پیوستہ رہ شجر سے…… امید بہار!

انگریزی محاورہ ہے There Are so many Slips betwen Cup and Lipsاس کا اردو میں ترجمہ تو یہی ہو سکتا ہے (منزل تک پہنچنے سے پہلے بہت سے مشکل مقام بھی آتے ہیں)، اگر یہ مناسب نہیں تو اسے تشریح ہی جان لیں کہ اسلام آباد میں جو میز سج چکی یا آج سجنے والی ہے یہ ایسا ہی مشکل مقام ہے جو محاورے پر پورا اترتا ہے۔ میں نے دو مختلف ممالک کے درمیان کسی مفاہمت والے معاملے کی تفصیلی کوریج تو نہیں کی لیکن بعض غیر معمولی حالات میں متعدد غیر ملکی اکابرین کی گفتگو سننے اور ان سے بات کرنے کا اتفاق ضرور ہوا۔ مجھے یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ جولائی 1970ء میں جب شیخ مجیب الرحمن لاہور آئے تو ان سے پہلا انٹرویو کیا ان کے ساتھ ڈاکٹر کمال بھی تھے،اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو سے بھی خصوصی اور غیر رسمی گفتگو ہوتی رہی جبکہ ملکی سیاست میں متحدہ اپوزیشن (COP)سے پی این اے اور پھر بعد میں بنتے ٹوٹتے سیاسی اتحادوں کا بھی شاہد ہوں اس لئے دو باتیں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ان اکابرین کی زبان پر جو ہوتا ہے وہ ان کے دل میں یا مجلس میں نہیں ہوتا اور بعض اوقات ہم صحافی بھی پچھاڑ دیئے جاتے ہیں، لیکن جو آج ہو رہا ہے یہ بہت ہی حساس ہو چکا ہے کہ امریکی صدر محترم کو نہ تو اپنی زبان پر قابو ہے اور نہ ہی ان کو کسی جرم یا سہو کا احساس ہوتا ہے، ان کے منہ میں جو آتا ہے وہ کہہ دیتے ہیں اور ان کی انہی ٹرمپیوں نے مذاکرات کی میز میں اتنی تاخیر کر دی کہ اس عرصہ میں نہ صرف متاثرہ ممالک کا بہت زیادہ نقصان ہو گیا بلکہ مذاکرات سے پہلے شبہات کا بھی مسلسل اظہار ہو رہا ہے۔ یوں دل کانپ رہے ہیں کہ جس مسئلہ یا تنازعہ نے پوری دنیا میں کھلبلی مچا دی اور خدشہ پیدا ہوا کہ تیسری عالمی جنگ تک نوبت نہ آ جائے اگرچہ اس سلسلے میں ٹرمپ صاحب ہوشیار تھے جبکہ روس اور چین بہت ہی محتاط اور سنجیدہ رہے اگر ایران کو کسی بھی نوعیت کا تعاون ملا تو وہ میڈیا کی زد میں نہیں آیا البتہ ان دونوں ممالک نے انصاف پرمبنی موقف اختیار کیا حتیٰ کہ بحرین کی اس قرارداد کو سلامتی کونسل میں ویٹو بھی کر دیا جس میں آبناء ہرمز کھلوانے کے لئے سلامتی کونسل کی منظوری سے عالمی طاقت استعمال کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، اس قرارداد کے حق میں گیارہ ووٹ بھی آ گئے تھے (پاکستان غیر جانبدار رہا اور ووٹنگ میں حصہ ہی نہ لیا) یوں کئی مشکل مقام آئے اور ٹلتے رہے۔ بہرحال پاکستان کی سرتوڑ کوشش سے بحران ٹالنے کے لئے اسلام آباد کا انتخاب ہو ہی گیا۔

میں نے ابتداء میں جو محاورہ تحریرکیا اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی فریق کی جانب سے اپنے موقف کے حق میں مسلسل اور بار بار تکرار کی جا رہی ہے کہ لبنان کا تنازعہ ان مذاکرات کا حصہ نہیں جبکہ ایران کی طرف سے اصرار ہے، اس لئے اس حوالے والے بیانات خدشات پیدا کرتے ہیں، جبکہ میں نے یہ بھی عرض کیا تھا کہ اسرائیل اس سارے سلسلے میں خوش نہیں کہ وہ اس لئے جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے کہ امریکہ جیسی بڑی قوت ایران کا زیادہ سے زیادہ نقصان کردے اگرچہ ایرانی قیادت کے یکے بعد دیگرے شہید ہونے کے بعد بھی ایران کے عزم کو توڑا نہ جا سکا۔

