آسٹریا (محمد عامر صدیق سے)چیئرمین کشمیر فریڈم فرنٹ آسٹریا پروفیسر مسرت شوکت اعوان کی سربراہی میں یومِ سیاہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی سفارت خانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں پاکستانی، کشمیری اور بین الاقوامی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
مظاہرین برٹ کا رایان پلاٹس، کارلز پلاتز پر جمع ہوئے اور بھارتی حکومت کی پالیسیوں کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ شرکا نے پاکستان اور کشمیر کے پرچم اور مختلف بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر مقبوضہ کشمیر میں مبینہ ظلم و ستم کے خاتمے اور کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق دینے کے مطالبات درج تھے۔
مظاہرے کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا۔ مختلف مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں اور بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مسلسل نظرانداز کر رہا ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔
چیئرمین کشمیر فریڈم فرنٹ آسٹریا پروفیسر مسرت شوکت اعوان نے 5 اگست 2019ء سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات اور قابض افواج کے مسلسل طاقت کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھائے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق انہیں حقِ خودارادیت دلانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کشمیریوں کی آزادی تک احتجاج جاری رہے گا۔ پاکستان کی سفارتی پالیسی میں کشمیری عوام کی حمایت بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور پاکستان ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے بھارتی جارحانہ پالیسیوں کو جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا اور کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق تنازع کشمیر کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے۔
پروفیسر مسرت شوکت اعوان نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پورے خطے پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی، تاہم پاکستان نے واضح کردیا کہ قومی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے آپریشن بنیان مرصوص کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کے 6 جنگی طیارے گرائے اور خبردار کیا کہ مستقبل میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے حوالے سے بھی کہا کہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی پھیلانے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہیں اور افغانستان کو چاہیے کہ وہ بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کیخلاف سرگرمیوں کے بجائے خطے میں امن کے قیام کیلئےکردار ادا کرے۔
پاکستانی اوورسیز کمیونٹی آسٹریا کے صدر رانا ادریس نے کہا کہ بھارت میں مسلمان اور دیگر اقلیتیں بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کے ہندو راشٹر کے منصوبے کا خمیازہ بھگت رہی ہیں۔ انہوں نے فلسطین میں اسرائیلی کارروائیوں اور مظلوم شہریوں کے قتل کی بھی مذمت کی اور کہا کہ فلسطین اور کشمیر دونوں خطوں کے عوام آزادی، انصاف اور بنیادی حقوق کے منتظر ہیں۔ عالمی برادری کو دونوں مسائل کے حل اور خونریزی رکوانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
پاکستانی سماجی شخصیت اظہر شاہ نے کہا کہ بھارت نے اپنے اقدامات اور مسلح افواج کے ذریعے نہتے کشمیریوں پر تسلط قائم کر رکھا ہے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور شہری آبادی کے خلاف کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام سات دہائیوں سے زائد عرصے سے حقِ خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور اس جدوجہد میں خواتین اور بچوں سمیت بے شمار افراد قربانیاں دے چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کو دہشت گردی قرار دینے کی کوششیں ان کی آزادی کی خواہش کو ختم نہیں کرسکتیں اور کئی دہائیوں پر محیط بھارتی جبر بھی اس جدوجہد کو دبانے میں ناکام رہا ہے۔
دیگر مقررین نے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادی کا تناسب تبدیل کرکے مسلم اکثریتی خطے کو ہندو اکثریتی علاقے میں بدلنا اور اس کی الگ شناخت ختم کرنا ہے۔
مقررین نے 27 اکتوبر 1947ء کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس روز بھارتی افواج سری نگر میں داخل ہوئیں، جسے پاکستان اور کشمیری عوام کشمیر پر بھارتی تسلط کے آغاز کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
احتجاج میں شریک افراد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق، امن، انصاف اور حقِ خودارادیت کے لیے آواز بلند کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ مظاہرے کے اختتام پر کشمیری عوام، فلسطین اور پاکستان کے لیے، بالخصوص پاکستانی مسلح افواج کے شہدا کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ آخر میں پروفیسر مسرت شوکت اعوان نے مظاہرے میں شرکت کرنے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا۔

