4 سال میں ریلوے کے 349 حادثات، کراچی سے روہڑی تک نیا ٹریک بچھائیں گے: حنیف عباسی

اسلام آباد (خبر ایجنسیاں) وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ 2022ء سے ستمبر 2026ء تک مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے 349 حادثات و واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں سے 331 کی تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں، جبکہ 229 مقدمات نمٹائے جاچکے ہیں اور 120 زیرِ التوا ہیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران حنیف عباسی نے بتایا کہ پاکستان میں ریلوے کے موجودہ ٹریک کا بڑا حصہ پرانا ہوچکا ہے اور بعض پٹریاں 1860ء کے دور کی ہیں۔ حادثات کی روک تھام اور ریلوے نظام کو جدید بنانے کے لیے کراچی سے روہڑی تک 480 کلومیٹر طویل نیا ٹریک بچھانے کا منصوبہ ہے، جس پر ڈھائی ارب ڈالر لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔

وزیر ریلوے کے مطابق یہ ٹریک مرکزی ریلوے لائن اوّل منصوبے کا حصہ ہوگا، جس کی مجموعی لمبائی 1800 کلومیٹر ہے۔ نئے ٹریک کی تعمیر سے ریلوے نظام کی حفاظت بہتر بنانے اور حادثات میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔

حنیف عباسی نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے تعاون سے ریلوے اسٹیشنوں کی بحالی کا کام کیا جائے گا، جبکہ بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے مختلف اسٹیشنوں کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ملک بھر میں ریلوے کی 2 لاکھ ایکڑ زمین واگزار کرائی جاچکی ہے اور باقی زمین بھی قبضہ مافیا سے چھڑانے کے لیے کارروائی جاری رہے گی۔

قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 2022ء میں 42، 2023ء میں 58، 2024ء میں 95 اور 2025ء میں 93 حادثات و واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ 2026ء میں 24 ستمبر تک 61 واقعات سامنے آئے۔ ان میں سے 18 حادثات کی تحقیقات تاحال مکمل نہیں ہوسکی تھیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ریلوے پٹریوں کی خرابی 120 واقعات کی وجہ بنی، جبکہ عملے کی غلطیوں سے 95 اور ریلوے انجنوں یا بوگیوں کی خرابی سے 64 واقعات پیش آئے۔ سگنلنگ کے مسائل، تخریب کاری اور دیگر وجوہات بھی بعض حادثات کا سبب بنیں۔

حکام کے مطابق حادثات کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے ساتھ ریلوے نظام کی بہتری کے اقدامات بھی جاری ہیں۔