وہ بات نہ کھلی جس کاسب کو اندازہ تھا!

روزنامہ پاکستان ای پیپر میں ترکیہ کی ایک خاتون صحافی کی پوسٹ شیئر کی گئی جو اسلام آباد میں ہونے والے ایران، امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ہے خاتون صحافی دیگر تین سو کے قریب ان صحافیوں میں شامل تھیں جو بیرونی ممالک سے اس بڑے اور اہم موقع کی کوریج کے لئے آئے۔ خاتون صحافی ڈینس کلچلی اولو لکھتی ہیں ”پاکستان کے لوگ، کھانا بھی بہت اچھا تھا، صرف ایک بات کی تکلیف ہے کہ یہاں سے معلومات نکلوانا بہت مشکل تھا اور میں جانتی ہوں کہ مذاکرات کی حساسیت کے باعث کیا گیا“۔

یہ ایک صحافی کے مختصر تاثرات ہیں، حالانکہ بہت سے صحافیوں نے یہ اعتراف کیا، پاکستان کی مہمان نوازی کی تعریف کے علاوہ اسلام آباد کو بھی بہت پسند کیا، اگرچہ ایک بزرگ صحافی ہونے اور قریباً ساری عمر رپورٹنگ میں گزارنے کے باعث ذاتی طور پر یہ عمل اچھا نہیں لگا لیکن قومی اور عالمی نقطہ ء نظر سے تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس بار ان تمام دوستوں کو بھی مات ہوئی جو اندر کی خبر لانے کے ماہر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں چونکہ میں خود بھی اپنے رپورٹنگ کے دور میں خبروں کی ٹوہ میں رہتا اور کوشش کرتا تھا کہ دوسرے دوستوں سے بہتر معلومات حاصل کرکے خبر کا حصہ بنا سکوں اور ایسا کئی بار ہوا، دوسرے دو ست بھی اپنی ایکسکلوسو خبر دیتے اور میں بھی کوشش کرتا وہ دور جب الیکٹرونک میڈیا صرف سرکاری تھا اخبارات کا راج تھا، اس دور میں ہم پی ایف یو جے کے جھنڈے تلے ”آزادی صحافت“کا نعرہ لے کر بے روزگاربھی ہوتے رہے۔ تھانہ اور جیل بھی دیکھ لی۔ پولیس کے ڈنڈے تو معمولی بات تھی، اس دور میں اتنا کچھ ہونے کے باوجود بھی بہت کچھ تھا اور اساتذہ سے سیکھنے کا بھی بہت موقع ملا۔

بات کسی اور طرف چلی گئی حالانکہ پاکستان کو ملنے والے اعزاز کے تحت ایران۔ امریکہ مذاکرات بہت ہی حساس اور اہم تھے کہ ان پر نہ صرف پورے خطے بلکہ پوری دنیاکا بہت انحصار تھا (اور اب بھی ہے) کہ جنگ نے دنیا کی معیشت کو بھی ہلا کر رکھ دیا تھا، میں نے اس سارے سلسلے کو ٹی وی کی کوریج سے دیکھا اور حیرت زدہ رہا کہ نہ صرف پوری دنیا سے صحافی مدعو تھے بلکہ اپنے ملکی صحافیوں کی بڑی کھیپ بھی موجود تھی۔ وزارت اطلاعات نے بڑا اہتمام کیا، صحافی حضرات (ملکی) کو بھی فائیو سٹار سہولت دی اور پھر ایک ایسا حیرت انگیز اہتمام دیکھا جس کی مثال شاید پوری صحافتی تاریخ میں نہ ہو کہ مدعو صحافیوں کے لئے بہت بہتر انتظام کیا گیا۔ ان کے لئے کنونشن سنٹر میں نہ صرف بہترین اور کھلی نشست تھی بلکہ ٹی وی سکرینوں کا بھی اہتمام تھا،خاطر تواضع کا انتظام تعریف کے قابل ثابت ہوا لیکن یہ حضرات سب مذاکرات ہال سے دور تھے اور یوں ان کا انحصار بھی میری طرح ٹی وی سکرینوں پر ہی تھا، صحافتی تگ و دو کے حوالے سے مجھے یا کچھ دوستوں کو بُرا بھی لگے کہ اسے پابندی کہا جا رہا ہے لیکن انسانی بہبود کے حوالے سے اسے سب نے گوارا کیا کہ اگر کانفرنس ہال تک رسائی دی جاتی تو پھر قیاس آرائیوں کے گھوڑے بھی سرپٹ دوڑتے، اس کے باوجود سوشل میڈیا توبے لگام تھا، نہ صرف ملک کے اندر بلکہ باہر سے بھی خطرناک پوسٹ کی جا رہی تھیں، جن کو دیکھتے ہی پروپیگنڈے کا تاثر ہوتا تھا، بہرحال میں تو یوں بھی سوشل میڈیا سے بہت دور ہوں کہ نہ اتنا ایکسپرٹ اور نہ ہی قیاس آرائیوں پر یقین رکھتا ہوں۔

