آبنائے ہرمز میں 20 لاکھ بیرل سے زائد تیل بردار سپر ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا

تہران (تسنیم، انادولو ایجنسی، خبر ایجنسیاں)ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے غیر مجاز راستے پر گزرنے والا خام تیل سے بھرا ایک سپر ٹینکر سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز کے انجن روم میں زوردار دھماکا ہوا اور آگ بھڑک اٹھی۔ ایرانی حکام کے مطابق جہاز 20 لاکھ بیرل سے زائد خام تیل لے جا رہا تھا۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم اور ترکیہ کی انادولو ایجنسی کی رپورٹوں کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا کہ ٹینکر نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایرانی حکام کی جانب سے غیر مجاز قرار دیے گئے راستے کا انتخاب کیا تھا۔ بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ جہاز نے اپنی پوزیشن کی نشاندہی کرنے والے نظام اور ریڈار بند کر دیے تھے اور امریکی فوجی معاونت کے ذریعے آبنائے سے گزرنے کی کوشش کی۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد جہاز کے انجن روم میں شدید دھماکا ہوا، جس سے آگ بھڑک اٹھی اور ٹینکر کی حرکت رک گئی۔ ایرانی بحریہ نے تاہم جہاز کا نام، اس کے مالک، پرچم بردار ملک یا عملے کے ارکان کی تعداد ظاہر نہیں کی۔ واقعے میں کسی جانی نقصان، عملے کی صورتِ حال اور سمندر میں تیل رسنے کے امکان کے بارے میں بھی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

“آبنائے ہرمز بند ہونے کا ایرانی اعلان”
پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے اپنے بیان میں ایک مرتبہ پھر اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز بند ہے اور ایرانی ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقررہ راستوں سے ہٹ کر گزرنے والے جہازوں کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ امریکی فوجی حمایت پر انحصار کرکے آبنائے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے جہاز محفوظ نہیں رہیں گے۔

ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے اپنے مقرر کردہ راستوں اور اجازت کے نظام پر عمل درآمد پر زور دیا ہے، جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی جہاز رانی کی آزادی اور بین الاقوامی سمندری راستوں پر آمدورفت کے حق کی حمایت کرتے ہیں۔

یہ واقعہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو پیش آنے والے حالیہ واقعات کے بعد سامنے آیا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب اس سے قبل بھی دعویٰ کر چکی ہے کہ اسٹریٹجک آبی گزرگاہ سے غیر مجاز راستے اختیار کرنے والے تیل بردار جہاز سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرائے۔ اکتوبر کے دوران اس نوعیت کے واقعات نے خطے میں بحری آمدورفت اور توانائی کی عالمی ترسیل کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والا اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے عالمی منڈیوں تک بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات پہنچائی جاتی ہیں۔ اس راستے میں کسی بھی بڑی رکاوٹ یا تجارتی جہازوں پر حملے سے عالمی تیل کی فراہمی، ترسیلی اخراجات اور توانائی کی قیمتیں متاثر ہوسکتی ہیں۔

تاہم تازہ واقعے میں ٹینکر کی شناخت، نقصان کی اصل نوعیت اور بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے ایرانی دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس لیے واقعے سے متعلق تفصیلات فی الحال ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے بیان سے منسوب ہیں۔