عدلیہ اور سرکار ،، ایک سیر تو دوسرا سوا سیر!

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی تحریک انصاف کی نجی ہسپتال منتقلی کی خبریں تھیں، کہ ملک بھر میں افواہوں کا ایک بھونچال آگیا،،، بیماری تو درمیان میں ہی اٹک گئی مگر کئی مفروضوں نے جنم لے لیا۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ ”اب صوبے ہسپتال سے نکلیں گے“ یعنی عمران خان کونئے صوبے بنانے کے حوالے سے راضی کیا جائے گا،،،(یہ اسلئے بھی تھا کہ ایک تو تحریک انصاف نئے صوبے بنانے کیلئےماضی میں خاصی سرگرم رہی ہے، دوسرا موجودہ سیٹ اپ پر دباﺅ بڑھانے کیلئےبھی ایسا کیا گیا ہوگا) ،،، اسی اثناءمیں کوئی کہہ رہا تھا کہ موجودہ حکومت پر دباﺅ بڑھانے کیلئےبانی کی ایک جھلک عوام کو دکھائی جائے گی اور ردعمل دکھایا جائے گا، تاکہ اگر موجودہ سرکار کسی کام میں ٹانگیں اڑائے بیٹھی ہے تو وہ اپنا قبلہ درست کر لے،،، کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ تحریک انصاف اور فیصلہ کرنے والی قوتوں کی آپس میں ڈیل ہو چکی ہے، اور ڈیل کی پہلی شرط یہ ہے کہ خان صاحب کو علاج معالجے کی سہولت دی جائے،،، جبکہ کچھ لوگ تو یہاں تک کہہ رہے تھے کہ ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ عدالتیں بانی تحریک انصاف کو ریلیف دے دیں، کیوں کہ اگر ایسا ہی کرنا تھا تو عدلیہ پر اتنی ”محنت “کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ خیر اسی لیے میں نجی ہسپتال شفا ءانٹرنیشنل ہسپتال میں منتقلی کی تیاریاں بھی مکمل کر لی گئیں،،، لیکن عین وقت پر حکومت نے ڈرامائی انداز میں بانی تحریک انصاف کو سرکاری ہسپتال ”پمز“ میں روٹین چیک اپ کروایا ،،، اور واپس جیل منتقل کر دیا گیا۔ اب یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ آخر حکومت میں اتنی طاقت کہاں سے آگئی کہ وہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو تسلیم کرنے کے بجائے اُسے روند ڈالے،،، حالانکہ سپریم کورٹ کے 18اگست کے آرڈرز موجود تھے کہ عمران خان کو دو دن کے اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال، اسلام آباد منتقل کیا جائے ،،، وہاں ان کا طبی معائنہ اور علاج ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ کی نگرانی میں ہونا تھا۔میڈیکل بورڈ میں فزیشن، جنرل سرجن، انٹرنل میڈیسن اسپیشلسٹ، آنکھوں کے ماہر اور کارڈیالوجسٹ شامل کرنے کی ہدایت کی گئی۔عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بھی طبی معائنے اور علاج کے عمل میں شامل رہنے کی اجازت دی گئی۔جبکہ عدالت نے حکومت سے عمران خان کا گرفتاری کے دن سے اب تک کا مکمل طبی ریکارڈ بھی طلب کیاتھا،،، لیکن بقول شاعر
ہم اپنی مرضیوں کے بادشاہ ہیں
آپ چاہے جو مرضی کر لیں
لیکن سرکار کا اتنے اہم فیصلے میں چکمہ دے جانا کسی کو ہضم نہیں ہورہا،،،چلیں اپوزیشن کی تو خیر ہے کہ اُس کی فی الوقت کیا ہی اہمیت رہ گئی ہے ،، مگر معذرت کے ساتھ عدالت عظمیٰ کے احکامات کو یوں نظر انداز کرنا اور ردی کی ٹوکری میں پھینکنا ایک ادارے کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا رہا ہے،،، جبکہ عوام حیران ہیں کہ ایسا کس لیے کیا گیا؟ کیا عوام اور میڈیا و سوشل میڈیا کا دھیان بٹا دیا گیا؟ کیوں کہ سرکار نے اس دوران ایک ایسا کام کر لیا ہے کہ جسے شاید نارمل حالات میں کرتے تو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا،،، یعنی ان دو دنوں میں قومی اسمبلی سے نئے ایکٹ بھی منظور کر لیے گئے،،، یعنی نئے قانون کے مطابق آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کو قانونی طور پر اہم ترین اختیارات مل گئے، قومی اسمبلی سے منظور شدہ ڈیفنس فورسز آف پاکستان ایکٹ میں اختیارات کا تعین کیا گیا ہے، مسلح افواج سے متعلق قوانین کے مطابق، آئین کے آرٹیکل 243 کے علاوہ، افواج پاکستان (نیوی، ائیر فورس، آرمی) کے کسی بھی شخص کو ملازمت سے ریٹائر، فارغ یا سبکدوش کر سکے گا، کسی کو بھی عمر کی حد میں رعایت دے سکے گا، مسلح افواج کے کسی بھی شخص کی ریٹائرمنٹ کی عمر یا ملازمت کی مدت میں کمی کر سکے گا۔ اس قانون میں اصل تبدیلی یہ ہے کہ آج کے بعد تمام تھری سٹار اور اس سے اوپر جنرلز (بشمول ائیر فورس، نیوی) کی تقرری اور ریٹائرمنٹ کا فیصلہ چیف آف ڈیفنس فورسز کریں گے، اس سے پہلے یہ اختیار وزیراعظم پاکستان کا تھا، آج وزیر اعظم کا نام ہٹا کر چیف آف ڈیفنس فورسز کردیا گیا ہے۔