اب مذاکرات شروع ہونے سے قبل شرارت شروع ہوئی ایک تو اسرائیل نے لبنان پر بمباری جاری رکھی ہوئی تھی اور دوسرے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات پر رضامندی ظاہر کرکے بھی منافقانہ طرز عمل تھا،لبنان اورغزہ پر وار کرنے کا مقصد ایران کو مشتعل کرنا تھا اور ایرانی قیادت کی طرف سے احتجاج کیا بھی گیا، تاہم ایران والے اب بھی زیادہ سے زیادہ بامقصد بات کرتے ہیں، مذاکرات طے ہو جانے اور دو ہفتے کی جنگ بندی کے بعد بھی خلاف ورزی ہوئی جس پر وزیراعظم شہبازشریف اور معاونین کو تشویش کا اظہار کرنا پڑا، تاہم اب ایران کے پاسداران انقلاب(اصل قوت) نے بہت ہی واضح طور پر کہا ہے کہ اگر کہیں خلاف ورزی ہوئی تو یہ ان کی طرف سے نہیں۔ صہیونی شرارت ہوگی کہ ”ہم (پاسداران انقلاب) جب بھی وار کریں گے برملا اعلان کرکے کریں گے، تو قارئین! ظاہر ہے کہ یہ جو پاکستان کی سرتوڑ کوشش اور حریفوں کی تنقید اور خدشات کے باوجود مذاکرات کی میز سج گئی ہے تو اس کیلئے فریقین کو تحمل اور سمجھداری سے کام لینا ہوگا کہ اب تو ایران کی طرف سے آبناء ہرمز کے بند کر دیئے جانے والی یک رخی خبروں کی بھی تردید اور وضاحت آ گئی ہے کہ آبناء ہرمز بند نہیں بلکہ یہاں سے امریکی جہاز بھی تحفظات کو دور کرکے گزر سکتے ہیں البتہ انتظامیہ نے بعض خدشات دور کرنے کے لئے روٹ میں تھوڑی تبدیلی کی ہے البتہ آبناء ہرمز کھلی اور جہاز گزر رہے ہیں۔ یوں مذاکرات سے قبل ایک اور درفنطنی کی دم مروڑ دی گئی ہے۔

میں نے اپنے دو روز پہلے والے کالم میں اپنے حکومتی اور سیاسی رہنماؤں سے گزارش کی تھی کہ دنیا کو تباہی سے بچانے کے لئے فریقین کو مذاکرات پر راضی کیا گیا ہے تو ملک کے اندر بھی ایسا کیا جائے اور اتفاق پیدا کیا جائے۔ میں قومی قائد حزب اختلاف اچکزئی اور تحریک انصاف کی سنجیدہ قیادت کی داد دیتا ہوں جنہوں نے نہ صرف 9اپریل کا جلسہ منسوخ کیا بلکہ اچکزئی صاحب نے تو برملا مذاکرات کے حوالے سے ریاستی کوششوں کی تائید کرکے پاک فوج کے حق میں نعرے بھی لگا دیئے بلاشبہ یہی جذبہ ہونا چاہیے اور میں چیئرمین تحریک استقلال کو بھی داد دیتا ہوں جنہوں نے باقاعدہ اعلان کیا کہ جلسہ بانی جماعت عمران خان کی مرضی اور اجازت سے منسوخ کیا گیا ہے بہرحال اچکزئی صاحب نے تو بلالحاظ و تردد قومی جذبہ ظاہر کیا اور یہ بھی فرمایا کہ عمران خان کو بھی منائیں گے، تاہم گیہوں میں گھن بھی ہوتے ہیں، تحریک انصاف کے سخت گیر حضرات ناراض ہوئے ہیں وہ جلسہ منسوخ کرنے کے حق میں نہیں تھے، جہاں تک عمران خان کی ہمشیرگان کا تعلق ہے تو ان کو سیاست سے الگ کرکے بہنوں کے جذبات کے حوالے سے دیکھنا چاہیے اور ان کی سخت باتوں کو درگزر کرنا چاہیے۔

میں دعاگو ہوں کہ کپ اور لب کے درمیان جو رکاوٹیں ہیں وہ انسانی ہمدردی اور انسانیت کے جذبے تلے دب کر فوت ہو جائیں۔جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے تو نیتن یاہو حالات سے مجبور ہوئے ہیں اور لبنان سے براہ راست مذاکرات کی بات مان کر اعلان کر دیاہے۔