پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کبھی ایشیا کی ان چند فضائی کمپنیوں میں شمار ہوتی تھی جن پر فخر کیا جاتا تھا۔باکمال لوگ لاجواب سروس کا سلوگن آج بھی پی آئی کے جہازوںکی دم پرنظرآتاہے. ایک ایسا ادارہ جو صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی ہوا بازی کی دنیا میں بھی اپنی پہچان رکھتا تھا۔ مگر آج اسی ادارے کا ذکر زیادہ تر خسارے، بحران اور مسافروں کی شکایات کے تناظر میں کیا جاتا ہے۔
پی آئی اے کی نجکاری کے بعد یہ توقع پیدا کی گئی تھی کہ شاید اب اس قومی ادارے کی قسمت بدل جائے گی۔ یہ امید بھی دلوں میں جگہ بنا رہی تھی کہ نئی انتظامیہ جدید تقاضوں کے مطابق ادارے کو دوبارہ منافع بخش اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بنائے گی۔ مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ جیسے ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ادارے کی پالیسیوں میں وہی پرانا ردعمل دیکھنے کو ملا جس کی وجہ سے پی آئی اے برسوں سے تنقید کی زد میں رہی ہے بوجھ براہِ راست مسافروں پر ڈال دیا۔
حالیہ فیصلے کے مطابق نہ صرف کرایوں میں اضافہ کیا گیا ہے بلکہ مسافروں کے سامان (لگیج) کی حد بھی کم کر دی گئی ہے۔ پہلے جو سہولتیں نسبتاً بہتر سمجھی جاتی تھیں وہ اب محدود کر دی گئی ہیں۔ اکانومی کلاس میں 28،28 کلو کے دو بیگ کی اجازت ختم کر کے اسے 20،20 کلو تک محدود کر دیا گیا ہےجبکہ بزنس کلاس میں بھی اسی نوعیت کی کمی اور تبدیلیاں کی گئی ہیں۔کرایوں میں اضافہ عام مسافر کیلئےمزید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔
یہ صورتحال صرف ایک پالیسی تبدیلی نہیں بلکہ اس سوال کو دوبارہ زندہ کرتی ہے کہ آخر پی آئی اے جیسے ادارے مسلسل بحران کا شکار کیوں رہتے ہیں؟ کیا یہ صرف عالمی تیل کی قیمتوں کا اثر ہے یا پھر اندرونی انتظامی کمزوریاں، غلط فیصلے اور دیرینہ بدانتظامی اس کی اصل وجہ ہیں؟
سچ یہ ہے کہ پی آئی اے کا زوال اچانک نہیں ہوا۔ یہ ایک طویل اور مسلسل عمل ہے جس میں مختلف ادوار کی حکومتوں، انتظامیہ اور پالیسی سازوں کا کردار شامل رہا ہے۔ کبھی سیاسی مداخلت نے ادارے کو نقصان پہنچایا، کبھی غیر ضروری بھرتیوں اور انتظامی نااہلی نے اسے بوجھل کیا اور کبھی اصلاحات کے نام پر ایسے فیصلے کیے گئے جو وقتی طور پر تو فائدہ دیتے نظر آئے مگر طویل مدت میں نقصان دہ ثابت ہوئے۔
پی آئی اے کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہ ادارہ کبھی دنیا کی بہترین ایئرلائنز میں شمار ہوتا تھا۔روٹس اور بین الاقوامی سطح پر قابلِ اعتماد ساکھ اس کی پہچان تھی۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ پہچان دھندلا گئی اور آج صورتحال یہ ہے کہ مسافر اکثر شکایات کرتے ہیں، سروسز پر سوال اٹھاتے ہیں اور متبادل ایئرلائنز کو ترجیح دیتے ہیں۔
اصل مسئلہ صرف کرایوں یا سامان کی حد میں کمی نہیں، بلکہ اعتماد کے بحران کا ہے۔ جب ایک قومی ادارہ مسلسل عوام کے اعتماد سے محروم ہوتا چلا جائے تو پھر ہر پالیسی، ہر فیصلہ اور ہر اعلان مشکوک نظر آنے لگتا ہے۔ مسافر یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ آخر وہ ایک مہنگی اور غیر یقینی سروس کیوں لیں؟
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پی آئی اے کے مسائل کا حل صرف قیمتوں میں ردوبدل یا وقتی اقدامات سے ممکن نہیں۔ اس کیلئے گہرے، سنجیدہ اور مستقل اصلاحاتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ شفافیت، پیشہ ورانہ انتظام، سیاسی مداخلت سے آزادی اور جدید ایوی ایشن مینجمنٹ کے اصولوں پر عمل کیے بغیر یہ ادارہ دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکتا۔
اگر واقعی پی آئی اے کو بچانا مقصود ہے تو پھر اسے ایک کاروباری ادارے کے طور پر چلانا ہوگا نہ کہ ایک سیاسی بوجھ کے طور پر۔ دنیا کی کامیاب ایئرلائنز اسی اصول پر چلتی ہیں کہ سروس بہتر ہو، اعتماد بحال ہو اور مسافر کو پہلی ترجیح سمجھا جائے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں اکثر اداروں کے ساتھ یہی کہانی دہرائی جاتی ہے.زوال، پھر اصلاحات کے دعوے، پھر وقتی اقدامات اور آخر میں دوبارہ بحران۔ پی آئی اے بھی اسی دائرے میں گھومتی دکھائی دیتی ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس بار واقعی کچھ بدلے گا؟ یا پھر یہ ادارہ ایک بار پھر کسی نئے فیصلے، نئے اعلان اور نئی قیمتوں کے ساتھ اسی پرانے راستے پر چلتا رہے گا، جہاں منزل کم اور بحران زیادہ ہوتے ہیں؟وقت کا تقاضا ہے کہ پی آئی اے کو محض ایک ایئرلائن نہیں بلکہ ایک قومی اثاثہ سمجھ کر اس کی سمت درست کی جائے۔ ورنہ خدشہ یہی ہے کہ جو ادارہ کبھی آسمانوں کی بلندیوں پر پاکستان کا نام روشن کرتا تھا، وہ زمین پر بھی اپنی پرواز برقرار نہیں رکھ سکے گا۔

