ٹرمپ، ایٹم اور پاکستان کے بھٹو اور نوازشریف!

دنیا شدید بحران کی زد میں ہے اور صدر ٹرمپ مزے لے رہے، وہ دنیا بھر کی معیشت کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ ماہرین کہتے تھے کہ دنیا میں آئندہ جنگیں پانی کے مسئلہ پر ہوں گی لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے فی الحال اس تصور کوپیچھے دھکیل دیاہے۔ وہ مزے لے رہے ہیں۔ ان کے بیانات کے ساتھ دنیا بھر کے سٹاک ایکسچینج اتار چڑھاؤ کا شکار ہو جاتے ہیں ابھی دو روز قبل انہوں نے جنگ روکنے کا ذکر کیا تو پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کمی ہو گئی۔سٹاک ایکسچینج بھی بہتر ہوئے، شائد ان کو مزہ نہیں آیا اور انہوں نے ایک مرتبہ پھر جنگ جاری رکھنے او رایران کو تباہ کرکے پتھر کے زمانے میں پہنچا دینے کا عزم ظاہرکر دیا اور اس کے ساتھ ہی سب کچھ واپس، پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھ گئے اور سٹاک ایکسچینج مندے کا شکار ہوگئے حالانکہ ابھی گزشتہ ہفتے کے دوران ہی نائب وزیراعظم / وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے وزراء خارجہ کا اجلاس منعقد کرکے تسلی کا اظہار کیا اور پھر چین کے وزیرخارجہ کی دعوت پر بیجنگ بھی اجلاس کرکے آئے جس میں فریقین نے پانچ نکات پر مشتمل ایک اعلامیہ جاری کرکے جنگ روکنے کی اپیل کی۔ ٹرمپ کو شاید یہ سلسلہ بھی پسند نہیں آیا اور وہ ایک بار پھر ”اپنی آئی تے آ گئے“ اپنی ڈگر پر واپس آ گئے اور پہلے سے بڑی دھمکی لگا دی،اسی لئے تو ان کی کسی بات پر یقین نہیں ہوتا اور پاکستان سمیت ثالثی کے لئے کردار ادا کرنے والوں کے لئے بھی مشکل پیدا ہو جاتی ہے اور اب تو امریکی انتظامیہ اور پھر ایران کی طرف سے جو وضاحت آئی ہے اس نے ٹرمپ کی ”ٹرمپنی“پھر ثابت کردی اور یہ بات سچ ثابت ہونے لگی کہ ٹرمپ مذاکرات کو بھی ڈپلومیسی کا ذریعہ بناتے ہیں ورنہ وہ تو اپنے دوستوں کے لئے مستقبل کے تمام خطرات ختم کرنے کے لئے ایران کو غزہ بنانے پر ہی مصر ہیں۔ ایران نے بھی واضح کیا کہ کوئی باقاعدہ مذاکرات کا سلسلہ نہیں، پاکستان کے توسط سے بعض نکات آئے جو ایران کے لئے قابل قبول نہیں، یوں اب پھر سے منظر تباہی والابن گیا ہے۔

امریکی صدر نے مسلسل یہ رٹ بھی لگائی ہوئی ہے کہ ایران ایٹمی صلاحیت کے بل بوتے پر ایٹم بم بنانے والا تھا اور ایسے بیلسٹک میزائل کی تیاری میں مصروف تھا جو امریکہ تک پہنچ سکتے تھے، ان کا دعویٰ ہے کہ ایران کی یہ سب صلاحیت ختم کر دی گئی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایٹمی صلاحیت اور ایٹم بم کا ذکر اس تواتر سے کیاگیا کہ ہمیں اپنا ملک اور اس کو حاصل صلاحیت یاد آجاتی ہے اتفاق یہ ہے کہ آج جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو پاکستان میں ایٹم کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی برسی منانے کے انتظامات ہو رہے ہیں، ان کو ایک مقدمہ قتل کے حوالے سے تختہ دارپر لٹکا دیا گیا تھا، اس مقدمہ کے بارے میں بھی اب سپریم کورٹ کا فیصلہ آ چکا ہوا ہے۔ ہمارے ایک دوست نے ذوالفقار علی بھٹو کی کتاب ”اگر مجھے قتل کیا گیا“ کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ بھٹو کے بقول ایٹم بم تو تیار ہو چکا تھا البتہ اس کا تجربہ 1988ء میں محمد نوازشریف کے ہاتھوں ہوا، ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے سے حال ہی میں ہمارے ایک سابق سیکرٹری خارجہ نے بھی تصدیق کی کہ ذوالفقار علی بھٹو کو امریکی وزیرخارجہ ہنری کسنجر نے واضح دھمکی دی تھی کہ ایٹمی پروگرام کے بدلے میں ان کو نشان عبرت بنا دیا جائے گا۔

