الجزیرہ کے صحافیوں کی جاسوسی، 45 آلات میں اسرائیلی سافٹ ویئر کی تصدیق

ٹورنٹو (سٹیزن لیب، الجزیرہ، رائٹرز)قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ سے وابستہ صحافیوں اور عملے کے زیرِ استعمال کم از کم 45 آلات کو اسرائیلی کمپنیوں سے منسلک جاسوسی سافٹ ویئر کے ذریعے نشانہ بنائے جانے کی تصدیق ہوگئی ہے۔ کینیڈا کی یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے تحقیقی ادارے سٹیزن لیب کی تحقیقات کے مطابق جاسوسی سافٹ ویئر آن لائن اشتہارات کے ذریعے متاثرہ آلات تک پہنچایا گیا، جس کیلئے صارفین کو کسی مشکوک رابطے پر کلک کرنے یا کوئی فائل ڈاؤن لوڈ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

تحقیقات میں اسرائیلی ڈیجیٹل اشتہارات کی کمپنی ڈسکور ٹیک اور اسرائیلی جاسوسی سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی کینڈیرو کا نام سامنے آیا ہے۔ محققین کے مطابق اشتہارات کے نظام کو مخصوص صارفین اور ان کے آلات کی شناخت اور نگرانی کے لیے استعمال کیا گیا، جس کے بعد منتخب آلات کو جاسوسی سافٹ ویئر سے متاثر کیا گیا۔

سٹیزن لیب نے 15 اکتوبر 2026ء کو جاری ہونے والی اپنی تحقیق میں بتایا کہ الجزیرہ کے فراہم کردہ نیٹ ورک ریکارڈز کے تجزیے سے 2024ء اور 2025ء کے دوران ہونے والی کارروائیوں کے شواہد ملے۔ محققین نے کم از کم 45 آلات کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی، جن میں صحافیوں اور ادارے کے دیگر ملازمین کے زیرِ استعمال آلات شامل تھے۔

“بغیر کلک کیے بھی جاسوسی سافٹ ویئر کی تنصیب ممکن”
تحقیق کے مطابق اس طریقۂ کار کو ’’زیرو کلک‘‘ کہا جاتا ہے، جس میں صارف کو کسی لنک پر کلک کرنے یا فائل کھولنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جب کسی ویب سائٹ یا موبائل ایپ میں اشتہار ظاہر ہوتا ہے تو اس کے ساتھ منسلک نقصان دہ کوڈ مخصوص حالات میں آلے کو جاسوسی کے لیے نشانہ بنا سکتا ہے۔

محققین کے مطابق ڈسکور ٹیک کے اشتہاراتی نظام کے ذریعے مخصوص آلات کی شناخت، ان کی آن لائن سرگرمیوں سے متعلق معلومات جمع کرنے اور انہیں کینڈیرو کے جاسوسی نظام کی طرف منتقل کرنے کا طریقہ استعمال کیا گیا۔ اس نوعیت کے حملے میں صارف کو عموماً معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے آلے کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

کینڈیرو کے جاسوسی سافٹ ویئر کے ذریعے متاثرہ آلات سے حساس معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ تاہم ہر متاثرہ آلے سے حاصل کی گئی معلومات کی مکمل تفصیل عوامی رپورٹ میں دستیاب نہیں۔

“الجزیرہ کا آزادیٔ صحافت پر حملے کا مؤقف”
الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک نے اپنے ملازمین کے آلات کو جاسوسی کے لیے نشانہ بنائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت اور عوام کے جاننے کے حق پر حملہ قرار دیا ہے۔ ادارے نے کہا کہ وہ اپنے ملازمین اور نظام کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا اور ذمہ داروں کو جواب دہ ہونا چاہیے۔

تحقیق کے مطابق بعض متاثرہ صحافی حساس موضوعات پر رپورٹنگ کر رہے تھے۔ الجزیرہ کی داخلی تکنیکی ٹیم نے 2024ء میں بعض آلات پر غیر معمولی سرگرمیوں کا پتا چلایا تھا، جس کے بعد مزید تحقیقات کے لیے سٹیزن لیب سے رابطہ کیا گیا۔

“گوگل نے اشتہاراتی کمپنی کے خلاف کارروائی کردی”
تحقیقات سامنے آنے کے بعد عالمی اشتہاراتی نظام میں نگرانی اور سائبر حملوں کے خطرات پر بھی تشویش پیدا ہوئی ہے۔ گوگل نے تصدیق کی کہ اس نے تحقیقات میں تعاون کیا اور اپنی پالیسیوں کی خلاف ورزیوں کے باعث ڈسکور ٹیک کو اپنے اشتہاراتی نظام سے خارج کردیا۔ یورپی اشتہاراتی صنعت کی تنظیم نے بھی کمپنی کو اپنی منظور شدہ اداروں کی فہرست سے معطل کردیا۔

سٹیزن لیب کے مطابق اس معاملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بظاہر معمول کے آن لائن اشتہارات کو مخصوص افراد کی نگرانی اور ان کے آلات میں جاسوسی سافٹ ویئر پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ محققین نے اشتہاراتی صنعت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس نظام کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کریں۔

یہ تحقیق صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور حساس اداروں سے وابستہ افراد کے لیے ایک اہم انتباہ ہے، کیونکہ روایتی حفاظتی تدابیر کے باوجود بعض جدید سائبر حملوں میں صارف کی کسی واضح غلطی کے بغیر بھی آلے کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