمؒ کی شدید علالت کو دشمنوں اور عیاروں کے سامنے ظاہر نہیں ہونے دیا۔ یہ دونوں شخصیات یعنی فزیشن ڈاکٹر جل رتن جی پٹیل اور ریڈیالوجسٹ ڈاکٹر جل ڈائبو پارسی تھے۔ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو بہترین طریقے سے نبھاتے ہوئے بانی پاکستان کی علالت کی پرائیویسی کو برقرار رکھا جس کے باعث یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انہوں نے قیام پاکستان میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔ وہ اس طرح کہ قیام پاکستان کے بعد مائونٹ بیٹن نے اپنی بدنیتی ظاہر کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اگر انہیں قائداعظمؒ کی شدید بیماری کا پہلے پتا چل جاتا تو وہ پاکستان کے قیام میں تاخیر کردیتے۔ اسلئےآج 80برس بعد اِن دونوں ڈاکٹر صاحبان کو جب سول اعزاز نشان قائداعظم دینے کا اعلان کیا گیا تو دل موجودہ حکومت کیلئے اظہارِ تشکر کے ساتھ ساتھ اِن دونوں معالجین کیلئے احترام کے جذبات سے بھی بھرپور تھا۔
محمد اسد کو نشان امتیاز دیا گیا۔ یہ وہی محمد اسد ہیں جنہیں ہم اُن کی آپ بیتی ’’روڈ ٹو مکہ‘‘ کے حوالے سے جانتے ہیں۔ وہ ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئے مگر اسلامی تعلیمات کے بغور مطالعہ کے بعد عین نوجوانی کی عمر یعنی 26برس میں اسلام قبول کرلیا اور اسلامی نام محمد اسد رکھا۔ وہ شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کے کلام سے بہت متاثر تھے اور اُن سے ملاقات کیلئے برٹش انڈیا آئے۔ انہوں نے علامہ اقبالؒ کے کہنے پر تحریک پاکستان کو بہت سپورٹ کیا۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے پاکستان کی شہریت اختیار کرلی اور کئی بین الاقوامی اہم سفارتی دفاتر میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔ یہ بھی پاکستان کیلئےاُن پرخلوص شخصیات میں سے ایک ہیں جن کو پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ عزت کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔
عہد ماضی کے بعد عہد حاضر کی سول اعزازات حاصل کرنے والی شخصیات کے نام نظر سے گزرے تو پروفیسرڈاکٹر محمد خورشید الحسن رضوی صاحب کو شاعری اور علمی خدمات کے اعتراف میں ہلال امتیاز کا اعزاز ملنے پر دل باغ باغ ہوگیا۔ میں پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب کو اِس دور میں علم و ادب، درس و تدریس، تحقیق، لسانیات، تہذیب و اخلاقیات کا زندہ پیر سمجھتا ہوں۔ وہ عربی، فارسی، اردو اور انگریزی سمیت کئی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔ اُن کی 15سے زائد علمی ادبی اور تحقیقی شاہکار کتابیں سامنے آچکی ہیں۔ اِن میں سے ایک کتاب ’’عربی ادب قبل از اسلام‘‘ کا ذکر خاص طور پر ضروری ہے۔ یہ اسلام سے قبل کے عرب معاشرے کے ادب کا اردو میں پہلا تفصیلی تنقیدی جائزہ ہے۔ بلاشبہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جسے ہم اردو ادب کی عظیم کتابوں میں شامل کرسکتے ہیں۔ پروفیسرڈاکٹر خورشید رضوی صاحب کا شمار ایسی شخصیات میں ہوتا ہے جو مذہب، مشرقی تہذیب، رواداری، پاکستان سے محبت، بھائی چارے، دوسروں کا احترام اور اخلاقیات کا چراغ اب بھی جلائے ہوئے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب کو جب 2008ء میں ستارہ امتیاز کے سول اعزاز سے نوازا گیا تو یہ واقعہ بتاتے ہوئے اُن کی آنکھوں سے والدین کا بے پناہ احترام چھلک پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ جب ستارہ امتیاز ملنے کی خبر اپنی والدہ محترمہ جو اُس وقت حیات تھیں کو سنائی تو والدہ محترمہ نے کہا کہ یہ اعزاز میں آپ کو پہنائوں گی۔ اس طرح وہ اعزاز اُن کیلئےماں کی محبت سے کندن بن گیا۔ جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب اُن میں سے ہیں جو معاشروں کا احترام ہوتے ہیں اور وہ خود دوسروں کا بھی بے پناہ احترام کرتے ہیں۔ مثلاً جب وہ ساہیوال منٹگمری میں جواں سال طالب علم تھے تو ڈاکٹر ایس ایم زمان صاحب اُن کے اساتذہ میں سے تھے۔ کئی دہائیاں گزر جانے اور اِس علمی مرتبے پر فائز ہونے کے باوجود جب بھی وہ ڈاکٹر ایس ایم زمان صاحب کا ذکر کرتے ہیں یا اُن سے ملتے ہیں تو ڈاکٹر ایس ایم زمان صاحب کیلئےاُن کا احترام اور خلوص قابل رشک ہوتا ہے۔ میری حکومت وقت سے چند گزارشات ہیں کہ پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب جیسی شخصیات کو دنیا بھر میں پاکستانی سفارتخانوں کے ذریعے وہاں مقیم نوجوان پاکستانیوں اور وہاں کی مقامی نوجوان نسل کے ساتھ مسلسل انٹریکشن کرایا جانا چاہئے تاکہ پاکستان اور ہماری اقدار کے بارے میں وہ جان سکیں۔ دوسرا یہ کہ ایسی شخصیات کو پاکستان کی جین زی کے ساتھ یونیورسٹیوں اور دیگر درسگاہوں کے ذریعے مسلسل رابطے میں رکھنا چاہئے تاکہ ہمیں نوجوان نسل کے بارے میں زیادہ گلے شکوے پیدا نہ ہوں۔ تیسرا یہ کہ پاکستان میں ایئرپورٹس اور بیرون ملک پاکستانیوں کی نجی کاروباری جگہوں پر پاکستان کی نامور شخصیات خاص طور پر کھلاڑیوں وغیرہ کی تصاویر آویزاں ہوتی ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر ایس ایم زمان صاحب اور پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب جیسی شخصیات کی بھی تصاویر آویزاں ہوں تاکہ نئی نسل اپنی معاشرتی اور اخلاقی اقدار سے رابطے میں رہے۔ حکومت پاکستان نے قائداعظمؒ کے معالجین، محمد اسد اور پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب کو سول اعزازات سے نوازا ہے۔ میرے خیال میں اِن شخصیات کے نام سول اعزازات کیلئے اعزاز ہیں۔

