پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اور اثرات

بھوکے سے کسی نے پوچھا، دو اور دو کتنے ہوتے ہیں تو اس نے ترت جواب دیا،چار روٹیاں، اس لئے آپ کے پاس کتنے بھی مضبوط دلائل ہوں یہ بھوک اور ضرورت کے سامنے دم توڑ جاتے ہیں، مانا کہ آپ نے معاشی دباؤ اور عالمی منڈی کے چڑھاؤ کے باعث یہ قدم اٹھایا ہے لیکن ضرورت مند تو ڈھونڈھ ڈھونڈ کر شکایت نکال رہے ہیں۔ بڑی بات تو یہ ہے کہ متاثرین و صارفین پوچھتے ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات تو عالمی منڈی میں مہنگی ہوئیں اور بقول خود آپ مجبور تھے لیکن لوگ پوچھتے ہیں کہ ان کو وہ مجبوری بھی تو بتا دیں جس کے باعث 55روپے فی لیٹر لیوی میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ آپ کے موقف کے مطابق پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوئیں تو قیمت بڑھانا بھی مجبوری ہے۔ مان لیا، اگرچہ یہ بھی بحث طلب ہے لیکن یہ 55روپے فی لیٹر تو روکے جا سکتے تھے کہ لیوی آپ کے خزانے میں جائے گی اور آپ عوام کے لئے قوم کو قربانی کی دعوت دے رہے ہیں اگرچہ نام اشرافیہ کا بھی لیا جاتا ہے لیکن یہ اشرافیہ تو بقول شخصے پورا ٹیکس ادا نہیں کرتی تو عوام کے لئے قربانی کیا دے گی۔

میں سمجھتا ہوں کہ اقتدار کی کرسی کی ضروریات اور ترجیحات شاید مختلف ہوجاتی ہیں کہ حکومت وقت نے اس بحران کے حوالے سے کئی اجلاس کئے اور بہت کچھ سوچا لیکن صورت یہ نکلی کہ اب آپ کو بڑی شرح سے قیمت بڑھانا پڑی اور پھر دلچسپ امر تو یہ بھی ہے کہ جب بھی پٹرولیم کے نرخ بڑھتے یا بڑھائے جاتے ہیں تو نرخ صافی بتائے جاتے ہیں، پٹرولیم ڈیلرز کی کمیشن کا ذکر نہیں ہوتا چنانچہ جو نرخ اوگرا مقرر کرتی یاحکومت منظوری دیتی ہے تو مارکیٹ کے حقیقی نرخ ڈیلرز کی کمیشن سمیت ہوتے ہیں اور اب بھی دو روپے فی لیٹر سے زیادہ اضافہ ہوا اور اصل قیمت458روپے 41 پیسے نہیں 460 روپے اسی سے نوے پیسے تک ہے۔ اسی طرح ڈیزل بھی 520سے دو ڈھائی روپے فی لیٹر زیادہ قیمت پر فروخت کے لئے حاضر ہے۔ قلت نہیں صرف قیمت بڑھی اور اس کے ساتھ ہی سفید پوش شہریوں کا بھرم اور بھی ٹوٹا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی تک مہنگا کیا جا چکا جبکہ اب نیشنل ہائی ویز والوں نے ٹال بھی بڑھا دیا ہے آخر ان کی بھی تو ضرورت ہے۔

کوئی بھی ملک ہو، ہنگامی صورت اور حالات میں تمام پہلوؤں پر غور کیا جاتا ہے اور یقینا اس حوالے سے بھی ایسا ہوا ہوگا کہ اجلاسوں کی خبریں نشر اور شائع ہوتی رہیں تاہم لگتا ہے کہ پٹرولیم صنعتوں کے نرخ بڑھاتے وقت اس کے اثرات پر غور نہیں کیا گیا، ہم تو ایسی قوم ہیں جو رمضان المبارک کے تقدس کوبھی پامال کر دیتے ہیں اور اس ماہ مبارک سے پہلے ہی منافع خوری کا انتظام کرلیتے ہیں اور اب تو سرکاری طور پر نرخ بڑھائے گئے ہیں، ابھی اس اعلان کی سیاہی خشک نہیں ہوئی تھی کہ ٹرانسپورٹ منہ کھولے برآمد ہو گئے اور انہوں نے کسی بھی حساب کتاب کے بغیر کرایوں میں اضافہ کر دیا، صرف ایک مثال عرض کرتا ہوں کہ عام ٹرانسپورٹر نے لاہور سے راولپنڈی کے کرائے میں فی مسافر ایک ہزار روپے کا اضافہ کیا اور ہر بس کم از کم 40سے 45مسافر لے جاتی ہے تو کیا ایک پھیرے کے ڈیزل کی لاگت اسی تناسب سے بڑھی یا یہ من مانا منافع ہے اور بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والی بات ہے۔ لگژری بسوں کے کرائے کا ذکر کرلیں کہ وہ تو پہلے آرام دہ سفر کے نام پر زیادہ کرایہ لیتے ہیں۔(حکومت نے ان کے لئے بڑی سبسڈی کا اعلان بھی کیا)

