مجھے کچھ کہنا ہے،آپ سے، محترمہ!

سیاست اور جنگ ساتھ ساتھ چل رہے ہیں ان کی وجہ سے حقیقی عوامی مسائل بھی پیچھے رہ جاتے ہیں۔آج تو مجھے اسی بارے کچھ کہنا ہے کہ حکومت کی بھرپور کوشش اور توجہ کے باوجود کچھ نہ کچھ رہ ہی جاتا ہے۔ میرا دیرینہ موقف ہے کہ نچلی سطح پر توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ کئی بار توجہ دلائی کہ ستھرا پنجاب کا کام ٹھیک ہے اور ہو بھی رہا ہے لیکن نچلی سطح پر بات اس لئے نہیں بنتی کہ ویڈیو بنا کر بھیجنے کا طریقہ ایجاد کیا گیا یوں داروغہ صاحب اپنے ماتحت عملہ سے کسی ایک مقام پر دوجگہ صفائی کراتے ہوئے ویڈیو بناتے اور پھر غائب ہو جاتے ہیں، باقی علاقہ جوں کا توں رہتا ہے۔ اب خود وزیراعلیٰ کو احساس ہوا، شاید ان کی خدمت میں درست رپورٹ پیش کر دی گئی ہے چنانچہ وہ برہم ہوئیں کہ عملہ صفائی غیرحاضر رہتا ہے اور پھر انہوں نے وہ ہدائت کی جو اس سارے منصوبے کا ماحصل ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بڑے اور پوش علاقوں کی صفائی اپنی جگہ لیکن یہ سلسلہ گلی، محلوں اور یونین کونسلوں کی سطح پر ہونا چاہیے اب انہوں نے سختی سے ہدائت کی ہے کہ صفائی کا عمل اس سطح تک ہونا چاہیے ورنہ؟ اس ورنہ کے ساتھ عرض کروں گا کہ جس ذریعے نے ان کو یہ معلومات دیں کہ نچلی سطح پر صفائی نہیں ہوتی۔ اس پر زیادہ بھروسہ کریں کہ یہ حقیقت پسندی ہے۔

مجھے چند اور مسائل کی طرف بھی توجہ دلانا ہے اور ان میں سب سے بڑا مسئلہ ٹریفک کا ہے۔ موجودہ انچارج ٹریفک مستعد ہیں تو ہنرمند بھی لگتے ہیں لیکن ان کی کاوش اور بعض تبدیلیوں کے باوجود ٹریفک درست نہیں ہو پا رہی حالانکہ توجہ سے اس میں بہت آسانی پیدا کی جا سکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ بہتری کے لئے جو بھی نیا طریقہ اختیار کریں وہ سوچ سمجھ کر شروع کریں۔ محترم ٹریفک انچارج کی تجویز کے مطابق بعض چوراہوں کو چار طرفہ ٹریفک کے لئے بند کرکے صرف یکطرفہ یا دو طرفہ رہنے دیا گیا ہے۔ چوراہوں کے دو ذرائع بند کر دیئے گئے اور ٹریفک کے لئے یوٹرن بنائے گئے۔ اس سے ایک تو فاصلے بڑھے دوسرے یوٹرن باقاعدہ تعمیر نہیں کئے گئے بلکہ روڈ ڈیوائیڈر کو توڑ کر یوٹرن بنایا گیا۔ اب ہر روز یہ تماشہ ہوتا ہے کہ ان یوٹرنوں پر سے گزرنے والی ٹریفک مرکزی ٹریفک کو بلاک کرتی ہے کہ ڈرائیور حضرات باقاعدہ قطاراور ترتیب کی بجائے جلدی گزرنے کے چکر میں ہجوم کر دیتے ہیں، ان کو روکنے والا کوئی نہیں ہوتا کہ وہ ذمہ دار حضرات اسی یوٹرن کے ایک کونے پر کھڑے ہو کر چالانوں کا کوٹہ پورا کررہے ہوتے ہیں، یہ سلسلہ پورے شہر میں ہے اور ان کی اس ”مفید“ کارکردگی کی وجہ سے ٹریفک بھی جام ہوتی ہے کہ یہ حضرات شادمان چوک جیسے مصروف تر مقام اور کینال پر بھی ناکہ لگا کر شکار کرتے نظر آتے ہیں اور اس ناکے کی وجہ سے پیچھے سے آنے والی ٹریفک کو پورا راستہ نہیں ملتا اور ٹریفک رکنا شروع ہو کر جام ہوجاتی ہے۔ یہ ٹریفک کے اہلکار اپنے حقیقی فرائض چھوڑ کر چالان کے ذریعے رقوم اکٹھی کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں، اگر یہ ضروری اور لازم ہے تو پھر اہل کاروں اور عملے کو دو حصوں میں ہی تقسیم کر دیں تاکہ نظام تو چلے، ایک حصہ ٹریفک درست کرنے اور دوسرا چالانوں کے ذریعے خزانہ بھرنے کا کام کرتا رہے۔

