کتا یا انسان /سی سی ڈی کا انصاف؟

پاکستان میں ہر سال لاکھوں لوگوں کو کتے کاٹتے ہیں اور ان ”کاٹنے والے کتوں“ کو ”لائسنس ٹو کِل“ ہماری اعلیٰ عدالتوں نے جاری کیا ہوا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف پنجاب میں گزشتہ پانچ سال میں 13لاکھ افراد کو آوارہ کتوں نے کاٹا۔ کتے کے کاٹے سے ہر سال ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2000سے 5000تک بتائی جاتی ہے، لیکن اس سب کے باوجود اعلی عدلیہ کا حکم ہے کہ کتوں کو جان سے مارا نہیں جا سکتا، ان کو آئندہ اولاد پیدا کرنے سے روکا جائے اور ٹیکے لگائے جائیں تاکہ ان کے کاٹنے سے کسی کو ریبیز نہ ہو اور پھر انہیں ”آزاد چھوڑ دیا جائے“ لیکن دوسری طرف معاشرے میں ”انسانوں کو کاٹنے والے انسانوں“کو سزا دینے کا عمل اتنا سست ہے کہ کتے کو مارنا مشکل اور انسان کو مارنا آسان ہو چکا ہے۔ بلکہ اب تو ”انسان کے بچوں“کو بے دردی سے”ذبح کرنا“بھی مشکل نہیں رہا۔

سمجھ نہیں آتا کہ وہ معصوم پھول جن کو ڈانٹتے ہوئے بھی کسی ”مہذب انسان“کو سو دفعہ سوچنا پڑتا ہے کہ یہ پھول مرجھا نہ جائیں۔ ان پھولوں کی نرم و نازک ”گردنوں پر چھری“کیسے چلائی جا سکتی ہے اور وہ بھی پیدا کرنے والی ماں کے ہاتھوں سے چلائی گئی ہو۔ تو پھر اللہ تعالی سے یہی دُعا کی جا سکتی ہے کہ یا اللہ ایسے لوگوں کو اولاد ہی نہ دے۔ وہ لوگ بھی تو ہیں جو اولاد کو ترس رہے ہیں جو روزانہ بارگاہ الٰہی میں گڑگڑا کر دعائیں کرتے ہیں کہ مولا ہمارے گھر میں بھی کوئی پھول کھلا دے، لیکن جن کو اللہ تعالیٰ نے اولاد سے نوازا ہے وہ کیسے اس اولاد کی گردن پر چھری چلا سکتے ہیں۔”ایک نہیں تین تین“بچے ذبح کرنے کا واقعہ لاہور کے مصروف بازار اچھرہ میں پیش آیا جہاں تین معصوم بچوں کو ان کی ماں نے ذبح کر ڈالا۔

ماں کے ہاتھوں ذبح ہونے والے بچے ساڑھے پانچ سال کی مومنہ، چار سال کا مومن رضا اور ڈیڑھ سال کی ام حبیبہ کٹے گلوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہو چکے ہیں، لیکن ایسا کیا ہوا کہ ایک ماں جس نے بچوں کو جنم دیا تھا ایسی مجبور ہوئی کہ اس نے اپنے ہی بچوں کی گردنوں پر چھری چلا دی۔ کیس کی تحقیقات جاری ہیں اور پنجاب پولیس کے ”نامور شعبہ سی سی ڈی“کو تحقیقات سونپ دی گئی ہیں اگر تو کسی باپ نے مارا ہوتا تو اب تک وہ کسی نہ کسی گلی سڑک یا کھیت کھلیان میں اپنے اس غلطی کی سزا بھگت چکا ہوتا،لیکن یہاں معاملہ عورت کا ہے لہٰذا امید تو یہی ہے کہ کیس عدالت میں جائے گا اور ججوں کو فیصلہ کرنے کا موقع ملے گا لیکن کیا فیصلہ ہو گا،ابھی تک سامنے آنے والی آدھی ادھوری تحقیقات میں کہیں ”ملزمہ مظلوم“نظر آتی ہے اور کہیں شوہر کو دھوکہ دینے والی بیوی نظر اتی ہے۔

لاہور کے کرائم رپورٹرز کو ”پولیس کی فراہم کردہ معلومات“ کے مطابق ملزمہ“کہیں قاتل ہے اور کہیں مظلوم“۔ سمجھ نہیں آتا کہ انویسٹی گیٹو رپورٹرز آخر کہاں چلے گئے،جو پولیس رپورٹ پر انحصار کی بجائے خود سچ ڈھونڈ نکالنے کی کوشش کرتے تھے۔جھنگ کے رہائشی جوڑے ”قاتلہ ردا“اور اس کے شوہر رمضان نے سات سال پہلے محبت کی شادی کی تھی، لیکن محبت کی شادی کا اتنا بھیانک انجام کیوں ہوا۔ اِس سے تو بہتر وہ ارینجڈ میرج ہوتی ہے جس کو بچانے کے لئے دو خاندان متحرک ہو جاتے ہیں۔ پولیس کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ردا کا شوہر رمضان ناکارہ انسان نظر آتا ہے اور اس میں یہ ناکارہ پن ایک ٹریفک حادثے میں ٹانگ تڑوانے کے بعد آیا۔ اِس سے پہلے وہ برسر روزگار تھا۔ ٹانگ ٹوٹنے کے بعد گھر میں ”دال روٹی کے بحران“ نے جنم لے لیا، لیکن کیا کوئی عورت اتنی سی بات پر اپنے شوہر سے اتنی ناراض ہو سکتی ہے کہ اپنے بچوں کی جان لے لے۔