حکومت کے لئے سکیمیں بنانے اور متعارف کرانے والوں کے پاس دلائل ہوں گے لیکن اس کا کیا جواب ہے کہ لوڈر ٹرک والوں (گڈز ٹرانسپورٹر) نے جو کرائے بڑھائے اس کا کوئی تناسب بھی طے کیا گیا؟ یہ بھی از خود بڑھا لئے گئے اور یقینا اب ریلوے کے کرایوں میں اضافہ بھی مجبوری ہوگی، چنانچہ تمام تربوجھ تو عام آدمی پر ہی منتقل ہوگا اورمنافع خور جو پہلے ہی جبڑے کھولے تیار ہوتے ہیں وہ عوام کے ساتھ کیا کریں گے کہ صبح صبح رکشا والوں نے مطالبہ دوگنا سے زیادہ کر دیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نرخ بڑھانا مجبوری تھی تو اس کے نتائج پر بھی غور کیا جاتا اور متعلقہ فریقوں سے پہلے بات کی جاتی۔ ٹرانسپورٹروں کے ساتھ مشاورتی اجلاس لازم تھا اور حکومت مذاکرات کے بعد اتفاق رائے سے اضافہ طے کرتی اب تو حکومت سے کسی نے پوچھا بھی نہیں اور لوٹ مار شروع کر دی گئی ہے۔ان تمام عوامل کے اثرات اشیاء خوردنی اور ضروری پر پڑیں گے جو فوری ہوئے ہیں اور مہنگائی کی ایک نئی لہر شروع ہوگئی ہے۔ انتظامیہ کی طرف سے دفاع کے حق میں دیئے جانے والے دلائل اور موٹرسائیکلوں پر دی جانے والی ریلیف کابھی مذاق اڑایا جا رہا ہے کہ ایک مہینے میں صرف 20لیٹر پر سبسڈیز دی جائے گی اور یہ بھی ایک سو روپے لیٹرہوگی۔ حق دار وہ ہوں گے جو رجسٹرڈ کرائیں گے اوران کی اہلیت سرکاری خیراتی سکیم کے حوالے سے طے کی جائے گی۔ اثرات اتنے زیادہ ہیں کہ تفصیل کے لئے کئی کالم بھی کم ہوں گے۔ صرف اتنا عرض کروں کہ کفائت شعاری طے کرنے کے لئے بڑے اجلاس صدر آصف علی زرداری کی صدارت میں ہوئے اور انہوں نے بڑی درست اور مناسب نصیحت کی کہ لوگ پبلک ٹرانسپورٹ سے استفادہ کریں۔ محترم اتنے سادہ اور بھولے نہیں کہ ان کو یہ معلوم نہ ہو کہ ملک میں پبلک ٹرانسپورٹ کی کتنی کمی ہے۔ وہ ذرا کراچی والوں ہی سے پوچھ لیں۔ میری درخواست صرف یہ ہے کہ آپ قومی بہبود و مفاد میں جو بھی فیصلے کریں، آپ کو اختیار ہے تاہم اتنا کرم ضرور کریں کہ ایسے اقدامات کے اثرات کا بھی جائزہ لے لیا کریں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جنگ ہی رکوا دیں اور خطے کی عمومی زندگی بحال ہو جائے تو شاید ایسے اقدامات کی ضرورت نہ ہو تاہم یہ لازم ہے کہ بڑھی ہوئی قیمتوں کی واپسی ہمارے ملک میں تو جلدی ہوتی نہیں کہ ہم اور ہمارے تاجر بہت محب وطن ہیں۔

نوٹ: تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے سرکاری پبلک ٹرانسپورٹ کا کرایہ ختم کر دیا گیا، اب ٹکٹ کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اسلام آباد اور پنجاب کے بڑے شہروں والے مستفید ہوں گے۔