کالم کا عنوان پڑھ کر پاکستان کے عوام کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو جائیں لہٰذا شروع میں ہی وضاحت کر دیتا ہوں کہ یہ 21 روپے پاکستان کے قیام کے بعد پاکستان کی پہلی اسمبلی کے ممبران (نوابزادہ لیاقت علی خان، سردار عبدالرب نشتر وغیرہ) کی یومیہ تنخواہ تھی جس میں ٹریول الاؤنس وغیرہ ملا کر 45 روپے یومیہ ملا کرتے تھے۔ یہ تھا ہمارے سیاست دانوں کا آغاز اور آج ہمارے سیاستدان 21 لاکھ روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ پریشان مت ہوں یہ21 لاکھ چیئرمین سینٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہ ہے، جن کی تنخواہ میں یکم جنوری 2025ء کو پانچ گنا سے زیادہ اضافہ کیا گیا تھا۔ جبکہ مفت بنگلہ، پٹرول، پانی، بجلی، گیس، ٹیلیفون، اندرون و بیرون ملک مفت علاج، سرکای گاڑیاں، بغیر تنخواہ ڈرائیور، خانساماں، مالی، پی اے، پی ایس او، محافظ اور دیگر الاؤنسز اس کے علاوہ ہیں، اسمبلی اور سینٹ اراکین کے بارے میں بعد میں بات ہو گی۔ یہ کالم لکھنے کا خیال سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے جج حضرات کی تنخواہوں میں گذستہ ہفتے کئے گئے اضافہ کو دیکھ کر آیا۔ یہ اضافہ 10 دسمبر 2025ء سے کیا گیا ہے اور سپریم کورٹ کے ججوں کی تنخواہ میں چار لاکھ روپے کا اضافہ کر کے تنخواہ 15 لاکھ مقرر کر دی گئی ہے البتہ چیف جسٹس کو دیگر ساتھی ججوں سے 50 ہزار زیادہ ملیں گے۔ تنخواہ کے علاوہ تین لاکھ 39 ہزار روپے کا جوڈیشل الاؤنس ملے گا یوں تنخواہ 15 لاکھ روپے ماہانہ ہو جائے گی۔ سپریم کورٹ ججز کیلئے میڈیکل الاؤنس ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ کر دیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ کے ججز کی تنخواہوں میں ایک لاکھ 10 ہزار روپے کا اضافہ کر کے تنخواہ 12 لاکھ 5 ہزار کر دی گئی ہے جبکہ چیف جسٹس کو 12 لاکھ 54 ہزار ملیں گے۔ کالم کی ابتدا ہوئی تھی 21 روپے یومیہ سے 21 لاکھ روپے تک کے ذکر سے۔21روپے یومیہ تنخواہ 1956ء تک برقرار رہی۔ 1956ء میں نیشنل اسمبلی سیلریز اینڈ الاؤنسز ایکٹ آیا جس کے بعد ماہانہ تنخواہ 400 روپے کر دی گئی۔ 1966ء میں ایوب خان نے 100 روپے کا اضافہ کر دیا، ٹریول الاؤنس کی مد میں ساڑھے چھ ہزار روپے سالانہ بھی دئیے گئے، چنانچہ ماہانہ تنخواہ 1041 روپے ہو گئی۔ 1973ء میں سینٹ کے قیام کے بعد سینیٹر کی تنخواہ بھی اراکین اسمبلی کے برابر کر دی گئی۔ 1974ء میں ممبر آف پارلیمنٹ سیلریز اینڈ الاؤنسز ایکٹ آ گیا جس میں تنخواہ تین گنا بڑھا کر 1500 روپے مہینہ کر دی گئی۔ فری ٹریول واؤچر 6600 روپے سالانہ، بائی روڈ فی میل ایک روپیہ اور سالانہ ٹیلی فون الاؤنس 2400 روپے کر دیا گیا۔ اس طرح تنخواہ رقم 2250 روپے ماہانہ ہو گئی۔ضیا الحق کے مارشل لا میں بننے والی غیر جماعتی اسمبلی نے تنخواہ تو وہی برقرار رکھی سفری واؤچرز، زمینی سفر، ٹیلی فون الاؤنس بڑھا دئیے۔ دفتری الاؤنس (750 روپے) کا اضافہ کیا گیا اور تنخواہ چار ہزار روپے ماہانہ ہو گئی۔ 1988ء میں بے نظیر اقتدار میں آئیں تو بنیادی تنخواہ 1500 سے بڑھا کر 3000 کر دی۔ ٹریول واؤچر، ٹیلیفون، آفس الاؤنس بڑھا دئیے اور تنخواہ 10500 ہو گئی۔ 1993ء میں اراکین اسمبلی کو 2000 روپے مہمان داری الاؤنس بھی دیا گیا، جبکہ ٹیلی فون، آفس الاؤنس بڑھا دئیے گئے۔ ماہانہ تنخواہ 14 ہزار ہو گئی۔ 1996ء میں بنیادی تنخواہ پانچ ہزار کر دی گئی سفری واوچرز، ٹیلی فون الاؤنس بڑھا دیئے گئے۔
