میر رضا قتل کیس، کاروباری شراکت دار اور ملازمین بیانات ریکارڈ کرانے کیلئے طلب

کراچی(بیورورپورٹ) میر رضا علی کے قتل کے حالات اور ممکنہ غفلت کی تحقیقات کیلئے قائم عدالتی کمیشن نے مقتول کے کاروباری شراکت دار، رابطہ کاروں اور ملازمین کو بطور گواہ بیانات ریکارڈ کرانے کیلئے طلب کرلیا۔

عدالتی کمیشن نے جمعہ کو جاری نوٹسز میں مقتول کے کاروباری شراکت دار احسن انیس شمسی کو بھی طلب کیا، جن کے بارے میں کمیشن کو بتایا گیا تھا کہ مقتول کے ریسٹورنٹ ’وافلکس‘ میں ان کی 30 فیصد شراکت داری تھی۔

ریسٹورنٹ کے منیجر شیری اور اکاؤنٹنٹ محمد عمیر خان کو بھی بیانات ریکارڈ کرانے کیلئے طلب کیا گیا ہے۔کمیشن نے اسد علی بٹ اور عثمان بزئی کو بھی طلب کیا جبکہ آسٹریلیا میں مقیم حسن تنولی کو برقی نوٹس جاری کیا گیا۔ ان تینوں کے نام بھی مقتول کے کاروبار کے حوالے سے سامنے آئے ہیں۔

گواہوں کو 15 ستمبر کو کمیشن کے سامنے پیش ہوکر اپنے بیانات ریکارڈ کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ حسن تنولی برقی ذریعے یا ویڈیو رابطے کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کراسکیں گے۔کمیشن کے حکم میں کہا گیا کہ اگر گواہوں کے کوائف کمیشن کے پاس دستیاب نہ ہوں تو بیلف تفتیشی افسر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس سراج لاشاری سے رابطہ کرکے نوٹسز کی تعمیل کرائے۔

25 سالہ میر رضا علی کے قتل کا معاملہ ابتدا ہی سے تنازع کا شکار ہے۔ مقتول کے اہلخانہ نے پولیس پر حقائق دبانے کی کوشش کا الزام عائد کیا تھا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ابتدا میں واقعے کو ممکنہ خودکشی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔

جولائی میں میر رضا علی کے لاپتا ہونے کے ایک روز بعد کراچی کے گلستانِ جوہر سے ان کی لاش ملی تھی، جس پر گولی لگنے کا زخم تھا۔لاش ملنے کے چند روز بعد پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے پوسٹ مارٹم رپورٹ کے حوالے سے کہا تھا کہ اس میں سامنے آنے والی بعض مشاہدات دستیاب تصاویر سے مطابقت نہیں رکھتے، جس سے کئی سوالات پیدا ہوئے۔

6 اگست کو کراچی کی ایک عدالت نے مقتول کے والد کی درخواست پر لاش کی دوبارہ تدفین کیلئے قبر کشائی کی اجازت دیتے ہوئے طبی و قانونی بورڈ تشکیل دینے اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کرانے کا حکم دیا تھا۔

بعدازاں سندھ محکمہ صحت نے 8 رکنی طبی بورڈ تشکیل دیا، تاہم اگلے ہی روز اسے دوبارہ تشکیل دے کر 5 رکنی بورڈ بنایا گیا۔ مقتول کے اہلخانہ نے نئے بورڈ کو مسترد کردیا، جس کے باعث قبر کشائی مؤخر ہوگئی۔سندھ حکومت کی جانب سے اصل طبی بورڈ بحال کیے جانے کے بعد 8 اگست کو میر رضا علی کی قبر کشائی کی گئی۔

9 اگست کو سندھ پولیس نے کیس کی تفتیش کیلئے نئی ٹیم تشکیل دی، جبکہ کراچی کے ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے قتل کی تفتیش فیروز آباد تھانے سے زمان ٹاؤن تھانے منتقل کردی۔ مقدمے میں قتل کی دفعہ بھی شامل کردی گئی۔

بعدازاں سندھ حکومت نے میر رضا علی کی موت کے حالات اور تفتیش کی غیر جانب داری کا جائزہ لینے کیلئے عدالتی کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔مقتول کے والدین میر حسین اور مریم حسین نے 19 اگست کو سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کو خط لکھ کر قتل کی تحقیقات کی براہ راست نگرانی اور سابق تفتیشی ٹیم کے خلاف محکمانہ انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔

ادھر مقتول کے اہلخانہ کے وکیل نے عدالتی کمیشن کی تشکیل پر اعتراض کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور کمیشن کے بجائے ایسے افسران پر مشتمل آزاد اور کثیراداروں پر مبنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی درخواست کی تھی جو اس کیس کی سابقہ تفتیش میں شامل نہ رہے ہوں۔

2 ستمبر کو سندھ ہائیکورٹ نے میر رضا علی کے اہلخانہ کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ ایسی ٹیم تشکیل دینا حکومت کا اختیار ہے۔میر رضا علی کے دوسرے پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ میں بھی تصدیق ہوئی کہ ان کی موت پشت پر گولی لگنے سے ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق سینے پر گولی لگنے سے دل پھٹ گیا جس کے نتیجے میں موت واقع ہوئی، جبکہ گولی کا داخل ہونے کا زخم پشت پر اور باہر نکلنے کا زخم سینے کے اگلے حصے پر تھا۔رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ پوسٹ مارٹم کے نتائج موت کو خودکشی قرار دینے سے مطابقت نہیں رکھتے۔