اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) اسلام آباد کی سرحد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی (SUSIT) کے چٹھہ بختاور کیمپس میں طلبہ کے احتجاج کے دوران فوجی افسر اور طلبہ کے درمیان جھگڑے کے بعد فائرنگ کے واقعے پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں، جبکہ واقعے میں ملوث لیفٹیننٹ کرنل اسفند یار ولی کو حراست میں لے کر فوجی قانون کے تحت تادیبی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
طلبہ یونیورسٹی کے ایک سینئر عہدیدار کی برطرفی اور دیگر انتظامی معاملات کیخلاف احتجاج کر رہے تھے کہ اسی دوران لیفٹیننٹ کرنل اسفند یار ولی موقع پر پہنچے۔ ان کے ہمراہ یونیورسٹی کی ہیڈ آف اسٹوڈنٹ افیئرز ڈاکٹر آئینہ بھی موجود تھیں، جو ان کی اہلیہ ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وردی پوش لیفٹیننٹ کرنل اسفند یار ولی طلبہ کے ایک گروپ کے قریب جاتے ہیں، ایک شخص کو ڈنڈے سے مارتے اور مظاہرین سے تلخ کلامی کرتے ہیں، جس کے بعد ہاتھا پائی شروع ہوجاتی ہے۔
ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ مشتعل افراد افسر کو گھیر لیتے ہیں اور بعض افراد انہیں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ اس دوران لیفٹیننٹ کرنل اسفند یار ولی پستول نکال کر ہجوم کی جانب تان لیتے ہیں۔ساتھ موجود ڈاکٹر آئینہ انہیں روکنے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہیں، تاہم افسر اسلحہ فضا کی جانب کرکے فائر کردیتے ہیں۔
اس کے بعد پولیس اہلکار موقع پر پہنچتے ہیں اور انہیں اپنے حصار میں لے کر یونیورسٹی سے باہر لے جاتے ہیں۔بعد ازاں اسلام آباد پولیس کے ایک سینئر افسر نے طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ واقعے میں ملوث اہلکار کے خلاف فوجی تادیبی طریقہ کار کے تحت سخت اور فوری کارروائی کی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان آرمی کی اولین ترجیح سخت نظامِ نظم و ضبط برقرار رکھنا اور انصاف کو یقینی بنانا ہے، جبکہ انکوائری کے نتائج کی روشنی میں مزید کارروائی کی جائے گی۔واقعے کے بعد صحافیوں اور شہریوں کی جانب سے بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ ایک مسلح فوجی افسر یونیورسٹی میں طلبہ کے احتجاج کے دوران کیوں موجود تھا اور اسے فائرنگ کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر بعض افراد نے لیفٹیننٹ کرنل اسفند یار ولی کو ’سپر مین‘ قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنی اہلیہ ڈاکٹر آئینہ کے تحفظ کیلئے مداخلت کرنے آئے تھے۔تاہم واقعے کے مکمل پس منظر اور فائرنگ کی وجوہات کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گا۔ پولیس، سیکیورٹی فورسز یا یونیورسٹی کی جانب سے تاحال واقعے پر باضابطہ تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