2003ء میں بنیادی تنخواہ پانچ ہزار سے بڑھا کر 15 ہزار کر دی گئی مہمان داری الاؤنس، فری ٹریول واؤچر، ٹیلی فون الاؤنس بڑھ گئے ماہانہ تنخواہ 46333 روپے ہو گئی۔2004ء سے 2010ء تک سالانہ 15 فیصد ایڈہاک اضافہ ہوتا رہا۔ 2013ء میں تنخواہ 99061 روپے اور 2014ء میں ایک لاکھ 1798 روپے ہو گئی اور 2014ء میں پہلی مرتبہ اراکین اسمبلی کی تنخواہوں نے ایک لاکھ کا ہندسہ پار کر لیا۔ (اب یہاں ایک نکتہ وضاحت ہے کہ آج سے 10 – 11 سال پہلے ایک مزدور کی مقرر کردہ ماہانہ اجرت 14 ہزار روپے تھی،جو آج 10- 11 سال بعد 41 ہزار روپے کر دی گئی ہے)۔
2016ء میں کل تنخواہ 108977 روپے ہو گئی۔ 2018ء میں پارلیمانی ترمیم کر کے بنیادی تنخواہ ڈیڑھ لاکھ روپے کر دی گئی 15 ہزار ایڈھاک الاؤنس اور الاؤنسز ملا کر تنخواہ 213000 ہو گئی۔2025ء میں پارلیمنٹ نے سیلریز اینڈ الاؤنسز ایکٹ 1974ء میں ترمیم کر دی اور تنخواہ میں چار گنا اضافہ کر کے بنیادی تنخواہ کو ڈیڑھ لاکھ سے چھ لاکھ روپے ماہانہ کر دیا۔ تین لاکھ کے ٹریول واؤچرز 30 بزنس کلاس ریٹرن ٹکٹ ٹیلی فون الاؤنس، آفس الاؤنس، مہمان داری الاؤنس 35، 35 ہزار روپے دے دئیے گئے۔ ہر رکن پارلیمنٹ اور اس کے اہل خانہ کو تاحیات بلیو پاسپورٹ اور گریڈ 22 کے افسر کے برابر طبی سہولیات بھی دے دی گئیں۔
دوران اجلاس ہر رکن اسمبلی کو دو ہزار روپے یومیہ ہاؤسنگ الاؤنس، ہوائی سفر کیلئے بزنس کلاس، بائی روڈ سفر کیلئے 25 روپے فی کلومیٹر ادائیگی، ڈیلی الاؤنس دوران اجلاس 11400 روپے اور کنوینس الاؤنس ماہانہ اس کے علاوہ اس طرح کل تنخواہ نو لاکھ 88 ہزار 500 روپے بن گئی۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاسوں میں شرکت پر قومی اسمبلی کے اجلاس کے برابر الاؤنس ملتا ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی مرکزی اور ذیلی کمیٹیوں کے گزشتہ سال ہونے والے 140 اجلاسوں میں شرکت کرنے والے ہر رکن کو 21 لاکھ 56 ہزار روپے سالانہ، یعنی 4 لاکھ 42 ہزار روپے ماہانہ بھی ادا کیے۔اس کے برعکس سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سالانہ سات فیصد اضافہ کیا جاتا ہے جبکہ حکومت نے اداروں فیکٹری، دکانوں پر کام کرنے والے مزدور کی اجرت 37 ہزار سے بڑھاکر 40 ہزار 700 کر دی ہے۔ پنجاب نے یہ اجرت 40 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی ہے۔ البتہ سرکاری ملازمین کو 2008ء سے 2013ء کی پیپلز پارٹی کی حکومت نہیں بھولی جب تین سال تنخواہوں میں 20 فیصد، ایک سال 15 فیصد اور 11 – 2010ء میں تنخواہ میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا۔ اس طرح 5 سال میں 125 فیصد اضافہ کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اس اضافے کے الاؤنسز ملا کر 185 فیصد بنتا ہے۔

