ریاض (عرب نیوز، رائٹرز، الجزیرہ)سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحادی فوج نے حوثی ملیشیا کی جانب سے داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اتحادی فوج کے ترجمان کے مطابق میزائل کا ہدف سعودی شہر خمیس مشیط تھا، جبکہ ریاض کی جانب آنے والے میزائلوں کو روکنے کی کارروائیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
سعودی عرب کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتوار کو ہونے والے حملے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق اور 11 افراد زخمی ہوگئے تھے۔ اس سے ایک روز قبل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں بھی جانی نقصان ہوا تھا اور سیکڑوں افراد زخمی ہوئے تھے۔
سعودی حکام نے حفاظتی معائنے اور ایئرپورٹ کی آپریشنل تیاری یقینی بنانے کیلئے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی بندش 17 اکتوبر تک بڑھا دی ہے۔ دمام کے شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں، جس کے بعد پروازوں کا نظام متاثر ہوا۔
حملوں کے باعث بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے ریاض کیلئے متعدد پروازیں منسوخ کردی ہیں، جبکہ برطانوی حکام نے سعودی عرب کے بعض علاقوں کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دوسری جانب یمنی حکومتی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن فجر الیمن کے دوران حوثی ملیشیا کے ایک ہزار 732 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 900 سے زائد حوثی ارکان ہلاک ہوئے۔ حکومتی فورسز کے مطابق کارروائیوں میں حوثیوں کی تقریباً 300 فوجی گاڑیوں اور آلات کو تباہ یا ناکارہ بنایا گیا۔
یمنی فوج کے بیان میں مزید کہا گیا کہ فضائیہ نے مارب کے جنوب مغربی محاذوں پر حوثی ملیشیا کی بیرکوں اور گوداموں کو بھی نشانہ بنایا۔ یہ ہلاکتوں اور فوجی نقصانات سے متعلق یمنی حکومتی فورسز کے دعوے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق دستیاب اطلاعات سے نہیں ہوسکی۔

