یوم آزادی سے دو روز قبل حزبِ اقتدار کے قائد وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے پہلی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے۔اس حوالے سے اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے اپنے تازہ ترین احساسات کا بھی کھل کر اظہار کیا ہے۔ مثلاً یہ کہ بچوں کو تعلیم کے مساوی مواقع نہ ملے تو وہ قائداعظمؒ کا پاکستان نہیں، انہوں اپنی زبان سے یہ بھی ادا کیا کہ ایچی سن کالج لاہور اشرافیہ کیلئے،وہاں غریب کا بچے داخلے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا،انہوں نے یہ بات کہی کہ اسی تضاد کے باعث ملک تعلیم کے میدان میں بہت پیچھے رہ گیا۔تعلیم کے فروغ کی خاطر معمول کے مطابق انہوں نے اس سلسلے میں بہت سے منصوبوں کے آغاز اور تکمیل کی یقینی دہانیاں بھی کرائیں۔
اس موقع پر دیگر بہت سی تفصیل طلب تجاویز اور فیصلوں میں لیبر فورس میں خواتین کیلئے 35فیصد کوٹہ مختص کرنے کا اعلان کیا۔ یہ تو تھے ان کی طرف سے خوش کن اعلانات جبکہ اس کے اگلے ہی روز وفاقی حکومت کی سفارش پر صدرِ مملکت آصف زرداری کی جانب سے سمری کی منظوری کے بعد عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ) کے ججوں کی تنخواہوں اور مراعات میں وفاقی آئینی عدالت کے ججوں کے برابر اضافہ کر دیا گیا۔ ہائیکورٹ کے ججوں کی بنیادی تنخواہوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضاضے کا اطلاق 10دسمبر2025ء سے کر دیا گیا ہے۔چیف جسٹس پاکستان کی ماہانہ بنیادی تنخواہ 15لاکھ50ہزار روپے ہو گی۔ سپریم کورٹ کے دیگر ججوں کی ماہانہ بنیای تنخواہ 15لاکھ روپے ہو گی سپریم کورٹ کے ججوں کے جوڈیشنل الاؤنس 11 لاکھ 61 ہزار 163 سے بڑھا کر 15لاکھ روپے مقرر کئے گئے ہیں۔ جوڈیشنل الاؤنس میں تقریباً تین لاکھ 32 ہزار روپے ماہانہ اضافہ ہوا ہے۔ سپریم کورٹ کے پنشن پیکیج میں بھی تبدیلیاں کر کے پنشن سے متعلق شق میں 70 سال کی حد میں اضافہ کر کے 90سال کر دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے ججوں کیلئے ماہانہ ایک لاکھ 50 ہزار روپے میڈیکل الاؤنس مقرر کیا گیا۔ ہائیکورٹ چیف جسٹس کی ماہانہ تنخواہ جو اضافہ ہوا ہے اس کا اطلاق یکم جولائی 2026ء سے ہو گا۔ہائیکورٹ چیف جسٹس کی ماہانہ بنیادی تنخواہ12 لاکھ 50ہزار مقرر کی گئی ہے جبکہ ہائیکورٹ کے دیگر ججوں کی بنیادی تنخواہ12لاکھ پانچ ہزار ہو گی۔
عام آدمی کیلئے اربابِ اقتدار کی طرف سے خوش کن وعدوں اور مخصوص طبقے کیلئے حوصلہ افزاء اقدامات ہی کی ایک خصوصی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ قرضوں میں کمی کے حکومتی دعوؤں کے باوجود گذشتہ تین ماہ میں قرضہ3112ارب روپے بڑھ گیا ہے گویا اس عرصے میں قرضے میں 3112 ارب روپے کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق جون 2026ء تک حکومت کے مجموعی ملکی قرضے سمیت بیرونی قرضوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ حقائق کچھ اس طرح ہوں تو ایسے انتہائی حالات کے ہوتے ہوئے حکومتی محکموں کے اہلکاروں میں نئی قیمتی گاڑیوں کی فراہمی پر اربوں روپے کے اخراجات روا رکھنا کسی صورت دانشمندی نہیں، جیسا کہ وفاقی دارالحکومت کے 27تھانوں میں 30نئی گاڑیاں فراہم کر دی گئی ہیں جبکہ محکمہ کی پہلے سے موجود گاڑیوں کی مناسب اور بہتر طور پر تزئین و مرمت کر کے ان سے کام لیا جانا چاہئے تھا۔
حالات و واقعات اس امر کا تقاضہ کرتے ہیں کہ اربابِ اختیار ملک کی 40فیصد سے زائد بھوک ننگ اور اقتصادی کسمپرسی کی اتھاہ گہرائیوں میں سسکتی اور بے بسی سے زندگی گزارنے والی آبادی کے لئے بھی کوئی طفل تسلیوں سے وقت گزارنے کی بجائے عوام کی حقیقی معنوں میں زندگیاں آسان بنانے کی تجاویز کو عملی شکل دی جائے۔ حال ہی میں ایک دفعہ پھربے بس کروڑوں عوام کو 34ارب کے بوجھ تلے کربناک صورتحال سے گزارنے کا پروگرام زیر تجویز ہے اس سلسلے میں کراچی سمیت ملک بھر کے لئے فی یونٹ بجلی مسلسل تین ماہ تک مہنگی کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے مطابق سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت ہر ماہ ایک روپیہ34پیسے فی یونٹ بجلی مہنگی ہو سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے فی یونٹ بجلی تین ماہ تک مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ نیپرا نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ فیصلہ منظور ہوا تو صارفین پر34 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا، اربابِ اختیار کو ایسی صورتحال سے غریب عوام کو بچانے کیلئے حقیقی ”مقتدرہ“ سے تعاون کرنا ہو گا۔

