“نمبر ون”

پاکستان کی تاریخ میں”نمبر ون” یا”ہیرو” کا فیصلہ ہمیشہ طے شدہ اصولوں پر نہیں بلکہ حالات، بیانیے اور طاقت کے توازن پر بھی ہوتا رہا ہے ، اس بارے کبھی عوام نے فیصلہ دیا تو کبھی ریاستی بیانیہ غالب رہا اور کبھی وقت نے بتا دیا ،اگر ہم آغاز سے دیکھیں تو صرف قائد اعظم محمد علی جناح ایک ایسے رہنما کے طور پر سامنے آئے جنہیں متفقہ طور پر انکی زندگی اور ان کے جانے کے بعد بھی “نمبر ون” مانا گیا ، ان کی قیادت میں ایک وژن، آئینی جدوجہد اور سیاسی حکمت عملی تھی، یہاں سیاست ، جمہوریت اور شجاعت ایک دوسرے کے قریب دکھائی دیتے ہیں،مگر ان کے بعد کہانی پیچیدہ ہو جاتی ہے۔

جمہوری ادوار میں عوامی مقبولیت کو ہیرو بنانے کا سب سے بڑا پیمانہ سمجھا گیا، اس تناظر میں ذوالفقار علی بھٹو ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نےعوامی سیاست کو نئی زبان دی، ان کا نعرہ، ان کی تقریریں اور عوام سے براہِ راست تعلق انہیں ایک”ہیرو” بناتا ہے، بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف بھی ایک وقت میں عوامی ہیرو اور نمبر ون رہے اور اگر کچھ عرصہ پہلے تک دیکھیں تو عمران خان بھی ایک منفرد کیس ہیں، وہ روایتی سیاست سے باہر آئے اور ہیرو بنے،غیر جمہوری ادوار میں طاقت،ترقی اور فوری فیصلے اہم رہے،جنرل ایوب خان،جنرل ضیاالحق ، جنرل مشرف نمبر ون کہلائے، مگر کچھ لوگ انہیں ہیرو بھی مانتے رہے، دیکھنے والی بات یہ ہے کوئی”ہیرو” یا “نمبر ون” کیسے بنتا ہے؟عوامی مقبولیت ،ریاستی طاقت ، کنٹرول اور شخصی فیصلے اس سلسلے میں اہم فیکٹر ہو سکتے ہیں۔

ذرا پیچھے جا کر دیکھیں جب ایک خواب پاکستان بنا، جو ایک قوم کے اجتماعی شعور، تہذیبی شناخت اورسیاسی جدوجہد کا نتیجہ تھا،یہ خواب اسلام کے نظریے اور جمہوریت کی امید پر تھا،اس خواب کی سب سے بڑی علامت،چہرہ اورمضبوط مرکز قائد اعظم محمد علی جناح تھے،قائد اعظم کی شخصیت ، ہیرو اور “نمبر ون”تھی، نہ صرف اس لیے کہ وہ تحریک پاکستان کے قائد تھے، بلکہ اس لیے بھی کہ ان کی قیادت میں اصول، نظم، حکمت اور عزم ایک ساتھ نظر آتے تھے، ان کے”نمبر ون” ہونے کا مطلب محض اقتدار نہیں بلکہ ایک اخلاقی مرکزیت تھی،ایسی قیادت جو دلیل بھی تھی اور اعتماد بھی، قانون بھی تھی اور امید بھی،پاکستان کا آغاز ایک واضح تصور کے ساتھ ہوا کہ یہاں قیادت کا معیار جمہوری ہوگا، عوام کی مرضی سے آنے والا رہنما ہی اصل طاقت ہوگا، مگر تاریخ اکثر اپنے نظریات سے زیادہ اپنے حالات کے مطابق چلتی ہے، قائد اعظم کے بعد پاکستان کو وہ مضبوط جمہوری ڈھانچہ نہ مل سکا جو اس کے آغاز کیلئے ضروری تھا، ادارے کمزور ، سیاسی جماعتیں غیر مستحکم اور ریاست ابھی اپنی شناخت بنا رہی تھی، ایسے میں”نمبر ون” کا تصور آہستہ آہستہ اپنی اصل جمہوری شکل کھونے لگا،یہ وہ دور تھا جب طاقت کا مرکز بدلنے لگا، جو جمہوری خلا پیدا ہوا، اسے کسی نہ کسی نے پر کرنا تھا اور یہی وہ لمحہ تھا جب پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک غیر جمہوری قوت “نمبر ون”کے طور پر سامنے آئی، یہ ایک ایسا موڑ تھا جس نے آنے والے کئی عشروں کی سیاست کا رخ متعین کر دیا۔

