آزادی صحافت اور حکمت عملی کی غلطی!

میں نے صحافت کا آغاز جب کیا توجنرل ایوب کا دور تھا اور انہوں نے صحافتی آزادی سے تنگ آکر نیشنل پریس ٹرسٹ بنا کر پروگریسو پیپرز، مشرق اور الہلال اس میں شامل کر دیئے تھے۔ روزنامہ امروز میں سینئر اور اہل لوگ موجود تھے تاہم این پی ٹی کے اپنے احوال تھے جبکہ 1963ء میں ایوب خان کی طرف سے پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈی ننس کے ذریعے اور پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں، یوں کہیے کہ جب میں نے صحافت میں آنکھ کھولی یا قدم رکھا تو پابندیاں موجود تھیں اسی دور میں متحدہ پی ایف یو جے (تب دونوں بازو موجود تھے) کی طرف سے آزادی صحافت، پریس اینڈ پبلیکشنز آرڈیننس اور نیشنل پریس ٹرسٹ کے خلاف جدوجہد شروع تھی، اس حوالے سے مالکان بھی ہم آواز تھے کہ وہ بھی اس آرڈیننس اور پریس ٹرسٹ کے مخالف تھے، ان کے حوالے سے یہ تصور پایا جاتا تھا کہ ایوب خان نے آزاد اخبارات کو دبانے کے لئے ٹرسٹ بنایا ہے۔

قارئین! بتانا یہ مقصود ہے کہ وہ بڑا کڑا وقت تھا لیکن آزاد اخبارات اور ہنرمند سینئر حضرات کی وجہ سے ہم کافی بہتر حالات میں کام کرلیتے تھے۔ امروز میں آغاز کی وجہ سے میں ابتداء ہی سے ٹریڈ یونین سرگرمیوں میں شامل ہو گیا اور اس جدوجہد میں آخری دم تک شامل رہا تاوقتیکہ پی ایف یو جے بٹ گئی اور مفاد پرستی غالب آ گئی۔ بہرحال ہماری جدوجہد جاری رہی اور ہم حالات حاضرہ سے کہیں بہتر ماحول میں فرائض نبھاتے رہے۔

