نیل کے ساحل سے لے کر۔۔۔

حضرت علامہ اقبالؒنے ایک صدی پہلے کیا خوب کہا تھا:

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر

لیکن کیسی بدقسمتی ہے کہ مسلمان سو برس میں ایک ہونے کی بجائے تقسیم در تقسیم ہوتے چلے گئے۔ خلافت عثمانیہ کے خلاف برطانوی سازشوں نے مسلمانوں کو 52 ملکوں میں تقسیم کر کے رکھ دیا اور برطانوی سازشوں سے مسلم فلسطین کی جگہ بننے والی یہودیوں کی فاشسٹ ریاست اسرائیل آج پوری دنیا کیلئے بہت بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ اکیسویں صدی شروع ہوئی تو پوری دنیا خوش تھی کہ اب ترقی ہو گی۔ لیکن کسے علم تھا کہ نئی صدی کا 26واں سال اس قدر برا ہو گا کہ جنگ ِ عظیم اول اور جنگ عظیم دوم کی یاد آئے گی۔ امریکی صدر ٹرمپ نے نئی صدی کے26 ویں سال کے تیسرے دن ایک گینگسٹر کا روپ دھارا اور ان کے حکم پر امریکی فوج نے آزاد خود مختار ریاست وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو ان کے صدارتی محل سے اُٹھا کر نیویارک کی حوالات میں پہنچا دیا لیکن یہ تو ابتداء تھی صرف دو ماہ بعد صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو خوش کرنے کیلئے وہ کیا جس کی کوئی قانون، کوئی ضابطہ، مذہب، اخلاقیات اجازت نہیں دیتا۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے تہران پر حملہ کیا اور ایران کے روحانی پیشواء آیت اللہ علی خامنہ ای، ان کے خاندان اور ساتھیوں کو شہید کر دیا،اس طرح ایران کیخلاف ایک جنگ کا آغاز کیا گیا۔

یہودیت دنیا کا سب سے پرانا مذہب ہے۔ عیسائیت اور اسلام یہودیوں کے بعد آئے۔چنانچہ یہودی اپنے آپ کو ہر مذہب سے برتر سمجھتے ہیں۔ قبلہ اول یہودیوں، عیسائیوں، مسلمانوں کیلئے یکساں مقدس جگہ ہے۔ مسلمانوں کا قبلہ اول بیت المقدس تھا،چنانچہ مسلمانوں کیلئے بیت المقدس بے حد مقدس مقام ہے۔ بیت المقدس کیلئے مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان صلیبی جنگوں کا طو یل سلسلہ رہا۔ حضرت عمر فاروق ؓ کے دور میں بیت المقدس فتح ہوا اور پھر صلاح الدین ایوبی نے یہودیوں کو وہاں سے نکال کر بیت المقدس میں مسلمانوں کا پرچم لہرایا۔ 78 برس قبل انگریز کی سازشوں سے اسرائیل وجود میں آیا۔ تو یہودی سازشی ذہن نے اپنے پیر پھیلانا شروع کئے اور آہستہ آہستہ مصر، شام،اردن، لبنان کے اندر گھس کر اپنی سرحدیں وسیع کر لیں لیکن یہودی آج بھی حضرت موسی والی یہودی سلطنت کو ”بحال“ کرنا چاہتے ہیں۔امریکہ کی مدد سے اسرائیل نے عراق، شام، لبنان، اردن، مصر کو اِس قابل نہیں چھوڑا کہ اس کا مقابلہ کریں۔ اب ایران واحد ملک ہے جس سے اسرائیل کو خطرہ تھا۔ چنانچہ ایران کے روحانی پیشوا جناب آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کر کے ایران کی تباہی اور ایران کو ”زیر نگین“ لانے کیلئے امریکہ اور اسرائیل نے جنگ کا آغاز کیا۔

