مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اب اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ ایسے نازک اور پیچیدہ وقت میں پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی پیشکش ایک سنجیدہ اور جراتمندانہ اقدام کے طور پر سامنے آئی ہے۔ یہ پیشکش اس امر کی غماز ہے کہ پاکستان خطے میں تماشائی کا نہیں ایک ذمہ دار اور فعال ریاست کے طور پر امن کے قیام میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس سلسلے میں نہ صرف عملی پیش رفت کی بلکہ سفارتی سطح پر متحرک کردار بھی ادا کیا۔ انہوں نے ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسی تسلسل میں پاکستان کی عسکری قیادت بھی سرگرم رہی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے گفتگو اس بات کی عکاس ہے کہ پاکستان اس معاملے کو سیاسی نہیں بلکہ اسٹریٹیجک اہمیت کا حامل سمجھتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنی ایک اہم ٹویٹ میں کہا”پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش رکھتا ہے اور ہم تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ پاکستان امن کے قیام کیلئےہر ممکن کردار ادا کرنے کیلئےتیار ہے اور امریکہ و ایران کے درمیان بامعنی مذاکرات کے آغاز میں سہولت فراہم کرنے کو تیار ہے۔”
اس ٹویٹ کو امریکی صدر کی جانب سے ری ٹویٹ کیا جانا ایک علامتی مگر اہم پیش رفت ہے، جو اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اسلام آباد کے کردار کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔تاہم، اس صورتحال میں کئی پیچیدگیاں بھی موجود ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی بیانات میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی اور مذاکرات کی بات کی جاتی ہے، جبکہ دوسری جانب عسکری نقل و حرکت اور ایرانی تنصیبات پر حملے کر دئیے جاتے ہیں۔ یہی تضاد اعتماد سازی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔ ایران کا مؤقف نسبتاً واضح ہے کہ وہ مذاکرات سے انکاری نہیں، لیکن وہ اپنی شرائط پر بات چیت کو ترجیح دے گا۔ ان شرائط میں مستقل جنگ بندی کی ضمانت، مستقبل میں حملوں سے اجتناب، نقصانات کا ازالہ اور خطے میں امریکی عسکری موجودگی میں کمی جیسے نکات شامل ہیں۔
پاکستان کیلئے یہ صورتحال غیر معمولی سفارتی توازن کا تقاضا کرتی ہے۔ ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ اس کے گہرے دفاعی تعلقات ہیں، دوسری طرف ایران اس کا ہمسایہ اور ایک اہم علاقائی شراکت دار ہے، جبکہ امریکہ کے ساتھ اسٹریٹیجک روابط بھی اپنی جگہ برقرار ہیں۔ مزید برآں، چین جیسے قریبی اتحادی کے مفادات کو بھی پیشِ نظر رکھنا ناگزیر ہے۔اس پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی تناظر میں پاکستان کی ثالثی کی کوشش ایک مشکل مگر ناگزیر چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے حالیہ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا اور تمام فریقین کو تحمل، مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی تلقین کرتا ہے۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ موجودہ صورتحال انتہائی حساس ہے اور کسی بھی غیر ذمہ دارانہ اقدام سے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات تاحال ابتدائی مراحل میں ہیں۔ اعتماد سازی کے لیے بیک ڈور چینلز، ثالثی کوششیں اور علاقائی طاقتوں کا کردار نہایت اہم ہوگا۔ ترکی اور مصر کی جانب سے بھی ثالثی میں دلچسپی ظاہر کی گئی ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی برادری اس تنازع کے پھیلاؤ سے شدید تشویش میں مبتلا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ممکنہ دورہ پاکستان سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی تاحال باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ سفارتی حلقوں کے مطابق اس نوعیت کے دورے عموماً حساس نوعیت کے ہوتے ہیں اور حتمی پیش رفت سے قبل انہیں خفیہ رکھا جاتا ہے۔
جنگ کے آغاز سے اب تک پاکستان مسلسل کشیدگی میں کمی کیلئے متحرک رہا ہے۔ علاقائی و عالمی قیادت سے رابطوں تک، پاکستان نے ہر سطح پر امن کے قیام کی کوشش کی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد وقتی جنگ بندی نہیں بلکہ ایک پائیدار اور دیرپا امن کی بنیاد رکھنا ہے۔
ایران کی جانب سے پاکستان پر اعتماد کا اظہار بھی اس عمل میں ایک اہم سفارتی سرمایہ ہے۔ ماضی میں ایرانی قیادت پاکستان کو ایک قابل اعتماد دوست قرار دے چکی ہے، اور موجودہ حالات میں بھی یہی اعتماد پاکستان کیلئے ایک اہم اثاثہ ہے۔ تاہم، اس اعتماد کو برقرار رکھنے کیلئےپاکستان کو غیر معمولی احتیاط، توازن اور دانشمندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
بلاشبہ، پاکستان اس وقت ایک بڑے سفارتی امتحان سے گزر رہا ہے۔ اگر وہ اس پیچیدہ تنازع میں مؤثر ثالثی کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف اس کی خارجہ پالیسی کی بڑی کامیابی ہوگی بلکہ عالمی سطح پر اس کے وقار میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔ تاہم، اس راستے میں خطرات بھی کم نہیں، اور یہی وہ مقام ہے جہاں محتاط، متوازن اور دوراندیش سفارتکاری پاکستان کی اصل آزمائش بن جاتی ہے۔