یہاں میں ایک گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ دل کا غبار ہلکا ہو جائے، ہماری پی ایف یو جے کی قیادت منہاج برنا،نثار عثمانی اور آئی ایچ راشد جیسے پرخلوص رہنماؤں کی وجہ سے قدر کے قابل تھی اور جدوجہد ہی کے حوالے سے پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس ختم ہوا اور ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں نیا قانون آل پاکستان نیوز پیپرز ایمپلائز ایکٹ 1973نافذ ہوا جس کے تحت ویج بورڈ بنا اور اس میں اخبارات کے تمام شعبوں کے کارکنوں کو شامل کیا گیا تھا اس دور میں ہم نے (پی ایف یو جے) حکمت عملی کی غلطی کی۔نیشنل پریس ٹرسٹ ٹوٹ جانے کی صورت میں کوئی ٹھوس تجویز پیش نہ کی گئی۔ تصور یا خیال یہی تھا کہ ٹرسٹ ختم ہوا تو اس کے قیام کے وقت کی صورت حال واپس ہو جائے گی اور اخبارات اصل مالکان کو مل جائیں گے۔ مطلب یہ کہ پروگریسو پیپرز (امروز+پاکستان ٹائمز+لیل و نہار+سپورٹس ٹائمز) واپس میاں افتخار الدین کے ورثاء کو مل جائیں گے جبکہ بعد میں جب حقیقت سامنے آئی تو ایسا نہ ہوا، نیشنل پریس ٹرسٹ تو نہ ٹوٹا لیکن اخبارات بند کر دیئے گئے اور ملازمین بے روزگار ہو گئے حالانکہ اگر ہماری قیادت غور کرکے یہ مطالبہ کرتی کہ الہلال، پروگریسو پیپرز اور مشرق الگ الگ ورکرز ٹرسٹ بنا دیئے جائیں،(جیسا کہ ٹربیون والوں نے لاہور سے بھارت واپس جا کر کیا اور ٹربیون آج بھی تین زبانوں میں شائع ہو رہا ہے) اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آنے والے دور کی حکومت نے ان کو بوجھ جان کر بند کر دیا اور نیلام کر دیا۔ روزنامہ پاکستان ٹائمز کی لائبریری،مشینری اور ڈیکلریشن جنگ گروپ نے خرید لیا، مشینری کا علم نہیں، محنت سے تیار کی گئی لائبریری بھی نہ جانے کیا ہوئی البتہ روزنامہ پاکستان ٹائمز کا ڈیکلریشن بحال اور ڈمی کی طرف پر شائع کیا جاتا ہے۔ امروز مرحوم ہو چکا، مشرق کے ٹکڑے ہو گئے اور الہلال ٹھپ ہو کر رہ گیا، البتہ ان اداروں کی جائیدادیں محفوظ ہیں اور نیشنل پریس ٹرسٹ قائم ہے جس کے چیئرمین کا تقرر حکومت کرتی ہے۔ این پی ٹی کے جنرل منیجر سمیت تھوڑے ملازم جائیدادوں کے تحفظ کے نام پر نوکری کررہے ہیں اور اس وقت ٹرسٹ کئی اداروں سے زیادہ امیر تر ادارہ ہے اس پر بوجھ بھی کوئی نہیں، مشرق اور پاکستان ٹائمز کے ملازمین گولڈن ہینڈ شیک کے تحت فارغ ہوئے لیکن امروز کو کسی ایسے معاہدے کے بغیر بند کیا گیا، ملازمین نے جدوجہد کی اور عدلیہ سے ریلیف ملی جس کے بعد ملازمین کی پنشن شروع ہوئی، جو پہلی بار سے اتنی ہی چلی آ رہی ہے اور اب تو زندہ رہ جانے والوں کی تعداد بھی شاید درجن، ڈیڑھ درجن ہے۔ سپریم کورٹ میں فریاد زیر التوا ہے۔ کارکنوں کے وکیل تحریک انصاف کے بڑے رہنما ہیں جو پیروی نہیں کرتے کہ ایک بار درخواست سماعت کے لئے مقرر ہوئی تو وہ پیش نہ ہوئے کہ سیاسی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ اب زندہ رہ جانے والے این پی ٹی کے حالیہ افسروں کے رحم و کرم پر ہیں کہ وہ پنشن میں تاخیر کرتے ہیں اور بجٹ میں حکومت کی طرف سے دیئے اضافہ کو بھی شامل نہیں کرتے۔ بوڑھے ڈیڑھ دو درجن باری باری اللہ کو پیارے ہو گئے تو ٹرسٹ کی جان چھوٹ جائے گی پھر ٹرسٹ اور اس کی مالیت کا کیا ہوگا یہ اللہ جانے۔

آج حالات حاضرہ سے ہٹ کر لکھنے کا مقصد صرف یہ بتانا تھا کہ بروقت درست فیصلہ نہ ہو تو نتائج کیا ہوتے ہیں، اگر بروقت حکمت عملی اختیار کی جاتی تو 1973ء میں جہاں پریس اینڈ پبلیکشنز آرڈی ننس ختم ہوا اور ورکر ایکٹ آیا وہاں خود مختار ورکرز ٹرسٹ بھی بن سکتے تھے، اس کے بعد ایک موقع 1988ء میں آیا جب محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں، میں نے اپنے سینئر ظہیر بابر، حمید جہلمی اور مسعود اشعر کو تجویز دی کہ محترمہ سے مل کر پی پی ایل کو ورکرز ٹرسٹ بنو الیا جائے۔ میں نے اپنی خدمات بھی پیش کیں اور بتایا کہ حالات ایسے ہیں کہ اخبار بند ہوجائیں گے، اس وقت پی پی ایل ورکرز یونین کے صدر اور سیکرٹری نے میرے خلاف محاذ بنا کر کردارکشی کی اور نتیجہ یہ نکلا کہ 1991ء میں پہلے امروز اور اس کے بعد پاکستان ٹائمز اور مشرق بھی بند ہوگئے۔ یہ موثر اخبار تھے، ان کی کمی آج بھی محسوس کی جاتی ہے اور بے روزگار کارکن تاحال سیٹ نہیں ہوئے اگرچہ بعض مفاد پرست امیر ہوگئے۔ قارئین! یہ دکھ آزادی صحافت کا ہے جو ہر دور میں مشکل رہی اور زیادہ مشکلات کارکنوں نے برداشت کیں۔ آج حالات اس وقت کی نسبت بھی بہتر نہیں ہیں۔