میلبورن میں گرمیوں کی رُت اپنے اختتام کی جانب مائل ہے۔ مقامی آموں کی بہار اب سمٹ رہی ہے، مگر ذائقوں کی دنیا میں خلا پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اب ایک نئی خوشبو، اور مٹھاس کی نوید سنائی دے رہی ہے پاکستانی آموں کی آمد پھل کی ترسیل ہی نہیں ایک تہذیبی لمحہ، اجتماعی انتظار اور ذائقہ بھری روایت کی واپسی ہے، جس کا اشتیاق صرف پاکستانیوں تک محدود نہیں بلکہ دیگر اقوام بھی اس کے سحر میں گرفتار دکھائی دیتی ہیں۔
پھلوں کا بادشاہ آم اور آموں میں بھی چونسہ، جس کا ذائقہ زبان پر ٹھہرتا نہیں بلکہ دل میں اُتر جاتا ہے۔ اس کی مسحور کن خوشبو، شیریں رس اور دلکش ساخت ایسی ہے کہ ایک بار چکھ لیا جائے تو یادوں میں دیر تک مہکتا رہتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے اہلِ ذوق نے یوں بیان کیا: “الطَّعْمُ الحُلْوُ یَبْقٰی فِی الذِّکْرٰی” میٹھا ذائقہ یادوں میں زندہ رہتا ہے۔

اسی ذوق اور شوق کے پیشِ نظر، میلبورن میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے اس بار آموں کی آمد پر جشن بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ پاکستانی آم اور کثیرالثقافتی فوڈ فیسٹیول 18 جولائی 2026 کو ہوگا، مگر اس کی تمہید 11 اپریل کو قونصل خانۂ پاکستان میں شاندار تقریب کی صورت میں پیش کی گئی گویا خوشبو کا اعلان ہو چکا ، نقاب کشائی ابھی باقی ہے۔
تقریب کے میزبان قونصل جنرل واجد حسین ہاشمی تھے، جنہوں نے نہایت وقار اور خلوص کے ساتھ اس تقریب کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر نہ صرف پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد شریک ہوئی بلکہ چین، ترکیہ، نیپال، ملائیشیا، انڈونیشیا اور سری لنکا کے سفارتی نمائندگان نے بھی شرکت کر کے تقریب کو بین الاقوامی رنگ عطا کیا۔ معزز اراکینِ پارلیمنٹ کیتھلین میتھیوز وارڈ اور جان مُلاہی کی موجودگی نے اس تقریب کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا، جبکہ وکٹورین ملٹی کلچرل کمیشن کے نمائندے بھی اس کا حصہ بنے۔
تقریب میں آموں کی آمد کا اعلان ہوا، مگر اصل آم ابھی پردۂ راز میں ہیں۔ البتہ مہمانوں کی تواضع ایسے منفرد انداز میں کی گئی کہ ہر شخص اس کا معترف نظر آیا پستہ آم شیک کی لذت، آم کے ذائقے سے مزین کیک، اور مہمان نوازی کا وہ انداز جس میں اپنائیت جھلکتی تھی۔ کئی مہمان اس ذائقے کو دوبارہ چکھنے پر مجبور ہو گئے، گویا ایک گھونٹ میں پورا موسم سمو لیا گیا ہو۔
پاکستان کمیونٹی اینڈ سٹوڈنٹس ویلفیر کمیٹی کے چیئرپرسن ڈاکٹر ماجد گوندل کی تنظیمی مہارت اور مصطفیٰ کاظمی کی میزبانی یہ وہ امتزاج تھا جس نے تقریب کا لمحہ لمحہ یاد گار بنا دیا۔ مصطفیٰ کاظمی خود مہمانوں کی خدمت میں مصروف رہے، اور آنے والے مینگو فیسٹیول کے لیے ویب سائٹ کا تعارف بھی پیش کیا۔ رانا شاہد نے اپنے کلمات میں پاکستانی آم کو جس خوبصورتی سے متعارف کرایا، وہ بھی قابلِ تحسین تھا، جبکہ آغا سید علی رحیمی کی جانب سے پیش کردہ ریفریشمنٹ نے تقریب کے ذائقے کو مکمل کر دیا۔