داد دینا پڑے گی، مذاکرات کے تینوں فریقوں پر کہ ان کی طرف سے بھی لب بندہی رہے، اس کے لئے تیسرے فریق نے جو اہتمام کیا وہ یہ تھا کہ ہوٹل ہی میں مذاکرات کا اہتمام کیا گیا اور مذاکرات کی میز اور اس ہال میں ایسے تمام انتظامات کئے گئے کہ کسی کا صحافیوں سے ٹکراؤ بھی نہ ہو حالانکہ دونوں فریقوں کے ساتھ ان کے اپنے اپنے ملک سے صحافتی ٹیمیں بھی آئی ہوئی تھیں، یوں یہ مذاکرات اندر کی خبر سے محروم رہے اور سب کچھ بہتر طریقے سے ہوا، فریقین نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا، تعریف کی اور واپس اپنے اپنے ملک چلے گئے۔

یہ بہت زبردست معرکہ تھا کہ بوجوہ عالمی میڈیا سے بات چھپی رہی اور بعد میں تجزیئے اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبریں اور تبصرے دیکھنے اور سننے کو ملے، تاہم ایک امر شاید ہماری حکومتی مشینری سے نہ رک سکا یا پھر مصلحت کے تحت یہ خبر لیک کی گئی کہ مذاکرات ناکام نہیں ہوئے۔جنگ بندی جاری رہے گی اور اگلا دور پھر اسلام آباد میں ہوگا، بہرحال جیسے بھی ہوا جس نے بھی کیا، کریڈٹ تو پاکستانی صحافی کو ملا کہ اب یہ سب سامنے آ گیا ہے اوریہ کہا گیا ہے کہ اسی ہفتے کے دوران پھر سے مذاکرات ہوں گے اور پسندیدہ مقام پاکستان (اسلام آباد) ہے اور یہ اور کسی نے نہیں خود صدر ٹرمپ نے اپنے مخصوص انداز میں فرمایا ہے بلکہ جو بات خفیہ رکھی گئی اور تجزیاتی طور پر خبر بنی اسے بھی امریکی نائب صدر ڈی جے وینس نے امریکہ جا کر بتا دیا کہ ڈیڈ لاک ایٹمی صلاحیت پر ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ پھر سے کہے جا رہے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔

اس سلسلے میں جن اطلاعات کو میں نے غور سے دیکھا ان میں سے مجھے زیادہ پریشان کن یہ حصہ محسوس ہوا ہے کہ صدر ٹرمپ اور امریکی مذاکرات کار، اسرائیل کے لئے سہولتیں حاصل کرنا چاہتے ہیں، ان کا موقف ہے کہ ایران حوثی قبائل، حزب اللہ اور حماس جیسی تنظیموں کی مدد اور ان سے تعلق ختم کر دےامریکی نائب صدر نے اسے دہشت گردی سے موسوم کیا ہے، اس کے علاوہ اسرائیل ہی کے ایماء پر امریکی وفد نے ایرانیوں سے یہ بھی کہا کہ ایرانی دور مار بیلسٹک پروگرام ترک کر دے اور میزائل پروگرام کو صرف اپنی حدود کی حفاظت تک محدود رکھے۔

قارئین! یہ کوئی سکوپ نہیں، ایران کے لئے بہت مشکل مرحلہ ہے۔ پوری قوم نے شہادتیں قبول کرنے تک کا فیصلہ کرکے اتنی بڑی منہ زور طاقت کا مقابلہ کیا اور جذبہ اب بھی قائم ہے اسی لئے افزودہ یورینیم پر بات اٹکی۔ ایران پہلے روزسے کہہ رہا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام توانائی کی سہولتوں کے لئے ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کے لئے نہیں اور اس کے لئے وہ یورینیم افزودگی کی کم سے کم شرح بھی قبول کرنے کو تیار ہے۔ بہرحال باقی امور (بقول وینس) طے ہو چکے، مسئلہ اب یورینیم اور بیلسٹک پروگرام کے علاوہ پراکیسز کی حمائت کا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ تو ایران کو بھی ایک بے ضرر ملک بنانا چاہتا ہے کہ اسرائیل ہر طرف سے محفوظ رہے اور بالآخر اس ناجائز ریاست کو تسلیم بھی کرلیا جائے، اب یہ ایرانی قوم کے عقیدے کا بھی مسئلہ ہے۔

اب بھی مراحل نازک ہیں، مذاکرات کے دوسرے دور کا تو خود ٹرمپ نے اعلان کر دیا ہے اور اعزاز پھر سے پاکستان کا ہے دعا ہے کہ یہ دور باعزت سمجھوتے پر منتج ہو اور پاکستان کا نام سربلند رہے اگرچہ عوام کی قربانیاں اب گلے گلے تک آ چکی ہیں۔ میرا پہلا خیال تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھولپن کے حوالے سے لکھوں لیکن بات مذاکرات اور صحافتی عمل تک محدود رہ گئی، انشاء اللہ اگلے کالم میں عرض ہوگی۔

آج اس گزارش کے ساتھ بات مکمل کرتے ہیں کہ حالات کا بڑا تقاضا مسلمان ممالک کا مکمل اتحاد ہے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ ترکیہ کو مل کر تحفظات دور کرکے یہ بھی کرلینا چاہیے کہ اب بقاء کا سوال ہے۔