واشنگٹن(رائٹرز، امریکی سینیٹ)امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مذاکراتی ٹیم نے آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیشکش نہیں کی۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ اب تک ہونے والی بات چیت میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی پابندیوں میں نرمی شرائط سے مشروط ہوگی اور اس کا تعلق ایران کے جوہری پروگرام سے ہوگا، نہ کہ صرف آبنائے ہرمز کھولنے سے۔
انہوں نے کہا کہ ایران پر پابندیاں اس کے یورینیم کی افزودگی اور جوہری سرگرمیوں کے باعث عائد کی گئی تھیں، لہٰذا اگر تہران ان سرگرمیوں سے دستبردار ہونے اور متعلقہ معاہدوں پر عمل درآمد کیلئے آمادہ ہوتا ہے تو اس صورت میں پابندیوں میں نرمی پر غور کیا جا سکتا ہے۔
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور تہران پہلی بار اپنے جوہری پروگرام کے بعض ایسے پہلوؤں پر بات چیت کیلئےآمادہ ہوا ہے جن پر وہ ماضی میں رضامند نہیں تھا، تاہم اس پیش رفت کو کسی حتمی معاہدے کی ضمانت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
امریکی وزیرِ خارجہ کے مطابق مذاکرات میں پہلا اہم مرحلہ آبنائے ہرمز کی بحالی اور بحری آمدورفت کا معمول پر آنا ہے، جبکہ اس کے بعد جوہری پروگرام اور انتہائی افزودہ یورینیم کے معاملے پر تفصیلی مذاکرات ہوں گے۔
سماعت کے دوران قانون سازوں نے ایران کے ساتھ جاری تنازع اور امریکی حکمتِ عملی پر مزید وضاحت کا مطالبہ بھی کیا جبکہ انتظامیہ پر کانگریس کو مکمل معلومات فراہم نہ کرنے پر تنقید کی گئی۔