اپنے رپورٹنگ دور میں ذوالفقار علی بھٹو کی کوریج کی ہوئی ہے اور مجھے یاد ہے کہ بھٹو نے 14اپریل 1977ء کو گورنر ہاؤس لاہور میں پہلی مرتبہ کہا تھا
“Grey Hounds Are After Me”
اور پھر راولپنڈی کے صدر بازار میں مجمع سے خطاب کرتے ہوئے بھی انہوں نے بتایا کہ امریکہ والے ان کے پیچھے پڑے ہیں۔ یوں ایٹم بم اور ایٹمی صلاحیت کے حوالے سے اب بھٹو بھی زیر بحث آرہے ہیں جن کی کل (4اپریل) کوبرسی ہے اور ان کو اللہ کے حضور حاضر ہوئے 47برس ہوچکے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی قیادت نے اس بار بھی 4اپریل کو گڑھی خدا بخش میں ہونے والا جلسہ منسوخ کر دیا ہے کہ ملک پر معاشی دباؤ کے باعث بچت ضروری ہے۔ ایسا دوسری بار ہوا کہ گزشتہ برس رمضان المبارک کی وجہ سے تقریب موخر کی گئی تھی، بہرحال بات تو ٹرمپ صاحب کی ”ٹرمپی“ کی تھی کہ وہ بار بار ایران کے خلاف ایٹم بم کا الزام لگا رہے ہیں، جسے بھٹو پر بھی لگایا گیا اور اسے اسلامی بم کہا گیا۔ ڈونلڈٹرمپ نے ڈپلومیسی کے بھی کئی رخ تبدیل کر دیئے ہیں اور اب تو اعتبار ہی اٹھ گیا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے سے بھی بہت کچھ کہا جا رہا ہے، ان کی اپنی کتاب کے علاوہ ان کے حوالے سے بہت سی کتابیں لکھی جا چکی ہیں، میرے سینے میں بھی بہت کچھ چھپا ہوا ہے اور بعض ایسے امور بھی ہیں جو شاید کبھی بھی ظاہرنہ کر سکوں، بہرحال ذوالفقار علی بھٹو بڑی شخصیت تھے انہوں نے تمام تر دھمکیوں اور رکاوٹوں کے باوجود ایٹم حاصل کرلیا، یہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ بھٹو کے دور میں فرانس کے ساتھ ایٹمی پلانٹ کا معاہدہ ہوا، اسے ری ایکٹر بھی کہا گیا تھا، فرانس نے یہ معاہدہ منسوخ کر دیا تاہم ذوالفقار علی بھٹو آگے بڑھ چکے تھے وہ پیچھے ہٹنے کو تیار نہ ہوئے اور پھر یہ پلانٹ سیٹھ عابد (مرحوم) کے توسط سے کھلے پرزوں یا آلات کی شکل میں لایا گیا اور ڈاکٹر قدیر اور دوسرے مہربان سائنسدانوں نے اسے جوڑ کر کارآمد بنانے کے بعد ایٹمی صلاحیت حاصل کر لی اور جو بعد ازاں امانت کے طو رپر موجود رہی اور میاں نوازشریف نے دباؤ اورلالچ میں نہ آکر دھماکے کر دیئے اور پاکستان کے ایٹمی قوت ہونے کااعلان کر دیا گیا۔

اس سلسلے میں ایک اور بات قابل ذکر ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے امریکی مداخلت کا الزام لگایا، ایسا ہی محمد نوازشریف کے دور میں بھی ہوا اور ان کا بیان بھی رقم ہے۔ اب ڈونلڈٹرمپ نے تو اس کی کھلم کھلا تصدیق کر دی کہ امریکہ سی آئی اے اور دوسرے عوامل کے ذریعے دوسرے ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا ہے۔ امریکی صدر نے ایرانی عوام کو بغاوت کرنے پر بھی اکسایا اور یہ بھی کہا کہ ایران میں ان کے لوگ موجود ہیں، ان کی یہ بات بھی رد ہو گئی جب ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے نے پوری ایرانی قوم کو متحد کر دیا اور ایران اب تک بڑے ہی نامساعد حالات میں ڈٹ کر کھڑا اور اب پتھر کے زمانے میں بھیجنے کی دھمکی آ گئی ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو اور ایٹمی صلاحیت کے حوالے سے عرض کردوں کہ اس صلاحیت کے لئے شاہ فیصل (مرحوم) اور کرنل قذافی (مرحوم) نے مالی طور پر بہت معاونت کی تھی، کرنل قذافی کی طرف سے تو بہت بھاری رقوم بینک میں رکھوائی گئی تھیں جو پاکستان کے وزیراعظم کی چِٹ پر ریلیز کی جا سکتی تھی، اس کا اندازہ اس کہانی سے بھی ہوتا ہے کہ 1988ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں ایسے دو افراد لاہور میں ٹھہرے جن کے پاس دو کلو یورینیم تھا انہوں نے بعض حضرات سے رابطہ کرکے پیشکش کی کہ ان کو اگر محترمہ سے ملا دیا جائے تو وہ یہ یورینیم ان کو دے دیں،اس کے عوضانہ کے طور پر وہ چِٹ دے دیں اور یہ لوگ بینک سے رقم نکلوا لیں گے۔ خاص ذرائع کا کہنا ہے کہ محترمہ تک جب کسی ذریعے سے بات پہنچائی گئی تو انہوں نے اس میں کسی چال کا شک کرکے نہ صرف انکار کیا بلکہ ہر دو افراد کو ملک سے نکال دینے کی ہدایت کی۔ایٹمی صلاحیت کے علاوہ ذوالفقار علی بھٹو کا ایک اور بڑا قصور 1974ء کی اسلامی کانفرنس،امہ کا اتحاد اور چوتھی دنیا کا تصور تھا اور پھر نہ صرف بھٹو بلکہ اس کانفرنس میں شریک شاہ فیصل،کرنل قذافی، یاسر عرفات اور جمال عبدالناصر کے بعد سادات بھی شکار ہوئے۔ شاہ فیصل کو ان کے بھتیجے نے قتل کیا اور اب یہ انکشاف ہو چکا کہ ان کی برین واشنگ ایک خاتون کے ذریعے ہوئی تھی۔

یہ تاریخ کا حصہ ہے اور تاریخ سے سبق لینا چاہیے جو کوئی نہیں لیتا، بھٹو میں بعض کمزوریاں بھی تھیں لیکن خوبیاں بدرجہ اتم تھیں جن کے باعث بھٹو آج بھی زندہ ہے۔