ویسے تو بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ عوام کو سرکار نے ”ماموں“ بنا دیا ہے،،، لیکن حقیقت کیا ہے؟ یہ تو جلد پتہ چل جائے گا،،، مگر اس وقت تحریک انصاف کی قیادت حیران و پریشان ہے کہ اُن کے ساتھ ایسا برتاﺅ کرنے کی آخری حد کب ختم ہوگی؟ اس پر تحریک انصاف کی قیادت پرزور احتجاج کرتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے برخلاف عمران خان کو طبی معائنے کیلئےشفا ہسپتال کے بجائے پمز ہسپتال لے جانے پر انتظامیہ اور حکومت کا کل کا رویہ انتہائی افسوسناک تھا اور ایسا کر کے وہ سپریم کورٹ اورعدالت کے تین ججز کے حکم کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں۔اسی حوالے سے عمران خان کی بہن عظمیٰ خان اور ڈاکٹر فیصل کے ہمراہ وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے بھی پریس کانفرنس کی اور کہا کہ ’اگر عدلیہ اپنے احکامات پر عمل نہیں کروائے گی تو عوام کس کی جانب رخ کرے۔ یہ پاکستان کی تمام عدالتوں کی توہین ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ججز فیصلہ کریں کہ کیا عدالت کو تالے لگوانے ہیں یا اپنے حکم پر عمل درآمد کروانا ہے۔ ججز کو آج ہی اس کا فیصلہ کرنا چاہیے۔اس کے علاوہ انہوں نے اعلان کیا کہ ’ہم اپنی تحریک چلائیں گے کیونکہ ہمیں عمران خان کے احکامات پر عمل درآمد کرنا ہے اور فیصلے پر عمل در آمد نہ کروانے پر توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کریں گے۔‘جبکہ اُن کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ رات کے اندھیرے میں پہلے پتا نہیں چلا لیکن آدھے پونے گھنٹے میں ہم اڈیالہ سے شفا ہسپتال پہنچے جہاں سکیورٹی تھی پھر کہا گیا کہ آپ انتظار کریں۔ڈاکٹر فیصل کے مطابق ’ڈھائی سے تین گھنٹے ہم انتظار کرتے رہے اور ہر بار پوچھنے پر ہمیں بتایا جاتا رہا کہ ابھی پہنچ رہے ہیں اور پھر تقریبا رات کے ساڑھے چار ہوئے تو انھوں نے کہا کہ شاید وہ نہیں پہنچ پائیں گے تو ہم واپس اڈیالہ پہنچے وہاں جا کر میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر عظمی دوسری گاڑی سے واپس اڈیالہ پہنچیں جنھوں نے بتایا کہ وہ پمز سے آ رہی ہیں۔

