کیا ایران میں بغاوت ممکن ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل یہ کہتے چلے جا رہے ہیں کہ ایرانی قیادت (مبینہ طور پر جس سے وہ بات کر رہے ہیں) معاہدہ کرنے کے لئے بے چین ہے، اب یہ میری (ٹرمپ) مرضی ہے کہ میں ایسا کروں یا نہ کروں۔ دوسرے معنوں میں وہ بقول خود یہ جنگ جیت چکے ہیں اس کے باوجود بالواسطہ مذاکرات کا سلسلہ شروع ہے اور اب انہوں نے اپنی اس رعائت میں مزید دس روز کی مہلت کا اضافہ کیا جو ایران کے توانائی مراکز پر حملے نہ کرنے کی تھی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ٹرمپ صاحب نے اسرائیل کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی نہ گارنٹی دی،چنانچہ اسرائیل کی طرف سے مسلسل شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تازہ خبر کے مطابق تہران میں پاکستان کے سفارت خانے کے قریب تر حملہ کیا گیا۔ اطلاع کے مطابق سفارتی عملہ محفوظ ہے۔ کیا ایسا تو نہیں کہ اسرائیل کی طرف سے ایساجان بوجھ کر کیا گیا ہو کہ پاکستان اس وقت امن کے لئے اہم کردار انجام دے رہا ہے جو اسرائیل کو پسند نہیں اور نہ آ سکتا ہے۔ اسرائیل کا اصرار ہے کہ اب ایران کو بھی غزہ بنا دیاجائے اسی لئے شہری آبادی پر بھی حملے کئے جا رہے ہیں تاہم ایران کی طرف سے مذاکرات پر آمادگی کے باوجود دفاع اور جوابی حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس نے اسرائیل کے ایک شہری مئیر کو رلا کر رکھ دیا ہے ان کے مطابق ایسے لوگ کثیر تعداد میں ہیں جو سائرن کی آواز کے بعد بھاگ کر شیلٹروں میں نہیں جا سکتے۔ یوں اسرائیل کے اندر بے چینی اور آہ و بکا شروع ہو چکی،جبکہ ایران میں ایسا نہیں ہوا۔ شہری زیادتی برداشت کر رہے ہیں لیکن احتجاج پر آمادہ نہیں اور نہ ہی نیتن یاہو کی یہ خواہش پوری ہونے کا امکان ہے۔

ایران میں گزارا قریباً ایک مہینہ میرے لئے کئی امور میں چشم کشا ہے ایرانی حکومت کی دعوت پر میں نے قدرت اللہ چودھری کے ساتھ تہران میں منعقد ہونے والی ذرائع ابلاغ کی عالمی کانفرنس میں شرکت کی تھی۔ نمائش میں ہم نے روزنامہ پاکستان کا سٹال لگایا اس میں ایرانی شہریوں نے بڑی دلچسپی لی تھی اور پاکستان کے ساتھ اپنے گہرے جذبات کا بھی اظہار کیا تھا اس دوران ہم نے جائزہ لیا تو سخت مذہبی حکومت کے باوجود وہ صورت حال نہیں تھی جو اب افغانستان میں طالبان کی طرف سے روا رکھی جا رہی ہے۔ سرکاری دفاتر میں مکمل حجاب کی پابندی تھی لیکن دفتری اوقات کے بعد عام بازاروں میں ایسا نہیں تھا، باہر صرف چہرے والے حجاب کی ضرورت تھی نوجوان مرد و خواتین، دوشیزائیں جین اور جیکٹ میں ملبوس چلتی پھرتی نظر آتی تھیں۔ اس کے علاوہ ایران کی انتظامیہ نے دکھایا کہ مواصلاتی ٹیکنالوجی میں وہ مغرب سے کم نہیں اور سائنس پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی، حتیٰ کہ تہران میں استعمال شدہ پانی کو فلٹر کرکے دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کا اہتمام بھی تھا ، خلائی سائنس کا شعبہ بھی تھا اور تہران یونیورسٹی کا حصہ ہے اس لئے اگر ایران یورینیم کی افزودگی تک پہنچ چکا تھا اور میزائل سازی میں مقام حاصل کر چکا تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔

ہمارا تجزیہ جب بھی یہی تھا اور میں اب بھی کہہ سکتا ہوں کہ بعض مغربی طرز کے تحفظات کے باوجود سپریم کمانڈر کی گرفت مضبوط تھی۔ تہران اور قم کے علاوہ بعض دوسرے شہروں کی سیاحت کے دوران ہم بھی نماز ادا کرتے تھے اور جہاں موقع ملتا وہاں سجدہ دے لیا جاتا، سرکاری طور پر شیعہ ریاست ہونے کے باوجود کبھی کسی نے ہماری طرف توجہ دی نہ اعتراض کیا تھا، اس لئے ہم نے واپس آکر بتایا تھا کہ ایران میں ایک حد تک برداشت اور آزادی موجود ہے بہرحال ہم نے جتنا بھی وقت گذارا وہ معلوماتی تھا اور ہمارے سوالات کے جواب بھی تحمل اور مہذب انداز سے دیئے گئے تھے۔ ہم نے اس دوران یہ بھی اندازہ لگایا تھا کہ نوجوان نسل کچھ زیادہ آزادی کی خواہش مند ہے کہ مغربی اثرات پائے جاتے تھے تاہم کھلے بندوں اظہار کی نوبت نہیں آتی تھی،حالیہ جنگ والے حالات کے دوران لوگ حیران ہیں کہ ایران میں اقتدار کی کرسی کے خلاف احتجاج اور بغاوت کیوں نہیں ہوئی تو اس کا جواب بڑا واضح ہے کہ سخت گیر مذہبی قیادت کے باوجود ایران شیعہ ملک ہے اور اسرائیل و امریکہ کے لئے عوام کے دلوں میں وہ جگہ نہیں جس کی توقع کی جا رہی ہے اور پھر یہ عقیدہ ہی ہے جس نے قوم کو یکجا کر دیا کہ غیر ملکی تسلط کسی کو پسند نہیں۔ اب یہ تو ممکن ہو کہ حالات حاضرہ میں جب اقوام متحدہ ایک مناظرے کا پلیٹ فارم رہ گیا ہے۔ ایران کو غزہ کی طرح کھنڈر بنا دیا جائے لیکن یہ شاید ممکن نہ ہو کہ عوام امریکہ و اسرائیل کی ”غلامی“ قبول کرلیں یہ عقیدے کابھی معاملہ ہے۔

میں نے گزشتہ روز عرض کیا تھا کہ امریکی صدر مہلت مہلت کھیل کر وقت حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے آبناء ہرمز پر کنٹرول کے لئے میرینز روانہ کر دیئے ہوئے ہیں، اب خود ان کی طرف سے بتایا گیا کہ نہ صرف میرینز بلکہ چھاتہ بردار خصوصی دستے بھی راستے میں ہیں، یوں ایران کو مجبور کرنے کا پکا ارادہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جواب میں ایران یہی کر سکتا ہے۔”ہم تو مرے ہیں مگر تم کو لے مریں گے“ چنانچہ اطلاعات کے مطابق نہ صرف ہرمز بلکہ کئی اور راستے بھی بند کرنے کے ارادے ظاہر کر دیئے گئے ہیں۔

میری پھر سے دعا ہے کہ اللہ پاکستان، ترکیہ اور مصر کی کوششوں کو حقیقی کامیابی سے ہمکنار کرے کہ اسی میں بھلائی ہے ابھی تک ماحولیاتی آلودگی کا ذکر نہیں کیا جا رہا جس نے پورے خطے کو لپیٹ میں لے لیاہے،اور اگر کہیں کسی توانائی کے مرکز یا ایٹمی بجلی گھر جیسی تنصیب پر حملہ ہوا تو جو ہوگا اس سے بہت خوف آتا ہے اس لئے دنیا کو معیشت سے بھی زیادہ اس طرف توجہ دینا ہو گی۔