28 فروری کو ایران پر حملہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا یہ ایک طویل داستان ہے۔ جولائی 2024ء میں حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ کو تہران میں ان کے فلیٹ میں قتل کیا گیا۔ یحییٰ سنوار قتل ہوئے، حسن نصر اللہ کا قتل ہوا۔ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی قتل ہوئے۔ نیو کلیئر سائنسدان محسن قمر زادہ قتل ہوئے۔ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ حسین امیر عبداللبیان کے ہیلی کاپٹر کا حادثہ ہوا۔ آزاد ماہرین کے مطابق حادثہ نہیں تھا بلکہ اسرائیل نے ہیلی کاپٹر کو گرایا تھا،مرنے والوں میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر عباس نیلفور شان، غلام رضا سلیمانی، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی، جنرل محمد باقری، جنرل حسین سلامی،جنرل غلام علی راشد اور بے شمار سیاسی اور فوجی لیڈرشپ ہے۔ اٹامک سائنسدانوں کو چن چن کر مارا گیا، آج ایران کی قیادت ختم کی جا رہی ہے جس طرح ان کی ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ کوئی نہ کوئی غدار نشاندہی کرتا ہے لیکن ایرانی قیادت نے 1400سال پرانی اسلامی تاریخ دہرا دی ہے۔ جب جنگ موتہ میں اسلامی لشکر کو روانہ کرتے ہوئے آخری نبی محمد مصطفی ؐ نے اسلامی پرچم حضرت زید ؓابن حارثہ کو سونپا اور یہ کہا کہ زیدؓ ابن حارثہ کی شہادت کی صورت میں یہ پرچم جعفر ؓابن ابو طالب اٹھائیں گے، ان کی شہادت کے بعد یہ پرچم عبداللہؓ ابن رواحہ اٹھائیں گے اور ان کی شہادت کے بعد جس کو بھی مسلمان چنیں گے وہ مسلمانوں کا امیر ہو گا۔ موتہ میں مسلمانوں کے تین ہزار کے لشکر کا سامنا روم کے بادشاہ ہرقل کی فوج سے ہوا تو کچھ روایات کے مطابق ان کی تعداد ایک لاکھ اور کچھ کے مطابق ڈھائی لاکھ تھی، پھر حضورؐ کی ہدایت کے مطابق زید ؓابن حارثہ، جعفرؓ بن ابو طالب اور عبداللہؓ ابن رواحہ بالترتیب بہادری سے لڑتے میدان جنگ میں شہید ہوئے تو ثابت بنؓ ارقم نے اسلامی پرچم اٹھایا اور کہا کہ کسی کو امیر مقرر کیا جائے تاکہ یہ پرچم میں اس کو دوں اور پھر حضرت خالد بنؓ ولید المعروف ”سیف اللہ“ کو وہ پرچم دیا گیا،جنہوں نے اس بہت بڑے لشکر کو شکست دی۔ کہا جاتا ہے کہ اس جنگ میں حضرت خاؓلد کے ہاتھ سے نو تلواریں ٹوٹیں، جس پر آخری نبی ؐ نے انہیں سیف اللہ کا لقب عطاء کیا یعنی اللہ کی تلوار۔ یہ واقعہ یہاں بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ایرانی قیادت آج اسی روایت پر عمل پیرا ہے۔

آیت اللہ علی خامنائی کی زندگی میں سب کچھ طے کر لیا گیا تھا کہ کس کی شہادت کی صورت میں پرچم کون اٹھائے گا اور پھر اس کی شہادت کی صورت میں پرچم کون اٹھائے گا۔ لہٰذا آج شہادتیں ہو رہی ہیں۔ شہادتیں دی جا رہی ہیں لیکن جن کی نامزدگیاں پرچم بلند رکھنے کیلئے کی گئی ہیں وہ اپنا پرچم بلند رکھے ہوئے ہیں۔ایرانی پرچم ایک اسلامی ملک کا پرچم ہے اور ابھی تک سربلند ہے۔ دنیا کی سب سے طاقتور ترین فوج اور دنیا کے سب سے بڑے قصائی اسرائیل کے سامنے ایرانی اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ایران کے چاروں طرف واقع اسلامی ممالک میں امریکی اڈے ہیں،انہی اڈوں سے ایران کے اوپر حملے ہوتے ہیں یا ان اڈوں سے ان طیاروں کی مدد کی جاتی ہے جو ایران پر حملہ کرنے جاتے ہیں، لہٰذاجواب میں ایران کو بھی ان اڈوں کو نشانہ بنانا پڑتا ہے۔

یہ وہ اڈے ہیں جو ان ملکوں میں امریکی فوج نے عرب ممالک کو تحفظ دینے کے نام پر بنائے تھے، مگر آج یہ اڈے تحفظ دینے میں ناکام ہیں۔ امریکہ ہر سال اربوں ڈالر ان عرب ممالک سے ”تحفظ“ کے نام پر وصول کرتا ہے۔ امریکہ اسرائیل ایران جنگ تین ہفتے گزرنے کے بعد بھی جاری ہے۔امریکی دعوؤں کے باوجود اسرائیل کھنڈر بنتا جا رہا ہے امریکی اڈوں میں آگ لگی ہوئی ہے لیکن کوئی بھی میڈیا دکھانے کی ہمت نہیں کر رہا۔ سوشل میڈیا پر دکھانے والوں کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ ایرانیوں کے اندر اب تک لڑنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ان کے میزائل نشانوں پہ لگ رہے ہیں وہ کب تک لڑینگے یہ وقت بتائیگا، لیکن لگتا ہے وہ آسانی سے نہیں ہارینگےاور اگر ایرانی یہ جنگ ہار گئے تو پھر امریکہ کو دنیا بھر میں نائن الیون جیسے واقعات کیلئے تیار رہنا چاہئے ۔