اس دوران عظمی خان نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کا صرف بلڈ پریشر لیا گیا اور آنکھ کا چیک اپ کیا گیا۔عظمی خان نے دعویٰ کیا کہ ’بار بار پوچھنے کے بعد ہمیں کہا کہ ان کی آنکھ کا فالو اپ ہونا ہے اس لیے ہم پمز آئے ہیں جہاں ان کی آنکھ کی سرجری ہوئی تھی۔ پھر ہم اندھیرے میں بیٹھے رہے۔ پمز میں اندھیرا تھا فون کی لائٹ سے ہم کو راستہ دکھایا گیا۔وہ لوگ ہم کو اوپر کہیں لے گئے جہاں عمران خان بیٹھے تھے۔ وہ بھی مجھے دیکھ کر حیران رہ گئے۔ اور کہا میں نے اپنی بہن کو دس ماہ بعد دیکھا ہے۔ وہاں ڈاکٹرز کو میں نہیں پہچانتی تھی مگر ڈاکٹر فیصل وہاں نہیں تھے۔رات کے دو تین بجے ہوں گے عمران خان کی آنکھ میں انجیکشن لگایا۔ میں نے بتایا کہ ہم آپ کا مکمل چیک اپ شفا سے کروا کر واپس لے جائیں گے تو عمران خان خوش تھے۔ وہ بار بار ایک بات کہتے رہے کہ میرے ساتھ ٹارچر ہوا ہے۔ نہ ٹی وی نہ پڑھنے کا مواد۔ کوئی میری پروا نہیں کرتا تھا میں بتاتا بھی تھا۔ کسی کے ساتھ ہیومن کانٹیکٹ نہیں کرنے دیتے۔ دو دن ٹی وی چلایا اور پھر بند کر دیا۔عظمی خان کے مطابق ’عمران خان کی ایک آنکھ پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔

اب اگر ایسے حالات میں حکومت عمران خان کی بیماریوں کو سیاست کیلئے استعمال کر رہی ہے تو میرے خیال میں اس سے زیادہ تکلیف دہ بات ہو ہی نہیں سکتی،،، لیکن یہ سب چیزیں ایک طرف اگر حکومت کو یقین ہے کہ عمران خان کو مکمل طبی سہولیات دی جا رہی ہیں تو پھر ایک غیرجانبدار میڈیکل بورڈ تشکیل دے کر باقاعدہ رپورٹ عوام کے سامنے لانا کون سا مشکل کام ہے؟ ایسا اقدام نہ صرف افواہوں کا خاتمہ کرے گا بلکہ حکومت کی ساکھ بھی بہتر کرے گا۔ بدقسمتی سے موجودہ طرزِ عمل سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ کہیں نہ کہیں کچھ چھپایا جا رہا ہے۔جمہوریت کا حسن برداشت اور رواداری میں ہے۔ سیاسی مخالفین کو دبانے سے وقتی فائدہ تو ہو سکتا ہے مگر طویل المدت طور پر اس کے نتائج خطرناک ہوتے ہیں۔ ایک مقبول رہنما کی بیماری کو نظرانداز کرنا یا اس پر سیاست کرنا معاشرتی تقسیم کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے بالاتر ہو کر انسانی بنیادوں پر فیصلے کرے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ریاستی اداروں کا وقار اسی وقت برقرار رہتا ہے جب وہ قانون کے مطابق اور غیرجانبدارانہ کردار ادا کریں۔ اگر عوام کو یہ محسوس ہو کہ قانون کا اطلاق شخصیات کے لحاظ سے بدلتا ہے تو پھر ریاست پر اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ عمران خان کے حامی پہلے ہی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے قائد کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے؛ ایسے میں حکومتی شفافیت ہی وہ راستہ ہے جو اس تاثر کو کم کر سکتی ہے۔

اور رہی بات سپریم کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے تو ظاہر ہے کہ جب پورا درخت سوکھا ہوتو ایک شاخ کیسے ہری بھری رہ سکتی ہے،،، یعنی آپ کسی بھی ادارے سے میرٹ کی اُمید کیسے رکھ سکتے ہیں،،، اس لیے میں یہی کہوں گا کہ جو بھی ہے کہ اگر عمران خان کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلوں کو اسی طرح نظر انداز کیا جانا تھا تو براہ کرم ایسی اُمید بھی نہ دلایا کریں اور اس اُمید کے پیش نظر عوام کے جذبات سے بھی نہ کھیلا کریں،،، کیوں کہ اگر ایسا ہی کرنا ہے تو پھر خدارا کوئی اور طریقہ اپنا لیں،،، جس سے عوام کا دھیان بٹا رہے ،،، کیوں کہ اس وقت تو یوں لگتا ہے کہ جیسے اگر عدلیہ سیر ہے تو پھر واقعی حکومت یا فیصلہ کرنے والے سوا سیر ہیں!