”میں اتنا بھی بھولا نہیں“ ٹرمپ!

لاہور کا ایک معصوم جیالا بھولا بھی ایک اہم کردار تھا، اس کی جماعت اور بانی جماعت ذوالفقار علی بھٹو سے عقیدت پیمانے سے باہر تھی۔بھٹو لاہور ہوتے یا کسی اور قریبی شہر میں بھولا کی موجودگی لازم تھی،مجھے یاد ہے کہ جب ذوالفقار علی بھٹو نے نائب وزیراعظم کی حیثیت سے راولپنڈی سے کراچی تک تیز گام میں سفر کیا تو بھی بھولا ان کے ساتھ تھا۔ میں لاہور سے سوار ہوا تھا، گاڑی کو جگہ جگہ روک لیا جاتا اور بھٹوکو اپنے کمپارٹمنٹ سے نکل کر خطاب بھی کرنا پڑتا تھا اور بھولا ان سے پہلے آ کر پیڈسٹل پر کھڑا ہو کر راستہ روک لیتا تھا کہ جوشیلے لوگ اوپر تک نہ آ جائیں۔ یہ بھولا (مرحوم) گوالمنڈی کا رہائشی اور حقیقی کردار تھا اور اسے ہمارے بہت سے مہربانوں نے اپنی تحریروں کا موضوع بھی بنایا، تاہم اس کے علاوہ بھی ”بھولا“ نام سے ایک کردار تھا، محترم عطاء الحق قاسمی دیر تک اسے ضبط کالم لاتے رہے، قارئین! یہ تو حقیقی کرداروں کی بات ہے لیکن ہماری لوک کہانی کا ایک کردار بھی بھولا نام کا فرد ہے۔یہ لوک پنجاب والے دلچسپی سے بیان کرتے اور سنتے ہیں جس انداز میں ذکر ہوتا ہے اس کے حوالے سے کالم میں ذکر مناسب نہیں۔بہرحال اس کردار کا ایک آخری فقرہ اب بھی مستعمل ہے اور وہ ہے۔:میں اتنا بھی بھولا نہیں:

قارئین! یہ زندہ کردار اس لئے یاد آئے کہ آج کی دنیا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مثال کے لئے موجود ہیں، ان کے حوالے سے بہت کچھ کہا جاتا ہے اور ان کی ٹرمپین بھی مشہور ہیں لیکن غور کرنے پر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ واقعی اتنے بھی بھولے نہیں ہیں، ہم سب ان کو ہالی وڈ کے کردار کے طور پر لے رہے ہیں اور ان کی حرکات اور بدلتے بیانات سے ایسا تاثر بھی ملتا ہے وہ ماضی میں نہ صرف ایکٹنگ کی کوشش کر چکے، بلکہ اپنے پسندیدہ چینل ”فوکس“ میں میزبان بھی رہے ہیں۔

میں تو سمجھتا ہوں کہ وہ بھولے تو ہیں لیکن پنجابی بھولے کی طرح انہوں نے پوری دنیا کو چکر میں ڈال رکھا ہے،ان کے کارناموں میں دنیا بھر کی معیشت کو پاؤں سے اکھاڑنا اور جمی جمائی مغربی تہذیب کے چہرے سے نقاب نوچنا بھی شامل ہے۔ٹرمپ نے اپنے اس دورِ صدارت کی ابتدا ہی میں ٹیرف ٹیرف کھیلنا شروع کیا اور شطرنج کے کھیل کی طرح یہ بھی ان کا کھیل بن گیا اور انہوں نے کبھی ٹیرف بڑھا اور کبھی کم کر کے دنیا کو حیرت زدہ کرنا شروع کر دیا پھر انہوں نے جنگیں بند کرنے کا کردار سنبھال لیا اور مئی معرکہ کے حوالے سے اپنے دیرینہ دوست مودی کا ریکارڈ لگانا شروع کر دیا، جگہ جگہ موقع بے موقع بھولا کی طرح کہتے،میں نے آٹھ جنگیں رکوائیں ان میں پاک بھارت جنگ بھی شامل ہے،دونوں ایٹمی صلاحیت کے ملک ہیں اور جنگ سے لاکھوں جانیں جا سکتی تھیں پھر وہ کہتے ہیں اس جنگ میں آٹھ جہاز گرے اور یوں وہ مودی کے منہ پر بات کہہ دیتے ہیں۔ ٹیرف کے حوالے سے بھی انہوں نے مودی سمیت کسی کا لحاظ نہ کیا اور پھر وہ دور بھی آیا جب ان کی خود اپنے حلیفوں یورپ اور برطانیہ سے بھی ٹھن گئی۔ چین اور روس تو بہرحال مدمقابل قوتیں ہیں لیکن انہوں نے پوری یورپی یونین اور نیٹو کو بھی رگڑا لگا دیا۔