یہ مناظر ایک وسیع تر حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ آسٹریلیا جیسے کثیرالثقافتی معاشرے میں پاکستانی کمیونٹی نہ صرف اپنی شناخت برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ اسے مثبت اور خوشبودار انداز میں پیش بھی کر رہی ہے۔ قونصل جنرل واجد ہاشمی کا یہ جملہ کہ “قونصل خانے کے دروازے ہمیشہ کمیونٹی کے لیے کھلے ہیں” ایک بیان نہیں بلکہ ایک عملی فلسفہ بنتا جا رہا ہے۔
اسی تناظر میں ایک قدیم حکایت یاد آتی ہے، جو آم اور ذوقِ سلیم کی نزاکت کو خوب بیان کرتی ہے۔ روایت ہے کہ مرزا اسد اللہ غالب ایک روز بہادر شاہ ظفر کے ہمراہ باغ میں ٹہل رہے تھے۔ درختوں پر لٹکے آموں کو غور سے دیکھتے ہوئے مرزا اسد اللہ غالب کچھ سوچ میں ڈوبے تھے۔ بادشاہ نے پوچھا: “کیا دیکھ رہے ہو؟” مرزا اسد اللہ غالب نے مسکرا کر عرض کیا “حضور، سنا ہے دانے دانے پر مہر ہوتی ہے سو دیکھ رہا ہوں کہ کون سا دانہ میرے نام کا ہے۔” بادشاہ ظفر اس لطیف اشارے کو سمجھ گئے، اور کچھ ہی دیر بعد وہ آم مرزا اسد اللہ غالب کے گھر پہنچا دیے گئے.
یہ حکایت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ آم پھل ہی نہیں، ایک احساس، تعلق، اور نسبت ہے اس کی مہک جو دلوں کو جوڑتی ہے۔ آج جب پاکستانی آم میلبورن کی سرزمین پر قدم رکھنے کو ہیں، تو یہ صرف تجارت نہیں بلکہ ثقافتی سفارت کاری کی لطیف صورت ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان سالانہ تقریباً اٹھارہ لاکھ ٹن آم پیدا کرتا ہے، جن میں سے ایک قابلِ ذکر حصہ دنیا کے مختلف ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے۔ سندھڑی، چونسہ، انور رٹول اور لنگڑا جیسی اقسام نہ صرف ذائقے میں منفرد ہیں بلکہ پاکستان کی زرعی شناخت کی نمائندہ بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ سے لے کر یورپ، برطانیہ، کینیڈا، چین اور آسٹریلیا تک ان آموں کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ 18 جولائی کو منعقد ہونے والا مینگو فیسٹیول تقریب نہیں ہوگا بلکہ ایک ثقافتی مکالمہ ہوگا جہاں ذائقے زبان سے بڑھ کر دلوں تک رسائی حاصل کریں گے۔ توقع ہے کہ ہزاروں افراد اس جشن کا حصہ بنیں گے، اور یہ دن اس بات کا ثبوت ہوگا کہ کثیرالثقافتی ہم آہنگی صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔
پاکستانی آم اپنی مٹھاس میں ایک پیغام رکھتے ہیں محبت، تعلق اور شناخت کا۔ جب ایک رسیلا آم ہاتھ میں آ تا ہے تو گویا وطن کی مٹی کی خوشبو بھی ساتھ لے آتا ہے۔ اور شاید اسی لئےکہا جاتا ہے:”اَلْحَلاوَةُ تَجْمَعُ القُلُوبَ” مٹھاس دلوں کو جوڑ دیتی ہے۔

