ایران، امریکہ کے درمیان بہتر اور اچھے معاہدہ کے لئے پاکستانی قیادت کی کوشش جاری ہے۔ ہر دم امید و بیم کی کیفیت ہو جاتی ہے اور پھر بات کہیں رکنے لگتی ہے۔ بزرگوں کے بقول بولنے سے پہلے تولنا ضروری ہوتا ہے اور کم بولنا دانش مندی ہے تاہم دنیا میں امریکی صدر محترم ڈونلڈ ٹرمپ بھی تو ہیں جن کو خود پر بولنے کا بھی اختیار نہیں ہے۔ بات بالکل صاف ہو چکی ایران کی طرف سے ممکنہ لچک کا مظاہرہ ہوا اور ہمارے فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر کی پھر سے ایک اچھی کوشش نے مزید بہتری پیدا کی۔ ایران آبناء ہرمز کھولنے پر آمادہ ہی نہیں ہوا بلکہ کھول بھی دی جس کے اثرات بھی اچھے ہوئے، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ محترم اور ان کے ساتھیوں کو شاید یہ سب ہضم نہیں ہو رہا اور وہ اپنے اندرونی مفاد کے لئے ایسی گفتگو کر دیتے ہیں جس کا جواب لازم ہو جاتا ہے۔ میرا خیال اور یقین ہے کہ محترم ٹرمپ کی حالیہ ٹرمپیانہ گفتگو ان کے اپنے ملک کے حالات کی روشنی میں ہے کہ امریکہ میں مڈٹرم ہونے والے ہیں اور ٹرمپ کی مقبولیت میں واضح کمی ہو چکی جس کی بناء پر اسے یہ ضرورت ہے کہ جس تنازعہ نے یہ ”معرکہ“ انجام دیا کہ ان کی شہرت گر گئی اسی سے وہ فائدہ اٹھانے کی غیر حقیقی کوشش کرنے لگے ہیں اور ان کے حالیہ بیانات میں ٹرمپی نے ایک بار پھر شکوک پیدا کرنا شروع کر دیئے ہیں، انہوں نے پہلے تو آبناء ہر مز کھلنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا، پھر معاہدہ کی نوید سنائی۔ وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی نہ صرف تعریف کی بلکہ یہ تاثر بھی دیا کہ جلد ہی فیلڈ مارشل مفاہمت کے حوالے سے وائٹ ہاؤس بھی آنے والے ہیں۔ لیکن ان کو ٹرمپ کون کہے اگر وہ ٹرمپیانہ بات سے گریز کریں اب یکایک انہوں نے فتح کا ڈنکا بجا دیا اور ازخود کہہ دیا کہ ایران افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کر دے گا اور پھر کبھی یہ کام نہیں کرے گا انہوں نے کچھ اور باتیں بھی کر دیں، ان سب کا جواب ایرانی قیادت پر واجب ہو گیا اور انہوں نے ہر بات کو غلط قرار دیا اور پھر ان کی طرف سے بھی اپنی خودمختاری پرزور دے کر کہا گیا کہ آبناء ہرمز رضاکارانہ طور پر لبنان جنگ بندی کے تاثر میں کھولی گئی ہے(فیلڈ مارشل کا ذکر نہ کرنا حکمت عملی ہے کہ وہ ثالثوں میں سے ہیں) اور اگر ایران کے خلاف جارحیت ہوئی تو اسے پھر سے مکمل بند کیا جا سکتا ہے۔ یوں اچانک پھر سے شبہات نے گھیر لیا ہے۔ حالانکہ ہرمز کھلنے کے ساتھ ہی پٹرولیم مصنوعات کے نرخ گر گئے ہیں، کیا ٹرمپ، ان کے وزیر جنگ اور چیئرمین سینٹ کام پھر سے جنگ چاہتے ہیں کہ مڈٹرم میں فائدہ ہو، جو کہ درست نہیں کہ ٹرمپ اور ان کے رفقاء کی مقبولیت میں کمی ہی ان کی طرف سے اسرائیلی حمائت اور جارحیت ہے،جس سے پورے خطے میں جنگ کے شعلے بھڑکے۔
ان نامساعد حالات کے باوجود بھی ہمارے وزیراعظم محمد شہبازشریف اور فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر اپنے دوست ممالک کے تعاون سے پر امید ہیں اور یقینا اگر وائٹ ہاؤس کا چکر لگا تو وہ اس مقصد کے لئے ہوگا کہ ٹرمپ اور ان کے ہمنواؤں سے بہتر گفتگو کی درخواست کی جا سکے کہ جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو ادھر سے بار بار یہ یقین دلایا جا رہا ہے کہ ان کی ایٹمی صلاحیت بم بنانے کے لئے نہیں۔ توانائی کی ضروریات کے لئے ہے اور ایران یورینیم کی افزودگی کم از کم شرح پر کرنے کے لئے آمادہ ہے۔ اب ایک معقول بات بھی کرلیں کہ اگر ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم امریکہ یا کسی اور ملک کے حوالے کر دیا جائے تو اس کی کیا ضمانت کہ وہ ملک یہ خود استعمال نہیں کرے گا اور ٹرمپ پر تو اعتماد کیا ہی نہیں جا سکتا۔
اس سب کے باوجود حالات کا تقاضا یہ ہے کہ نہ صرف مذاکرات کا دوسرا دور ہو گا بلکہ اس بار معاہدہ بھی ہوگا اور ایران بھی دنیا کے دوسرے ممالک کی طرف اپنی خود مختارانہ حیثیت سے کاروبار بھی کر سکے گا اور اس پر سے پابندیاں ہٹالی جائیں گی۔ معاہدہ اعتماد کی نشانی ہو گا کہ ایران کی یہ پیش کش بھی ہے کہ وہ عالمی ایٹمی اتھارٹی کی نگرانی قبول کرلے گا بلکہ اس کی طرف سے تو یہ بھی کہا جا چکا کہ معاہدہ خود صدر ٹرمپ نے توڑا۔ ایران نے ایسی کوئی کوشش نہیں کی، بہرحال اتنے بڑے تنازعات میں ایسے موڑ تو آتے ہی ہیں، مجھے یقین ہے کہ اب ہوش آئے گا اور معاہدہ ہو جائے گا کہ دنیا کو امن کی ضرورت ہے اور اللہ کی رحمت سے پاکستان سرخرو ہوگا۔
بات یہی تک کرکے آج مکمل کرتے ہیں کہ میری اور میرے جیسے لاکھوں حضرات کی دلی خواہش اور دعا ہے کہ دنیا میں امن قائم ہو اور یہ تو دیرینہ خواہش ہے کہ ملک کے اندر بھی اتحاد و استحکام ہوتاکہ معیشت بھی مستحکم ہو اور ہم جیسے سفید پوش بھی بہتر زندگی گزار سکیں۔ میری پھر درخواست ہے کہ اب وزیراعظم اپنی طرف سے وزیردفاع محسن نقوی کو یہ ذمہ داری سونپ دیں کہ وہ ملکی راہنماؤں کی خدمت میں جا کر ان سب کو ایک میز پر لانے کی کوشش کریں کہ ان کو اب کافی تجربہ ہوچکا اور ہائبرڈ نظام کی حمائت بھی حاصل ہے۔