میں نے عرض کیا کہ وہ اتنے بھی بھولے نہیں تو اس کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ اسرائیل کی خاطر انہوں نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا الزام بھی ”حماس“ پر لگا دیا اور ابھی تک حماس کے پیچھے ہیں۔پوری دنیا میں فلسطینیوں پر مظالم اور ان کی نسل کشی کے خلاف احتجاج ہوا لیکن ٹرمپ کو اس میں اپنا تجارتی فائدہ نظر آیا اور پہلے براہِ راست غزہ پر قبضے کی بات کی اور پھر جب دوست ممالک ہی سے احتجاج سامنے آیا تو انہوں نے پینترا بدل کر ”غزہ اَمن بورڈ“ بنا لیا سارے اختیارات خود رکھ لئے کہ وہ ”اتنے بھی بھولے نہیں ہیں“۔صہیونی حکومت اب تک فلسطینیوں پر بمباری کر رہی ہے۔غزہ تباہ ہو چکا، فلسطینی کھلے آسمان تلے بھو ک و افلاس کا شکار ہیں،تعلیم کا سلسلہ ختم اور صحت کے مراکز تباہ ہو چکے ہیں۔

اس سب کچھ کے ہوتے ہوئے بھی محترم ٹرمپ نے ایران پر حملہ کر دیا۔ پہلی بار ایٹمی تنصیبات تباہ کیں اور دوسری بار اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کو بھی غزہ بنانے کی کوشش شروع کر دی۔ یہ تو ایران کی عقیدت اور جذبہ ہے کہ ایران نے دو قوتوں کا مقابلہ کیا اور بھولے صاحب کی وہ خوشی ملیا میٹ کر دی جو فتح کا نشہ پورا کرنے کے لئے تھی اگرچہ وہ اب بھی اپنی فتح کا اعلان کرتے ہیں لیکن اپنی لَن ترانی کے بقول ایران سے سرنڈر نہیں کرا سکے اور خود کو مذاکرات کی میز پر آنا پڑا اور اب اگلے دور کے لئے بھی انہوں نے پہل کر دی کہ بھولے ہیں، ادھر سے ایران نے اپنا اصولی موقف دہراتے ہوئے ”ہاں“ کر دی اور یوں ایک بار پھر پاکستان کو کریڈٹ مل گیا ہے۔ فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر نے پھر سے بھاگ دوڑ شروع کر دی اور ٹرمپ صاحب ان کی تریف کرتے نہیں تھکتے اور خود ہی جمعہ کا دن بھی مقرر کر دیا لیکن باہمی یا بالواسطہ روابط نہ ہونے سے یہ بات اب اگلے ہفتے بدھ تک ٹل گئی ہے جو جنگ بندی کا آخری روز ہو گا،حالانکہ ”بھولا“ کہہ چکا کہ جنگ بندی میں توسیع کیسی۔ جنگ تو بند ہو چکی ہے،یوں تاخیر یہ ہے کہ اب ان کی طرف سے جنگ نہیں ہو گی،لیکن ساتھ ہی ہرمز کی ناکہ بندی کر کے ایران کو مسلسل مشتعل بھی کیا جا رہا ہے کہ ادھر سے جوابی وار ہو تو بھولا کہے جنگ بندی ایران نے توڑی ہے،لیکن فیلڈ مارشل کی کوشش ہے کہ ایسی نوبت نہ آئے اور دُعا ہے کہ وہ کامیاب ہوں کہ فریقین تو رضا مند ہیں اور بات صرف تاریخ اور دن کے تعین کی ہے۔

قارئین! یہ سب کچھ سامنے ہے جناب ٹرمپ کو پھر سے ٹیرف یاد آ گیا اور اب انہوں نے ایک بار پھر چین کو دھمکی دی اور ساتھ برطانیہ پر بھی تجارتی رعب ڈالا کہ تجارتی معاہدہ ختم کر دیا جائے گا۔ دنیا کے بڑے بڑے ممالک اب ان سے اتفاق نہیں کرتے اور وہ ہر ایک سے اُلجھ رہے ہیں،اِس لئے حالات اب تک غیر یقینی ہیں،ان کے باعث پٹرولیم مصنوعات کے نرخ پھر بڑھ گئے، ٹرمپ خوش، وہ کہتے ہیں کہ امریکہ کے پاس سعودی عرب اور روس سے بھی زیادہ تیل ہے اور اب خریدار امریکہ کی طرف رُخ کر رہے ہیں۔یہ بھولا اب وینزویلا کے تیل سے بھی منافع سمیٹ رہا اور جنگ کا الجھاؤ اس کے لئے مفید ہے۔

قارئین! یہ سب آپ حضرات کے ذہنوں میں بھی ہو گا میں نے صرف الفاظ کو ترتیب دی ہے تاہم میں جس خدشہ میں مبتلا ہوں اس کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتا وہ یہ کہ پاکستان کی شہرت۔ایران کے ساتھ جنگ بندی کی سب سے زیادہ تکلیف مودی کو ہے اور یقینا وہ چین سے نہیں ہے، حملہ سے قبل اس کا دورہ اسرائیل بھی زیر بحث ہے، لیکن جنگ کی گرما گرما خبروں کے باعث کسی نے بھارتی وزیر جے شنکر کے دورہ متحدہ عرب امارات پر غور نہیں کیا اور نہ ہی ان کی مصروفیات کو رپورٹ کیا اور اندر کی خبر لائے،حالانکہ اس نے متحدہ عرب امارات کی ہیئت حاکمہ سے بہت تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ متحدہ عرب امارات کے بھارت سے گہرے تعلقات ہیں، جس کا ایک منظر تو امارات میں ایک بڑے مندر کی تعمیر اور افتتاح میں امیر محترم کی شرکت ہے اس کے علاوہ گذشتہ دنوں امیر محترم خود بھارت گئے اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر کے آئے، اس پر بھی غور کی ضرورت ہے۔