وطن صرف نقشے پر کھینچی ہوئی سرحدوں کا نام نہیں ہوتا۔ یہ تاریخ، شناخت، قربانی، احساسِ وابستگی اور اجتماعی غیرت کا دوسرا نام ہوتا ہے۔ اسی لیے قومیں اپنے ملک کو ماں کی طرح دیکھتی ہیں؛ ایسی ماں جو اپنی اولاد کو صرف جنم ہی نہیں دیتی بلکہ اسے پہچان، پناہ اور وقار بھی عطا کرتی ہے۔ وطن سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے ملک کی کمزوریوں سے آنکھیں بند کر لے، اور نہ ہی یہ کہ وہ ہر مثبت پیش رفت کو محض اس لیے رد کر دے کہ اسے اس کی ناپسندیدہ سیاسی قوت نے انجام دیا ہے۔ بالغ قومیں اندھی حمایت بھی نہیں کرتیں اور اندھا انکار بھی نہیں کرتیں۔ وہ غلطی پر تنقید بھی کرتی ہیں اور جہاں ریاست، حکومت یا ادارے قومی مفاد میں مؤثر کردار ادا کریں وہاں اس کا اعتراف بھی کرتی ہیں۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے آج یہی سیاسی بلوغت سب سے زیادہ ضروری ہے۔
پاکستان کا سفر ابتدا ہی سے آسان نہیں رہا۔ 1947 میں قائم ہونے والی اس ریاست نے سیاسی عدم استحکام، آئینی بحران، مارشل لا کے ادوار، جمہوری حکومتوں کے نشیب و فراز، معاشی دباؤ، دہشت گردی، احتجاج اور قومی سانحات سب کچھ دیکھا۔ پاکستان کی تاریخ کا بڑا حصہ سیاسی اور ادارہ جاتی کشمکش کی زد میں گزرا۔ تاہم ان تمام آزمائشوں کے باوجود پاکستان قائم رہا، سنبھلا، اور ہر بحران کے بعد دوبارہ اٹھ کھڑا ہوا۔ یہی اس ملک کی اصل طاقت ہے: ٹوٹنے کے خطرات کے باوجود جڑے رہنے کی صلاحیت۔
یہی استقامت آج بھی پاکستان کی پہچان ہے۔ آبادی، جغرافیے، وسائل اور علاقائی اہمیت کے اعتبار سے پاکستان نہ تو ایک معمولی ریاست ہے اور نہ ہی اس کی ذمہ داریاں معمولی ہیں۔ یہ ایک بڑی آبادی، پیچیدہ سماجی حقائق اور حساس خطے کے باوجود قائم رہنے والی ریاست ہے۔ ایسے ملک کا ہر قدم صرف داخلی نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات خطے اور بعض اوقات دنیا تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائی کے بعد ایران کے گرد جو جنگی بحران بھڑکا، اس نے تقریباً چالیس روز تک پورے خطے کو شدید بے چینی میں مبتلا رکھا۔ 7 اپریل کو اعلان ہونے والی جنگ بندی سے پہلے تک صورتحال مسلسل بگڑتی رہی۔ اس جنگ میں خطے بھر میں ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں، توانائی کی رسد میں خلل اور جنگی بے یقینی نے عالمی معیشت پر بھی خاصا دباؤ بڑھایا۔ اس بحران نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بھڑکنے والی آگ صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے شعلے دنیا بھر کی منڈیوں، معیشتوں اور سفارتی تعلقات کو متاثر کرتے ہیں۔
ایسے ماحول میں، جب مایوسی غالب تھی اور دنیا ایک اور بڑے تصادم کے خدشات میں گھری ہوئی تھی، پاکستان ایک اہم سفارتی سہولت کار کے طور پر سامنے آیا۔ 2 اپریل 2026 کو وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ امریکہ اور ایران دونوں نے مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور اسلام آباد بامعنی بات چیت کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ یہ کوئی معمولی سفارتی بیان نہیں تھا۔ اس نے پاکستان کو محض تبصرہ کرنے والے ملک کے بجائے ایک عملی رابطہ کار کے طور پر سامنے لایا، اور یوں پاکستان دنیا کی نگاہ میں امن کی امید کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھرا۔
اس کے بعد اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی رابطوں نے اس کردار کو مزید نمایاں کیا۔ 13 اپریل کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد اسلام آباد پہنچا، جبکہ ایرانی وفد بھی وہاں موجود تھا، اور بلاواسطہ و بالواسطہ مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھا۔ اگرچہ یہ بات چیت کسی حتمی معاہدے پر ختم نہیں ہوئی، تاہم آگے کے لیے بہتری کی امید قائم رہی۔ بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے 15 اپریل کو کہا کہ ایران کے ساتھ گفتگو جاری اور مثبت ہے اور اگلا بالمشافہ دور دوبارہ پاکستان میں ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کے امکان کو بہت زیادہ قرار دیا اور پاکستان کے کردار کو سراہا۔ یہ صورتِ حال خود اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان نے محض رسمی بیان بازی نہیں کی بلکہ ایک سنجیدہ اور قابلِ اعتنا کردار ادا کیا۔
