تہران (الجزیرہ، اے ایف پی، رائٹرز)ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کے ساتھ کئی ماہ سے جاری جنگ ختم کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اس وقت طاقت اور وقار کی پوزیشن میں ہے، اسلئےجنگ کا خاتمہ بہتر ہوگا۔
تہران میں ڈاکٹروں سے ملاقات کے دوران مسعود پزشکیان نے کہا کہ جنگ کو اب ختم کرنا بہتر ہے کیونکہ ایران طاقت اور وقار کی پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پوری دنیا ایران کی فتح کو تسلیم کر رہی ہے اور امریکا کی جانب سے اسکولوں، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی مذمت کی جارہی ہے۔
ایرانی صدر نے امریکا کے ساتھ جون میں طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ ایران کیلئے ایک بڑی کامیابی تھا اور اسے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی منظوری حاصل تھی۔ انہوں نے ان الزامات کو مسترد کیا کہ معاہدے میں ایران کی جانب سے ہتھیار ڈالنے یا کمزوری ظاہر کرنے کی کوئی شق شامل تھی۔
دوسری جانب ایران کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف نے خبردار کیا ہے کہ ایران کسی بھی نئے خطرے کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے اور بری، بحری، فضائی دفاع اور سائبر شعبوں میں مکمل تیاری موجود ہے۔
ادھر عمان اور ایران کے وزرائے خارجہ نے مذاکرات کی بحالی کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے اور آبنائے ہرمز کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا ہے۔ عمان ماضی میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کو جزوی طور پر بند کر رکھا ہے جبکہ امریکا کی جانب سے ایرانی بحری راستوں پر دباؤ برقرار ہے۔ اس صورتحال کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی مذاکرات پر آمادگی پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن ابھی ’’درست معاہدے‘‘ کے لیے تیار نہیں۔ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ایران نے امریکی پابندیوں کے منصوبے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔چین نے بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ پابندیاں اور معاشی دباؤ مسئلے کے حل میں مدد نہیں دیں گے اور تمام فریقوں کو سیاسی و سفارتی ذرائع سے تنازع حل کرنا چاہیے۔