میں نے پٹرولیم کے حوالے سے اپنے حضرات کی ذہانت کا اعتراف کیا تھاکہ ہر روز نرخ مقرر کرنے کا طریقہ نکال کر انہوں نے صارفین کو سر کی بھلا دی ہے، ایسی ہی فنکاری ہمارے ٹریفک مینجمنٹ کے بھائیوں نے بھی کی ہے۔ کئی اہم چوراہوں پر جہاں ٹریفک سگنل ہیں، زیادہ ٹریفک والے حصے کا سگنل کم از کم وقت پر سیٹ کر دیا ہے ایسے سگنل صرف تین چار گاڑیوں کو نکلنے کا موقع دیتے اور پھر سرخ ہو جاتے ہیں۔ یوں روانی میں آنے والے پچھلے چوتھے یا پانچویں صاحب ای چالان کی زد میں آجاتے ہیں ان حضرات کو جب چالان کی چٹ گھر پہنچتی ہے تو وہ سر پکڑکر رہ جاتے ہیں،ضرورت اس امرکی ہے کہ ٹریفک کے لوڈ کے مطابق سگنل کھلیں اور بند ہوں اس کیلئےسنسر سسٹم لگایا جا سکتا ہے کہ ہم ڈیجیٹل دور میں داخل ہونے کے دعویدار ہیں۔

مسائل تو بہت ہیں صرف ایک اور اہم مسئلہ کی طرف توجہ دلا کر بات ختم کرتے ہیں کہ جو رہ جائیں ان پر پھر بھی بات ہو سکتی ہے اور یہ مسئلہ پبلک ٹرانسپورٹ کا ہے جو نہ صرف لاہور بلکہ بڑے شہروں کیلئےبھی ناکافی ہے، میں صرف لاہور کی بات کرتا ہوں، مسلم لیگ (ن) ہی کے دور میں یہاں لاہور ٹرانسپورٹ کی سینکڑوں گاڑیاں چلتی تھیں اور یہ قریباً شہر کے ہر حصے کو کور کرتی تھیں، ان کے علاوہ دائیوو کی لوکل سروس تھی، پھر نہ جانے کس کی نظر ان بسوں اور کمپنی کو کھا گئی کہ نہ صرف بند ہوئیں بلکہ کھڑے کھڑے کوڑا بھی ہوگئیں۔ محترم خواجہ حسان اس بارے میں بتا سکتے ہیں کہ وہ چیئرمین تھے۔

بہرحال موجودہ وزیراعظم محمد شہبازشریف نے اپنے وزارت علیہ کے دور میں میٹرو شروع کرائی اور ٹرین بھی چلنا شروع ہو گئی، دائیوو لوکل کو کنٹریکٹ پر فیڈر روٹس بنا کر سپیڈو کے نام سے چلا دی گئی۔ سفری سہولتیں بڑھیں لیکن دو سو سے زائد بسوں کی کمی دور نہ ہو سکی۔ اب وزیراعلیٰ مریم نواز نے ماحول دوست الیکٹرک بسوں کاسلسلہ شروع کیا لیکن یہ بسیں پوری تعداد کی بجائے صرف دو روٹوں کے لئے چلائی گئیں، اب صورتحال یہ ہے کہ دائیوو والی سپیڈو بسیں دس سے سولہ سال پرانی ہونے کی وجہ سے بہت بُری حالت میں ہیں، کھڑکھڑ کرتی ہیں اور اے سی بھی درست کام نہیں کرتے۔ آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے مسافر ضرورت سے زیادہ ہوتے ہیں۔ دوسری طرف ای بسوں کی سہولت کے باعث ان پر بہت رش ہو گیا ہے اور معمر حضرات خصوصی طو ر پر پریشان ہوتے ہیں۔ لاہور کے لئے ایسی بیسیوں ای بسوں کی ضرورت ہے اور دائیوو والی سپیڈو (فیدر روٹس) بسوں کو بھی ای بسوں سے تبدیل کرنا ضروری ہے تاکہ لوگ سفرکر سکیں، کرایہ تھوڑا بڑھایاجا سکتا ہے۔

آج کیلئےاتنا ہی، شاید کہ اتر جائے آپ کے دل میں میری یہ بات!