اس دوران پاکستان نے صرف میزبان کا کردار ادا نہیں کیا بلکہ علاقائی مشاورت کو بھی متحرک رکھا۔ 14 اپریل کو اسلام آباد میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے اعلیٰ حکام کا اجلاس ہوا، جبکہ 15 سے 18 اپریل کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کے سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے دورے طے ہوئے تاکہ علاقائی امن اور سلامتی کے سلسلے میں مشاورت کو آگے بڑھایا جا سکے۔ اسی تسلسل میں 15 اپریل کو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران پہنچے، جہاں ان کی ملاقاتوں کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان باقی ماندہ اختلافات کم کرنا اور جنگ بندی کے بعد کے سیاسی راستے کو زندہ رکھنا تھا۔ یہ تمام سرگرمیاں اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہیں کہ پاکستان اس نازک مرحلے پر محض ناظر نہیں بلکہ ایک متحرک سفارتی کردار کے طور پر سامنے آیا۔
یہاں ایک اصولی بات پوری وضاحت سے کہی جانی چاہیے۔ اگر آج کی حکومت اور مسلح افواج کی قیادت، بالخصوص وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، قومی مفاد، علاقائی استحکام اور امن کے قیام کے لیے مثبت کردار ادا کر رہے ہیں تو اسے ذاتی، نظریاتی یا سیاسی تعصب سے بالاتر ہو کر سراہانا چاہیے۔ اچھے کام کا اعتراف کسی جماعت کی حمایت نہیں ہوتا؛ یہ دراصل ملک کے وقار کا اعتراف ہوتا ہے۔ جب کوئی اقدام پاکستان کے نام پر، پاکستان کے مفاد میں، اور خطے میں امن کے لیے کیا جا رہا ہو تو اس کی تحسین دراصل قومی شعور کا اظہار ہوتی ہے، نہ کہ سیاسی کمزوری۔
بدقسمتی سے ہمارے سیاسی ماحول میں ایک خرابی یہ رہی ہے کہ ہم اکثر کسی کام کی قدر اس کے نتیجے سے نہیں بلکہ اس کے ماخذ سے کرتے ہیں۔ اگر کوئی مثبت قدم ہمارے پسندیدہ حلقے سے آئے تو ہم اسے قومی خدمت قرار دیتے ہیں، اور اگر وہی قدم مخالف کی طرف سے ہو تو اس کی اہمیت گھٹا دیتے ہیں۔ یہی رویہ قومی سنجیدگی کو کمزور کرتا ہے۔ پختہ قومیں تنقید بھی کرتی ہیں اور اعتراف بھی۔ وہ احتساب سے گریز نہیں کرتیں، مگر جہاں ریاست ملک کے لیے کوئی مثبت اور باوقار کردار ادا کرے وہاں بخیلی بھی نہیں دکھاتیں۔ یہی رویہ قوموں کو مضبوط بناتا ہے۔
پاکستان نے اپنی تاریخ میں بہت کچھ سہا ہے، اور شاید اسی لیے وہ جنگ کی قیمت بھی جانتا ہے اور امن کی قدر بھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب خطہ آگ میں گھرا ہوا تھا تو پاکستان نے طاقت کے شور میں مکالمے کی زبان اختیار کی۔ یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ ابھی کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا، بنیادی اختلافات باقی ہیں، اور آئندہ مذاکرات کی کامیابی یقینی نہیں۔ لیکن یہ بھی کم کامیابی نہیں کہ جنگ بندی کے بعد بات چیت کا دروازہ بند نہیں ہوا، اور اس دروازے کو کھلا رکھنے والوں میں پاکستان کا نام نمایاں ہے۔
آخرکار، ملک واقعی ہر چیز سے بالا ہوتا ہے۔ افراد آتے ہیں، حکومتیں بدلتی ہیں، سیاسی بیانیے بنتے اور ٹوٹتے ہیں، مگر وطن باقی رہتا ہے۔ اسی لئے سچے محبِ وطن کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کی کوتاہیوں کو بھی دیکھے اور اس کی کامیابیوں کا اعتراف بھی کرے۔ پاکستان اگر اس نازک وقت میں امن کیلئے ایک مخلصانہ، فعال اور باوقار کردار ادا کر رہا ہے تو اسے تسلیم کرنا چاہیے۔ اور اگر موجودہ حکومت اور فوجی قیادت نے اس میں مؤثر حصہ ڈالا ہے تو اسے کھلے دل سے سراہانا چاہیے، کیونکہ ایسے لمحات افراد کے نہیں، پوری قوم کے ہوتے ہیں۔ آج اگر دنیا پاکستان کے کردار کو اہمیت دے رہی ہے تو بطور پاکستانی ہمیں اس پر فخر ہونا چاہیے۔
پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔

