راولپنڈی :حنا جاوید قتل، گھریلو ملازم کا گلا گھونٹنے اور تشدد کا اعتراف

راولپنڈی (نمائندہ خصوصی)راولپنڈی میں حنا جاوید قتل کیس کی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار گھریلو ملازم ذیشان نے دورانِ تفتیش حنا جاوید کو تشدد کا نشانہ بنانے اور گلا گھونٹنے کا اعتراف کیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق ذیشان نے تفتیش میں بتایا کہ میاں بیوی کے درمیان جھگڑے کے دوران فیصل اصغر نے اسے بلایا تھا، جھگڑے کے دوران حنا جاوید نے فرار ہونے کی کوشش کی تو فیصل اصغر اور اس نے انہیں پکڑ لیا، جس پر مزاحمت کے دوران حنا جاوید کا گلا دبایا گیا۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق ذیشان نے یہ بھی بتایا کہ وہ گھر میں اکثر چوری کرتا تھا۔ تاہم ایکسپریس نیوز کے مطابق ملزم نے تحویل میں لیے جانے سے جسمانی ریمانڈ تک پولیس کو تین مختلف بیانات دیے، جس کے باعث اس کے بیانات کی مزید جانچ کی جارہی ہے۔

پولیس نے حنا جاوید کے قتل کے الزام میں ان کے شوہر فیصل اصغر امام اور گھریلو ملازم ذیشان کو گرفتار کر رکھا ہے۔ دونوں کو عدالت نے تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا، جبکہ پولیس کے مطابق مبینہ قتل میں استعمال ہونے والی رسی اور تار بھی برآمد کی گئی ہے۔

حنا جاوید کی لاش راولپنڈی کے لال کرتی علاقے میں واقع عسکری اپارٹمنٹس کے فلیٹ کے باتھ روم سے ملی تھی۔ پولیس کے مطابق ان کے گلے میں تار بندھی ہوئی تھی اور تار کو شاور سے باندھا گیا تھا، جبکہ ہاتھ بھی بندھے ہوئے تھے۔

دوسری جانب پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق حنا جاوید کی گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی جبکہ پسلیوں اور کولہے کی ہڈی پر بھی زخموں کے نشانات پائے گئے۔ رپورٹ میں دل کے گرد جھلی میں خون بھرے ہونے کا بھی ذکر ہے، تاہم ابتدائی طور پر موت کی حتمی وجہ کا تعین نہیں ہوسکا۔

پولیس نے واقعے کی تحقیقات کیلئے سات رکنی تفتیشی ٹیم بھی تشکیل دے رکھی ہے جبکہ مقتولہ کے شوہر، گھریلو ملازم اور دیگر متعلقہ افراد کے کردار کا جائزہ لیا جارہا ہے۔