ایک کرائم رپورٹر کو پولیس کی فراہم کردہ ”اطلاعات“ کے مطابق ردا کا شوہر ایک جعلی پیر کے پاس ”دستر خوان میں برکت“کے لئے گیا تھا، جس نے اس کے دماغ میں ڈالا کہ پیسہ عورت کے نصیب سے ملتا ہے اپنی بیوی کو لے کر آؤ اور پھر ملزمہ کے شوہر نے اپنی بیوی کو جعلی پیر کے ”ڈیرے“پہ صبح سے شام چھوڑنا شروع کر دیا۔ جہاں ملزمہ کے مطابق اس کے ساتھ وہی ہوا جو کوئی حیوان کرتا ہے۔ اس پیر نے اسے باربار بے آبرو کیا اور رمضان نے اپنی بیوی کی کسی فریاد پر کان نہیں دھرا کہ ”بیوی کے نصیب والا پیسہ“ابھی ملا نہیں تھا۔ سمجھ نہیں آتا کے پیسے کے لئے ایسا کچھ بھی ہو سکتا ہے اور یہ کیسے لوگ ہیں، جو پیسے کے لئے بیوی کسی جعلی پیر کے حوالے کر دیتے ہیں۔اس کیس میں اب تک کرائم رپورٹرز نے ”پنجاب پولیس کو ناکارہ“ قرار دیتے ہوئے سارا کریڈٹ سی سی ڈی کو سونپ دیا ہے۔ لگتا ہے کہ پنجاب پولیس کے دانت ہی کسی نے نکال دیئے ہیں۔

انویسٹی گیٹو رپورٹرز کا فرمان ہے کہ کئی گھنٹوں تک ”ردا اس کے شوہر رمضان، اس کی ساس اور اس کے دیور اسد ڈان“کو اپنے قبضے میں رکھنے کے باوجود ”تھانہ پولیس“ ملزمہ سے اعتراف جرم نہیں کرا سکی تھی۔ شام سات بجے سی سی ڈی کو بلایا گیا اور آدھے گھنٹے میں ہی انہوں نے سچ اُگلوا لیا۔ ملزمہ ردا نے تینوں بچوں کے قتل کا اعتراف کر لیا اور بتایا کہ اس کا شوہر اسے پیر کے پاس بھیجتا تھا جس نے اس کی متعدد بار آبرو ریزی کی۔ اس کے علاوہ اس کا شوہر اسے مختلف لوگوں سے ”رابطہ کرنے اور کمانے“کے لئے بھی کہتا تھا۔ سی سی ڈی نے یہ بھی پتہ چلا لیا کہ ملزمہ کا رابطہ جھنگ کے ایک نوجوان شہریار سے تھا جو اسے موبائل ایپ کے ذریعے پیسے بھی بھیجا کرتا تھا اور ردا سے شادی کا خواہشمند تھا، جو ممکن نہیں تھی، کیونکہ بچوں کا مسئلہ تھا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کس کس کی گردن کے گرد ”سی سی ڈی کا دائرہ“ لگتا ہے۔ملزمہ کا شوہر رمضان بھی دودھ کا دُھلا نہیں ہے، وہ جعلی پیر جس نے اس عورت کی آبرو ریزی کی وہ بھی کسی رعایت کا مستحق نہیں، ملزمہ سے مار پیٹ کرنے والا اس کا دیور اسد ڈان اور ساس ان سب کے ساتھ کیا سلوک ہو گا منتظر ہیں کیا ہو گا۔ ویسے ایسا لگتا ہے کہ سی سی ڈی والے ”ہپناٹزم کے ماہرین“سے بھی مدد لیتے ہیں تاکہ ملزم کے اندر سے سچ نکلوا سکیں۔ سی سی ڈی کی سچ اگلوانے کی کامیابی کے بعد کیس انہیں سونپ دیا گیا ہے۔

سی سی ڈی کی زیادہ تر کامیابیاں تو ”ڈکیتی اور ریپ کے مجرمان“کو کھیتوں، کھلیانوں،گلی، محلوں میں ”براہ راست انصاف“ فراہم کرنا اور اللہ سے ملانا ہے۔ کئی ریپ ملزمان کو سی سی ڈی والوں سے بچ کر بھاگتے ہوئے اپنا ہی پستول نیفے میں چل جانے سے ”انصاف“مل چکا ہے۔ گذشتہ ہفتے ہی ایک ملزم نے سی سی ڈی کے ہاتھوں پکڑے جانے کے خوف سے ایک زیر تعمیر عمارت میں خودکشی کر لی۔ دیکھتے ہیں اس کیس میں سی سی ڈی کی ”پٹاری“ سے کیا نکلتا ہے۔