پھر جمہوری اور آئینی بھٹو کا دورعوامی نمبر ون کی واپسی بنا،ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی سیاست میں ایک ایسا نام ، جنہیں نظر انداز کرنا ممکن نہیں، وہ ایک کرشماتی لیڈر تھے، ایک عوامی بیانیہ رکھنے والے رہنما،ایک ایسی شخصیت جو براہ راست عوام سے جڑی ہوئی تھی ،بھٹو کے دور میں ایک بار پھر “نمبر ون” کا تصور عوامی رنگ اختیار کرتا دکھائی دیا، انہوں نے سیاست کو ایوانوں سے نکال کر گلیوں، بازاروں اور عوامی جلسوں تک پہنچایا، ان کا انداز، ان کی زبان اور ان کی سیاسی جرات انہیں ایک منفرد مقام دیتی ہے،لیکن پاکستان کی سیاست ہمیشہ آسان نہیں رہی، طاقت کے مراکز، ادارہ جاتی کشمکش اور بین الاقوامی دباؤ نے ایک بار پھر اس سفر کو ادھورا چھوڑ دیا، یوں بھٹو کا “نمبر ون”ہونا بھی مکمل طور پر مستحکم نہ ہو سکا۔

محمد خان جونیجو کا تجربہ ہوا ، وہ سادہ مزاج، نرم گفتار اور اصول پسند سیاستدان تھے،انہوں نے کوشش کی کہ وہ ایک متوازن جمہوری”نمبر ون” کے طور پر سامنے آئیں،ان کے دور میں کچھ اصلاحات ہوئیں،خودمختاری کے فیصلے کیے گئے اور ریاستی نظام کو ایک واضح سمت دینے کی کوشش بھی کی گئی، مگر طاقت کے اصل توازن میں وہ مکمل طور پر “نمبر ون” نہ بن سکے،انہوں نے شاید وہ تمام “نمبر”حاصل کیے جو ایک جمہوری رہنما کو ملنے ہوتے تھے مگر اقتدار کا اصل مرکز ان کے پاس نہ رہ سکا، اس کے بعد کشمکش کا دور رہا،بینظیر اور نواز شریف، پاکستان کی سیاست ان دو بڑی شخصیات کے گرد گھومتی رہی، بینظیر بھٹو جمہوریت ، مزاحمت اور وراثتی سیاست کی علامت بنیں ، ان کی قیادت میں ایک امید بھی تھی اور جدوجہد بھی، نواز شریف ایک مختلف سیاسی سوچ کی نمائندگی کرتے رہے ،معیشت، ترقی اور عملی سیاست،ان کا انداز تھا، مگر ان کی سیاسی طاقت بھی کسی سے کم نہیں تھی، دونوں نے بار بار “نمبر ون” بننے کی کوشش کی، دونوں نے اقتدار بھی حاصل کیا، مگر دونوں کے ادوار میں ایک مستقل سوال موجود رہا،اصل طاقت کہاں ہے؟یہ وہ دور تھا جب جمہوری حکومتیں موجود تھیں، مگر طاقت کا مکمل توازن کسی ایک مرکز کے پاس نہیں تھا،عمران خان آج بھی سیاسی حقیقت،مگر شجاعت جمہوریت پر چھا گئی۔

نمبر ون کون ہوتا ہے؟ یہاں آ کر ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے، کیا “نمبر ون” صرف وہ ہوتا ہے جو ووٹ سے آئے؟ یا وہ جو حالات کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہو؟ پاکستان کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ یہاں”نمبر ون”صرف ایک آئینی تعریف نہیں رہی بلکہ ایک عملی حقیقت رہی ہے، یہاں وہی شخص یا قوت “نمبر ون” بنی جو بحران میں فیصلہ کر سکے،وقت سے آگے سوچ سکے،اداروں اور حالات کے درمیان توازن رکھ سکے،اور سب سے بڑھ کر، عمل کرنے کی جرات رکھتی ہو،یہی وجہ ہے کہ یہاں صرف جمہوری نعروں سے “نمبر ون” نہیں بنایا جا سکا۔

آج کی صورتحال اس پورے سفر کا ایک نیا موڑ ہے،اب “نمبر ون” کی شجاعت کا دائرہ پاکستان تک محدود نہیں رہا، اس کا اثر خطے سے نکل کر عالمی سیاست تک پھیل چکا ہے،امریکہ، ایران،سعودی عرب،قطر اور دیگر عالمی مراکز میں پاکستان اور ہمارے نمبر ون کی موجودگی اور اثرات محسوس کیے جاتے ہیں،یہ ایک ایسا حقیقت پسندانہ پہلو ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اب “نمبر ون” ہونا صرف ایک سیاسی اصطلاح نہیں ایک زندہ حقیقت ہے ،دنیا نے ہمیں بتا دیا ہے کہ اصل قیادت صرف جمہوریت میں نہیں فیصلہ سازی میں ہے ، وہی شخص یا ادارہ “نمبر ون” بنتا ہے جو صرف نظام کو نہ چلائے بلکہ اسے آگے بھی لے کر جائے، حالات کا حصہ نہ ہو بلکہ ان کو ملکی مفاد میں تشکیل بھی دے، بحران کو موقع میں بدل دے، لہٰذا یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ پاکستان اور دنیا نے یہ فیصلہ دے دیا ہے کہ صرف جمہوری لیبل سے “نمبر ون” نہیں بنا جا سکتا اس کا چہرہ شجاعت سے جڑا ہونا چاہیے۔